پاکستانی فرد اور معاشرہ

کسی مسلمان معاشرت میں رہنے کے اصول کیا ہیں؟ کیا مسلمان معاشرت میں غیر مسلم اور لبرل اقلیتوں کو بھی برابر کے شہری حقوق حاصل ہیں یا نہیں ؟

یہ ہیں وہ سوالات جنہوں نے مجھے ہمیشہ فکری اور ذہنی الجھاؤ میں رکھا ہے ۔ من حیث المعاشرت ہمارا المیہ یہ رہا ہے کہ ہم کاغذوں ، کتابوں ، روایتوں اور تاریخی قصّوں کہانیوں میں رہتے ہیں اور وہاں سے پیش رفت کر کے روز مرہ زندگی کے کوچہ و بازار میں ، جو ہیں اور جیسے ہیں ، ویسے نہیں اُترتے بلکہ ہم نظریاتی اداکاری کرتے رہتے ہیں ۔ ہم جن کی قومی عمر ابھی پون صدی بھی نہیں ، نہ جانے کتنی صدیوں کے عذاب سے گزر رہے ہیں ۔ ہماری وہ نسل جسے تقسیمِ ہند اور پاکستان کے وجود میں آنے کے وقت اولین  پاکستانی کہلوانے کا اعزاز ملا ، اب قبرستانوں کی خاک ہے اور اب  ہماری دوسری اور تیسری نسل کو جو چیلنج درپیش ہیں ، اُن میں سے سب سے بڑا چیلنج  یہ ہے  کہ ہم نے اب تک ایک متحد ہ جمعییت ، ایک نظم و ضبط اور ڈسپلن سے  لیس نظریاتی گروہ  کی طرح یقین اور باہمی اعتماد سے مل جُل کر رہنا نہیں سیکھا ۔

ہم جو لا الہ الاللہ کو اپنے وطن کی نظریاتی اساس قرار دیتے ہیں اس کلمے کے معنوی تاروپود کو سمجھ کر اختیار نہیں کر سکے اور ہمیں یہ یاد نہیں رہتا کہ ہمیں قرآن نے زندگی کرنے کا جو رہنما اصول دیا ہے وہ اخوت ہے ۔ ( انما المومنون اخوۃ) یعنی ہمارا معاشرتی رشتہ بھائی بھائی کا ہے ۔ ہم سب پاکستانی خُدا کا کُنبہ ہیں ۔ مگر بھائی کا بھائی سے جو رشتہ ہوتا ہے ہم اُس کا اطلاق بائیس کروڑ لوگوں پر یکساں طور پر نہیں کرتے۔ ہماری یہاں اخوت کی دینی بنیاد عملاً موجود ہی نہیں ۔ ہمارے معاشرتی رشتے طبقاتی ہیں ۔ دولت مند اپنے برابر کے دولت مند کا بھائی ہے ۔جاگیردار اپنے جیسے جاگیردار کا بھائی ہے اور پیٹی بند بھائی ایک دوسرے کے بھائی ہے ۔ بعینہ عدلیہ اور انتظامیہ کے دوطرفہ رشتوں کی بنیاد بھی منصب اور طبقاتی رشتوں پر ہے جس میں اسلام کہیں بھی نہیں آتا ۔ اسلام ایک تاریخی حادثہ ہے جو ترک ، مغل ، پٹھان اور عرب حملہ آوروں کے ساتھ آیا اور  جوہم کو بجبر و اکراہ قبول کرنا پڑا یا پھر ہم اُن حملہ آوروں کے ساتھ آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے ۔

 اس طرح بہت سے نسلی ، ثقافتی اور لسانی کلچر ایک ساتھ جمع ہو کر ایک عجیب معجون مرکب بن گئے  اور یہ درآمدی لیبل اپنی کم علمی کی بنا پر مقامی جان کر طرح ہم نے اپنا لیے ۔ ہم نے ہر لیبل کو بصد نخوت و افتخار قبول کیا اور اُسے اپنی انا اور  نخوت کی پرورش کے لیے برتتے رہے  جبکہ یہ تمام گروہ خواہ مقامی تھے یا بدیشی  اپنے اپنے مفادات کے محافظ  تھے ۔ ہندوتوا کے چھوت چھات سے ہم اتنے متاثر ہوئے کہ ہم اللہ کا دیا سبق بھول گئے کہ اُس کی نظروں میں تمام انسان برابر ہیں ، اور اس کے برعکس ہم نے  منو سمرتی کی تقلید میں چودھری اور کمّی کی تقسیم ایجاد کی اور ہند مسلم تہذیب کے نام پر چھوت چھات کو مشرف بہ اسلام کرلیا ۔

