سپریم کورٹ سے عذیر بلوچ جے آئی ٹی پر ازخودنوٹس لینے کی اپیل

  • منگل 07 / جولائی / 2020
  • 1200

وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے سپریم کورٹ سے  اپیل کی ہے کہ عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی پر ازخود نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے سندھ حکومت پر رپورٹ میں جعل سازی کا الزام لگایا ہے۔

وزیر اطلاعات شبلی فراز  اور  وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم  عوام کو ان لوگوں سے نجات دلائیں گے جو ملک کو آگے لے جانے کے بجائے مفادات کی سایست کرتے ہیں۔ اداروں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ذاتی گینگز کو فروغ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا مشترکہ تحقیقاتی کمیٹیوں کا کا مقصد صرف رسمی کارروائی نہیں بلکہ عوام کے سامنے حقائق لانا ہوتا ہے۔ شبلی فراز نے کہا  سندھ میں برسر اقتدار جماعتوں نے سندھی عوام کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔  اپنے ذاتی جائیدادوں کو بڑا کیا اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے قانون کی بالادستی کے بجائے  ذاتی ریاست بنالی۔

علی زیدی نے کیا کہ یہ موٹر سائیکل اور گاڑی چوری کی بات نہیں ہے بلکہ 158افراد کے قتل کا عذیر بلوچ خود اعتراف کر چکا ہے۔ انہوں نے عذیر بلوچ کا بیان حلفی سناتے ہوئے کہا کہ صفحہ نمبر 7 میں عذیر بلوچ نے کہا تھا کہ سینیٹر یوسف بلوچ کے کہنے پر وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور فریال تالپور سے ملا اور اپنے خلاف ہیڈمنی ختم کروانے کا کہا جسے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے حکم پر ہٹادیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آخری صفحے پر عذیر بلوچ نے کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ ان انکشافات کے بعد مجھے اور میرے گھر والوں کو جان سے ماردیا جائے گا جس کے لیے میں درخواست کرتا ہوں کہ مکمل حفاظت کی جائے کیونکہ مجھے آصف زرداری اور دیگر سیاسی لوگوں کی جانب سے انتقامی کارروائی کا خطرہ ہے۔

وزیر بحری امور نے کہا کہ گزشتہ روز حکومت سندھ نے اپنی ویب سائٹ پر بڑی مشکل سے بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹ جاری کردی، اس میں جو انکشافات اور جن جن کے نام ہیں وہ آپ کو معلوم ہے۔ آخری صفحے پر سندھ پولیس، ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے، ایم آئی، ایس ایس پی ایسٹ، ڈی جی رینجرز سب کے دستخط ہیں جس میں لکھا ہے کہ بلدیہ فیکٹری کا خونی اقدام پولیس کی نااہلی کی واضح مثال ہے۔

جے آئی ٹی نے مذکورہ تفتیش پر تنقید کی اور نتیجہ اخذ کیا کہ خوف اور احسان کے غالب رہنے والے عناصر نے پولیس کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے اور یہ جے آئی ٹی غلط بنی تھی اور دوبارہ ایف آئی آر کاٹ کر تفتیش کی جائے۔

وزیر بحری امور نے کہا کہ میں وفاقی وزیر کی حیثیت سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کرتا ہوں کہ 184(3) کے تحت اس معاملے پر سوموٹو نوٹس لیں اور آپ مجھ سے بھی جے آئی ٹی رپورٹ  لیں اور ان سے بھی مانگیں۔ جن لوگوں نے جے آئی ٹی پر دستخط کیے ہیں، انہیں چیف جسٹس عدالت طلب کرکے پوچھیں کہ کیا یہ ان کے دستخط ہیں۔

loading...