اعتراف، سچ، اور حق گوئی

اعترافِ جرم ہو یا اعترافِ گناہ ہو، ان دونوں باتوں میں یہ بات عام ہے کہ ’سچائی‘ سخت تکلیف دہ اور دشوار ہوتی ہے۔  اس کی اہمیت کو سمجھنا یا اس پر عمل کرنا  بھی  دشوار ہوتا ہے۔

 جب کو ئی انسان  جرم کرتا ہے تو پولیس  جرم کو جاننے اور اس گرفتار شخص کو سزا دلانے کے لیے پوری محنت اور ذہانت سے معاملے کی تہہ تک جانا چاہتی ہے۔  عدالت گواہہوں اور ثبوت کے بغیر  کوئی فیصلہ سنانے سے  قاصر ہوتی ہے جس کی وجہ سے پولیس ہر ممکن  کوشش کرتی ہے کہ وہ مجرم کو سزا دلانے کے لیے تمام شواہد جمع کرے۔

اعتراف ِ گناہ ایک ایسا سخت اور مشکل عمل یا احساس ہے جو انسان کی زندگی کے ساتھ ساتھ سفر کرتا رہتا ہے اورکبھی نہ کبھی انسان کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ  گناہ کا اعتراف کر لے۔تاہم ایسا بھی ہوتا ہے کہ بہت سارے لوگ اعتراف گناہ کبھی نہیں کرتے جس کی ایک وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ الزام غلط ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ لوگ کسی پر الزام لگاکر اور بنا ثبوت  کے اسے سماج میں ذلیل یا رسوا کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے الزام لگنے والے شخص کی زندگی عذاب بن جاتی ہے اور اس کا جینا دو بھر ہوجاتا ہے۔جس میں یا تو وہ اپنی جان دے دیتا ہے یا نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے زندگی سے تنگ آکر دنیا والوں کی نظر میں پاگل کہلانے لگتا ہے۔

 اعتراف کرنا کیوں اتنا دشوار اور سخت ہوتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مثلاً سماج، خاندان، وقار، عظمت، عہدہ وغیرہ ایسی باتیں ہیں جس کے دباؤ میں انسان کسی طرح جھوٹ کا سہارا لے کر اپنی غلطیوں کے اعتراف سے گریز کرتا ہے۔ سیاستدانوں میں یہ صفت عام پائی جاتی ہے اور آئے دن ہم ایسی خبریں سنتے ہیں کہ ہم کچھ پل کے لیے دم بخود ہوجاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر آئے دن جھوٹی خبروں اور الزامات سے جہاں عام آدمی پریشان ہے وہیں کچھ لوگ سوشل میڈیا کے سہارے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں لطف اندوز ہوتے  ہیں۔ مثلاً کسی فرضی نام یا ٹھکانے سے کسی کو پریشان کرنا اور اس کی زندگی کو عذاب بنا دینا ایک عام بات ہو چکی ہے۔

حال ہی میں لندن کے ایک دوست کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑاجب اس کے کسی جاننے والے دوست نے سوشل میڈیا پر ایک لڑکی کے پروفائل کے ذریعہ اس سے پیار و محبت کی بات شروع کر کے اسے  بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ کہتے ہیں کہ قاتل اپنا کوئی نہ کوئی نشان چھوڑ جاتا ہے۔اس احمق انسان نے جس موبائل فون کا استعمال کیا تھا بعد میں انٹر نیٹ کی مدد سے پتہ لگایا گیا کہ دراصل وہ فون اس کے دوست کے  نمبر پر تھا۔لیکن حیرانی کی بات یہ ہوئی کہ ثبوت ملنے کے باوجود اُس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ نمبر اُ س کا ہے اور الٹا پریشان ہونے والے دوست پر الزام دھر دیا کہ اُس کا موبائل  نمبر کسی نے ہیک کر لیا ہے۔