حقیقت وہی ہے کہ  یہ نسلی گروہ اپنے مفادات کے غلام تھے  اور مفادات کے بندے رب کے بندے نہیں ہوسکتے کیونکہ نجی مفاد اجتماعی بہبود کاقاتل ہے اور رب العالمین کے جملہ مخلوقات کے خالق  ہونے  کی نفی کے تصور پر مبنی ہے جس سے شرک کی بُو آتی ہے۔ ۔یہی وجہ ہے کہ اجتماعی بہبود کا لاشہ ہمارے معاشرتی آنگن میں کئی دہائیوں سے پڑا سڑ رہا ہے لیکن کسی ادارے یا کسی تھنک ٹینک کو اس کی فکر نہیں ۔ اگر پاکستانی معاشرت کی دستاویز ات کے ورق پلٹ کر دیکھیں تو عجیب منظر کھلتا ہے اور وہ یہ کہ ہم پاکستانی پچھلے بہتر سال سے زیرِ تربیت قوم ہیں ۔ گویا ہم سب عثمان بزدار ہیں جو بہتر سال میں اپنے جمہوری پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں بن سکے ۔

اس زیرِ تربیت قوم نے اپنے اسلامی جمہوری نطام کی تلاش میں جس کا ذکر نظریہ  پاکستان کی فکری دستاویزات سے لے کر آئین کے اوراق تک میں موجود ہے ، چار بار مارشل لاؤں کے گھنگرو باندھ کر قائد اعظم کے مزار پر دھمال ڈالی ، عدلیہ کے دروازوں پر دستکیں دے کر بھی دیکھ لیا ، جہاں ایسے خیرخواہ بیٹھے ملے جنہوں نے طاقت کے نشے میں چور افراد اور اداروں کو جمہوریت کی آبرو ریزی کی اجازت دی۔ زیادہ واضح الفاظ میں جب بھی موقع ملا یہ کُتیا اپنے مفادات کے لیے چوروں کے ساتھ مل گئی ۔  ووٹ کی عزت کے نام پر ہماری جمہوریت  سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے گھر کی لونڈی بنا دی گئی اور نوزائیدہ  پاکستانی قوم کی  بے چاری تیسری نسل  اب ، آج بھی سیاست کی نرسری کلاسوں میں بیٹھی جمہوریت کی الف بے سیکھ رہی ہے ۔ 

یہ سب کچھ ہماری قومی اخلاقیات کا کچا چٹھہ ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے اجتماعی قومی تعلقات جو اداروں کے درمیان زیر بحث آتے ہیں ، جن کا پرچار میڈیا شو میں کیا جاتا ہے ، اصل میں کچھ اور ہوتے ہیں جب کہ قومی  اداروں میں کلیدی عہدوں پر متمکن افراد کے نجی باہمی تعلقات اور طرح کے ہوتے ہیں  اور یہ نجی تعلقات قوم کے وسیع تر مفاد کو نظر انداز کر کے ملکی بقا کو ان اداروں کی بقا سے مشروط کردیتے ہیں کہ یہ ادارے ہیں تو ملک ہے ۔ گویا پاکستان انہی اداروں کا نام ہے  اور ملک کے کروڑوں عوام جو خطِ غربت سے نیچے سسک رہے ہوتے ہیں ، جیتے جی نابود ہو جاتے ہیں اور ان کروڑوں لوگوں کی اجتماعی قبر پر حلوہ پکا کر روز ختم دلا یا جاتا ہے اور اسے اسلامی جمہوریت سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔

 ہم بطور قوم ایک علاقائی معاشرت ہیں اور بنگلہ دیش ، بھارت اور کشمیر میں قید مسلمان جمعیتوں کی طرح  اداروں کے جبر و اختیار کا شکار ہیں ۔ چنانچہ مذہبی جذباتیت اور حکومت کی رِٹ ہمیں وہ احساسِ تفاخر نہیں دیتی اور نہ ہی دے سکے گی  جو دنیا کی دوسری جدید قوموں کا سرمایہ  افتخار ہے ۔ ہم  نظریہ  پاکستان کے تاریخی خول میں بند ہیں اور ہمیں اس خول سے نکل کر  زمینی حقائق کی روشنی میں اپنا وجود از سرِ نو تلاش کرنا ہوگا ، ہر گھر سے ایک قائد اعطم کو نکلنا ہوگا ورنہ ہم اپنے ملک کی جبری حکمران طاقتوں کے ہاتھوں نابود ہو جائیں گے اور ہماری نظریاتی قبر پر رونے والا بھی کوئی نہ ہوگا :

اُٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی

دوڑو! زمانہ چال قیامت کی چل گیا

loading...