کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ، چھ حملہ آور ہلاک

  • سوموار 29 / جون / 2020
  • 910

 کراچی میں سٹاک ایکسچینج کی عمارت پر پیر کو شدت پسندوں نے حملے کی کوشش میں چار حملہ آوروں سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ کالعدم شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نےاس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تنظیم کے ایک ٹوئٹ میں کہا گیا ہے کہ مجید بریگیڈ کے ارکان نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔ کراچی سے بی بی سی کے نمائیندے کے مطابق یہ واقعہ صبح دس بجے کے قریب پیش آیا اور ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور پارکنگ کے راستے عمارت کے احاطے میں داخل ہوئے۔  انہوں نے دستی بم پھینک کر رسائی حاصل کی۔

کراچی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی جانب سے فائرنگ اور دستی بم کے حملے میں داخلی دروازے پر ڈیوٹی پر موجود کراچی پولیس کا ایک سب انسپکٹر، سٹاک ایکسچینج کے چار محافظ اور ایک عام شہری ہلاک ہوا ہے۔

ترجمان کے مطابق پولیس اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔  ترجمان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے پاس موجود جدید اسلحہ، دستی بم اور دیگر اشیا کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری اس واقعے کے بعد عمارت کے باہر موجود ہے اور کراچی پولیس کے ترجمان کے مطابق علاقے کو کلیئر کرنے کے لیے پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت اور اطراف میں تلاشی کا عمل جاری ہے۔

سندھ کے ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور ایک سلور رنگ کی کرولا گاڑی میں آئے اور انہیں پولیس کی جانب سے باہر گیٹ پر روکا گیا جہاں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو حملہ آور گیٹ کے باہر مارے گئے جبکہ دو اندر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تاہم انہیں بھی مار دیا گیا ہے۔

غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ حملہ آور مرکزی عمارت میں داخل نہیں ہوسکے اور ان سے دستی بم، دھماکہ خیز مواد اور دیگر اسلحہ برآمد ہوئے۔  سٹاک ایکسچینج کے ایم ڈی فرخ خان نے جیو ٹی وی کو بتایا کہ حملہ آور عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوئے اور سٹاک ایکسچینج کے احاطے میں ہی داخل ہو پائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریڈنگ فلور پر کاروباری سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تفصیلی انکوائری رپورٹ طلب کی ہے۔

کراچی سٹاک ایکسچینج کا دفتر کراچی میں آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ہے اور اس کے ساتھ سٹیٹ بینک پاکستان، پولیس ہیڈ کوارٹر اور کئی دیگر بینکس اور میڈیا ہاؤسز کے دفاتر ہیں۔ سندھ رینجرز کا مرکزی دفتر بھی ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس عمارت میں روزانہ کئی سو افراد کاروبار اور روزگار کے سلسلے میں آتے ہیں۔ اس وقت یہ معلوم نہیں کہ عمارت میں موجود افراد کو نکالا جا سکا ہے یا نہیں۔

اسٹاک ایکسچینج کی غیر معمولی حیثیت کی وجہ سے عمارت میں سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے گئے تھے۔ چند ماہ قبل ہی سندھ رینجرز اور انسدادِ دہشت گردی فورس نے فل ڈریس ریہرسل کی تھی۔ ذرائع کے مطابق اسٹاک ایکس چینج بلڈنگ پر اسٹاک ایکسچینج کی سیکیورٹی کے 25 اہلکار تعینات تھے جب کہ سندھ رینجرز، پولیس اور نجی کمپنی کے محافظ بھی تعینات ہیں۔

ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے اپریل میں اسٹاک ایکسچینج کو سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ہدایت کی تھی۔ حال ہی میں اسٹاک ایکسچینج بلڈنگ کی باؤنڈری کی دیوار مزید اونچی کی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں 100 سے زائد سیکیورٹی کیمرا نصب ہیں۔ عمارت میں الیکٹرانک اسکینگ مشین، وال تھرو گیٹ بھی ہیں۔

loading...