طیارہ حادثہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کردی

  • منگل 30 / جون / 2020
  • 630

کراچی میں 22 مئی کو پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 کو پیش آنے والے سانحے میں جاں بحق ہونے والے مسافروں کے پسماندگان نے فضائی حادثات کی تفتیشی برانچ (اے اے آئی بی) کی جانب سے جاری کردہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔

کراچی پریس کلب میں جاں بحق ہونے والوں کے پسماندگان نے پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے ابتدائی رپورٹ کو مسترد کیا اور کہا کہ یہ کاک پٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈرز کی متعدد ریکارڈنگز کے علاوہ کچھ نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیٹا کا مزید جائزہ لیا جائے اور بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے جاری کردہ ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انسیڈنٹ انویسٹی گیشن پروسیجر کے تحت مکمل رپورٹ جاری کی جائے۔

اس حادثے میں اپنی اہلیہ اور تین بچوں کو کھونے والے آصف اقبال فاروقی کا کہنا تھا کہ لوگ ان کی حالت زار اور ان جیسے دوسرے لوگوں کی حالت زار کا تصور کریں جنہیں اپنے پیاروں کی باقیات تک نہیں دی جارہیں۔ انہیں جھوٹا کہہ کر دفتر سے باہر نکال دیا جاتا ہے، ان کی فریاد اور ان جیسے دیگر افراد کی فریاد کو سنا تک نہیں جارہا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ دانتوں کا ریکارڈ نہیں بلکہ صرف ڈی این اے مکمل جھلسی ہوئی لاشوں کی شناخت کا واحد حل ہے جیسا بدقسمت پی کے 8303 حادثے کا شکار افراد کی لاشوں کے ساتھ تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ صرف ایک ایئر لائن ہی نہیں بلکہ ایک پورا نظام ہے۔ اس معاملے میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز، پائلٹ، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ورکر یونینز، جو جہاز کے فضا میں جانے سے قبل طیارے کے ہر ایک حصے کی جانچ کے ذمہ دار ہیں، ’ان سب میں بڑی تنظیم نو کی ضرورت ہے‘۔

کنول ارسلان، جس نے حادثے میں اپنے اکلوتے بھائی کو کھو دیا تھا، نے ایئر لائن کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) کا عملہ فلائٹ اترتے وقت نماز کے وقفے پر تھا تو ان کے متبادل کہاں تھے؟ یہ کسی ایک شخص کی تو ذمہ داری نہیں ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ جب پائلٹ جہاز کو دوبارہ فضا میں لے جا رہا تھا تو اس کے انجنز میں آگ لگنے کے بارے میں ایئر ٹریفک کنٹرول کو کیوں اطلاع نہیں ملی؟ ہوائی جہاز کے رن وے پر آگ بجھانے والے آلات کیوں نہیں تھے؟ جب انہیں معلوم ہوا کہ طیارے کو کچھ مسئلہ ہے تو اس پر انہوں نے کوئی ہنگامی کارروائی کیوں نہیں کی؟

ان کا کہنا تھا کہ حادثے سے قبل ان 17 منٹ کی ناکام لینڈنگ میں ان مسافروں پر کیا بیتی یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں بھی سوچیے کہ ہم جان سے ہاتھ دھونے والوں کے لواحقین پر اب کیا گزر رہی ہے۔ لواحیقین نے یہ بھی سوال کیا کہ ایئر پورٹ کے آس پاس کی عمارتیں تین سے چار منزلہ اونچی کیسے ہوئیں؟ ’سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اس کی اجازت کیوں دی؟‘

2010 کے ایئربلیو حادثے کے متاثرہ جنید حامد، جنہوں نے ایئربلیو حادثے کے متاثرین کی ایسوسی ایشن تشکیل دی تھی، نے کہا کہ گزشتہ حادثات کے بارے میں پاکستان میں ابتدائی رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد سے کبھی بھی کوئی تفصیلی رپورٹ سامنے نہیں آسکی ہے۔ اس ابتدائی رپورٹ کو بھی عوامی دباؤ یا عدالت کے احکامات کی وجہ سے جاری کیا گیا ہے۔

پریس کانفرنس میں متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو معاوضہ دیے جانے کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا جس کے بارے میں جنید حامد کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی طور پر 10 لاکھ روپے وفاقی حکومت نے دیے ہیں مگر 50 لاکھ روپے ادا کرنا ان کی ذمہ داری ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ الزام تراشی کے بعد انشورنس/معاوضے کو متاثرہ شخص کی پروفائل، جیسے اس کی عمر، تعلیم، پیشہ ورانہ تجربہ، سماجی حیثیت، لواحقین کی تعداد، مستقل میں آگے بڑھنے کے امکانات جیسے عوامل کی بنیاد پر دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال پی آئی اے کا نمائندہ وکیل اہل خانہ سے دستاویزات پر دستخط کروانے کے لیے رابطے کر رہا ہے جس پر انہیں دستخط نہیں کرنا چاہیے کیونکہ پشاور ہائیکورٹ نے واضح طور پر اہلخانہ کو ایسی دستاویزات پر دستخط کرنے سے روک دیا ہے۔

loading...