قلم فلرٹ

آسمان کا بیان ہے کہ  دنیا کی یہ  زندگی ایک کھیل تماشا ہے ۔کھیل تماشا دنیوی  زندگی کا اظہار ہے ۔ یہ کھیل تماشا خونیں بھی ہے اور قہقہہ آور بھی ہے ۔ ٹریجیدی بھی ہے اور کامیڈی بھی ۔ پولیٹیکل کامیڈی اور یہ پولیٹیکل کامیڈی ڈیوائین بھی ہے کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور ہم پچھلے بہتر برس سے یہ کلمتہ السیاست پڑھ رہے ہیں کہ :

پاکستان کا مطلب کیا: لا الہ الاللہ

 سائیں منیر نیازی کہا کرتے تھے کہ کچھ لوگ باتیں نہیں کرتے چاقو سے گُدگُدی کرتے ہیں اور چاقو سے گُدگُدی کا یہ تماشا آج کل پاکستان کے سیاسی سٹیج پر بڑی شد و مد سے جاری ہے جس میں دشنام طرازی سے الزام تراشی تک اور یاوہ گوئی سی ژاژ خائی تک ہر منفی لسانی اظہار سمندر کے پانیوں اور آندھیوں کی طرح آزاد ہے ۔ کچھ لوگ اتنا بولتے ہیں کہ بول بول کر اُن کے سر چھوٹے اور مونہہ بڑے ہو گئے ہے ۔ شاہ دولہ کے سیاسی چوہوں کی ایک نسل ہے جو پاکستان کو کتر کتر کر کھاتی چلی جا رہی ہے ۔  اس ڈرامے میں زندگی کی لایعنیت پوری تفصیل سے آشکار ہو رہی ہے ۔ یہ ایک ایسی سیاسی جگت بازی کا موسم میں جس میں کوئی سنجیدہ بات ممکن ہی نہیں مگر اس کے باوجود کچھ دانشور اس سارے منظر نامے کو سنجیدہ سمجھتے ہیں اور اُس پر اپنے فتوے جاری کرتے رہتے ہیں ۔

 میں جو نہ دانشور ہوں ، نہ پیشہ ور صحافی اور نہ ہی تجزیہ کار قسم کی کوئی چیز ، نہ جانے کیوں اس نقار خانے میں طوطی کی آواز لگاتا رہتا ہوں ۔ شاید س اس لیے کہ  بیکار سے بیگار بھلی ۔ اس طرح اور کچھ نہ سہی مگر ایک پنجابی کی غلط سلط اردو لکھنے کی پریکٹس ہوتی رہتی ہے ۔ اور چونکہ یہ میڈیا  غلط سلط اردو کی لسانی لیبارٹری ہے جس میں صحافیوں سے لے کر سیاستدانوں تک اور ٹی وی رپورٹروں سے لے کر اینکروں تک کا یہ وظیفہ ہے کہ وہ لفظوں کے تلفظ بگاڑیں اور اردو کو بد شکل کریں ۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ کہیں کنفیوشس نے زبان کے ضمن میں کچھ اس طرح کی بات کی تھی کہ اگر زبان غلط لکھی اور بولی جائے تو اس سے نہ صرف کاروبار میں خسارہ ہوتا ہے بلکہ جنگیں بھی شروع ہو سکتی ہیں ۔ اس لیے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ لفظوں کو اُن کے صحیح  اور حقیقی مفہوم میں استعمال کیا جائے ۔ مگر جب کسی قوم کو اپنی قومی  زبان ہی نہ آتی ہو اور قوم کے رہنماؤں کا بیانیہ اُن کے جاہل ہونے کی چُغلی کھائے اور وہ خُود کو  لفظ کا جامہ  احرام اتار کر اُسے بے تلفظ کرنے کے کام پر مامور سمجھتے ہوں تو قوم کا سر شرمندگی سے جھک جاتا ہے اور وہ اس جھکے ہوئے سر کا بوجھ اُٹھائے پی آئی اے کے پائلٹوں کے دکھ پر واویلا کرنے لگتے ہیں ۔