 انگلینڈ میں ایک ایسا ہی واقعہ سامنے آیا جب 18سالہ نوجوان کے باپ نے کے پولیس کو اطلاع دی اس کے بیٹے نے ریپ کیا ہے۔ دراصل کچھ مہینے قبل بیٹے نے دو لڑکیوں کا ریپ کیا تھا اور ان لڑکیوں نے مارے خوف کے پولیس کو شکایت نہیں کی۔ لیکن ایک دن باپ کو بیٹے کے موبائل پر جب اس کا یہ پیغام پڑھا کہ ’میں نے تمہاری عزت لوٹی جس کے لیے میں شرمندہ ہوں‘ تو اس باپ نے فوراً پولیس کو اپنے بیٹے کی کالی کرتوت اور موبائل فون کے ثبوت کے ساتھ پولیس کو ا طلاع دی۔ اس کے بعد باپ  بیٹے کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر پولیس اسٹیشن لے گیا اور جہاں بیٹے نے اقبالِ جرم کیا اور پولیس نے بیٹے کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا۔ جس کے بعد عدالت نے بیٹے کو ریپ کے جرم میں دو سال کی قید کی سزا سنائی۔اس وقعہ کے بعد باپ نے کہا کہ یہ ایک نہایت دردناک اور افسوس ناک واقعہ ہے کہ جب ایک باپ کو پتہ چلے کہ اُس کے بیٹے نے کسی کا ریپ کیا ہو اور اس سے بھی تکلیف دہ یہ ہے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو اس کی جرم کی سزا کے لیے پولیس کو اطلاع دے۔باپ نے یہ بھی کہا کہ میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تمہارا اقرار  اور سزاسے دنیا کو  سبق ملے گا۔

اب اس واقعہ کو سن کر ایک بات کا احساس ہوتا ہے۔ کیوں بیٹے کے جرم کو باپ نے پوشیدہ نہیں رکھا؟ یا کیوں باپ نے بیٹے کے جرم کو پولیس کو بتا نا ضروری سمجھا؟ یہ دونوں سوالات ہمارے ذہن کو جہاں جھنجھوڑ رہے ہیں وہیں ہمیں اس بات کا بھی درس دے رہے ہیں کہ آدمی اگر سچائی اور حق گوئی پہ قائم رہے تو اس کی زندگی ان پریشانیوں اور الجھنوں سے پاک رہے گی جس کو وہ شاید وقتی طور پر نہیں سمجھ پارہا تھا۔ باپ نے بیٹے کے جرم کو پوشیدہ رکھتا تو  وہ بیٹا زندگی میں اسی ہمدردی اور جھوٹ کے سہارے اور کتنے جرائم انجام دیتا۔ لیکن  سچائی اور حق گوئی  کے سبب  باپ نے بیٹے کے جرم کی پولیس کو اطلاع دے کر غلط کو غلط قرار دینے کا اصول واضح کیا۔

دونوں واقعات کا جائزہ لینے سے ایک بات تو صاف طور پر عیاں ہو  ہے کہ الزام اور اعتراف دونوں میں قربت بھی ہے اور تناؤ بھی ہے۔ الزامات لگنا یا لگانا جہاں مع دلیل ضروری ہے وہی اعتراف کرنا یا کروانا بھی آسان نہیں ہے۔انگلینڈ کے اٹھارہ سالہ بیٹے کے

 جرم  نے جہاں باپ کی حق گوئی اور سچائی نے بیٹے کو مجرم بنا دیا تو وہیں ہمیں اس بات کا بھی پتہ چلا کہ جب کوئی جرم کرتا ہے تو اس میں اگر دلیل سامنے آجائے یا ثبوت مل جائے تو اس کی سزا یقینی ہے۔ لیکن دوسری مثال میں الزام اس قدر نا قص اور بیہودہ ہے کہ الزام لگنے والے شخص کو پریشانی اور الجھن میں ڈالنا ایک غیر مناسب فعل  لگتا ہے۔

میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ  غلطی کا اعتراف کر لینا ایک ایسی خوبی ہے جس سے نفس میں عاجزی پروان چڑھتی ہے۔لیکن میں  اس بات سے بھی پریشان ہوں کہ آج کل کچھ لوگ  ذبردستی دوسرے کو قصوروار ٹھہرا کر اسے  اپنی شان سمجھتے ہیں۔جو کہ ایک نہایت شرمندگی کی بات ہے۔

loading...