صاحبو ! اس سے بڑی اذیت کیا ہوگی کہ آپ ایک ڈاکٹر کو یہ بتائیں  کہ  وہ پچھلے پچاس برس سے جعلی ڈگری کا طوق گلے میں ڈالے مریضوں کی سرجری کر رہاے ہے ۔ یونی ورسٹی کا وائس چانسلر ایک ان پڑھ آدمی ہے جس نے انٹرنیٹ کی کسی سائبر یونی ورسٹی سے ڈاکٹریٹ خریدی ہے اور اب وہ قوم کے بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کر رہا ہے ۔ مسجد شاہ چراغ کا خطیب ایک ٹٹ پونجیا ہے جس نے چند تقریریں رٹ کر خود کو شمس العلما قرار دے رکھا ہے اور وہ جج جو پوری ایک دہائی سے ملک میں انصاف کی شیرینی بانٹ رہا ہے در اصل انصاف اور قانون کی الف بے تک نہیں جانتا ۔لیکن ان میں سے ہر ایک کے پاس اپنے جینوئن ہونے کا باقاعدہ جواز موجود ہے جو اُن خان صاحب کے پاس تھا جنہیں میں نے سٹاک ہولم میں تقریر کرتے سنا تھا ۔ وہ فرمارہے تھے کہ ہمارا جو قوم ہے ، تو تذکیر و تانیث کی اس غتر بود  اس پر حاضرین میں سے  کسی نے اعتراض کیا  کہ خان صاحب قوم تو ہوتی ہے ۔ اس پر خان صاحب بولے کہ ہم تو پٹھان ہیں ، ہمارا تو  قوم  ہوتا ہے ۔ 

اور ہماری سیاست میں اُن پٹھانوں کی حکمرانی ہے جو تذکیر و تانیث کو اپنی مرضی سے طے کرتے ہیں ۔ وہ چاہیں تو اونٹ کو مونث اور خواجہ سرا کو مذکر قرار دیں اور اُن کا فرمایا ہوا مستند تسلیم کیا جائے ۔ اس وقت ایک اردو محاورہ یاد آ رہا ہے لیکن اس کو سیاسی پھبتی نہ سمجھا جائے ۔ محاورہ یہ ہے :

پٹھان کا پوت ، گھڑی میں اولیا گھڑی میں بھوت

لیکن یہ ضروری نہیں کہ اردو کو بے اردو کرنے کا کام پٹھان ہی کریں ۔ یہ کام سندھی بھی کر سکتے ہیں ، پنجابی بھی کرسکتے ہیں اور بلوچ بھی ۔ اور تو اور مہاجروں کو بھی اردو کے بگاڑنے کا مکمل اختیار حاصل ہے ۔ یہ کام ہمارے فاروق ستار بھائی بھی بڑی سہولت سے کر سکتے ہیں ۔ مجھے یاد ہے جند سال قبل اوسلو میں ایک سیمینار منعقد ہو ا جس میں فاروق ستار بھائی بھی مدعو تھے جو اس وقت سمندر پار پاکستانیوں کے وفاقی وزیر تھے ۔ وہ میرے پہلو میں بیٹھے تھے یا شاید میں اُن کے پہلو میں بیٹھا تھا اور وہ  اپنی تقریر کے نوٹس درست کر رہے تھے ۔ ایک جگہ لکھا ہواتھا ( لا اقراء فی الدین) تو میں نے نہایت احترام سے کہا کہ سر یہ اقرا نہیں اکراہ ہے ۔ آپ نے جو لکھ رکھا ے اس کا مطلب یہ ہے کہ دین مین پڑھنے کی کوئی اجازت نہیں ، تِس پر وہ مسکرائے اور ریش مبارک میں ہلکی سی لرزش پیدا کر کے تقریر کے نوٹس کا ورق پلٹ دیا ۔

ہمارے بیشتر سیاست دان اسی قسم کے ہیں جو  اقرا اور اکراہ کا فرق نہیں سمجھتے مگر اقتدار اور اقتدار سے محرومی کا مطلب خوب جانتے ہیں اور یہی اُن کی کوالیفکیشن ہے ۔ اب ان دنوں ہمارے  یہ سیاسی بقراط بجٹ کی جنگ میں مصروف ہیں اور ملک کو اقتصادی تباہی سے بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ بجٹ پاس ہو گا یا نہیں ہوگا قوم کی بلا سے ۔ بے چارے غریب عوام کی جو حالت بجٹ سے پہلے ہے ، بجٹ کے بعد بھی ہو گی اور رہے گی ۔ پاکستان میں وہ معاشی مسیحا تو موجود ہی نہیں جو معیشت کی ڈولتی ، ڈگمگاتی ، ہچکولے کھاتی کشتی کو گرداب سے نکال کر تحفظ کے ساحل پر لے جا سکے ۔

اس وقت پاکستان اور گردو نواح کے بیشتر ممالک حالتِ جنگ میں ہیں اور ایسی حالت میں معاشی تحفظ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی اور فی الوقت غیر یقینی کی یہ صورتِ حال ہمارا  مقدر بن کر رہ گئی ہے ۔ اس وقت ایک سمندر پار پاکستانی کی حیثیت سے مجھے جو کچھ محسوس ہو رہا ہے وہ کچھ یوں ہے :

اس طرح ہوں ، جیسے پردیسی کوئی پردیس میں

جیسے قیدی جیل میں ہو شک شبے کے کیس میں

فاؤنٹین ہاؤس میں  جیسے کوئی مخبوط الحواس

درمیاں اپنوں کے رہنا اجنبی کے بھیس میں

loading...