امریکا میں کووڈ 19 کی 3 نئی علامات کی شناخت

  • سوموار 29 / جون / 2020
  • 850

نوول کورونا وائرس کووڈ 19 کے شکار افراد میں اس مرض کی علامات اوسطاً 5 دن میں نظر آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ اس بیماری کی علامات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ امریکا کے طبی ادارے سینٹرز فار ڈیزیز پریونٹیشن اینڈ کنٹرول (سی ڈی سی) نے حال ہی میں 3 نئی علامات کی نشاندہی کی ہے۔

اس سے پہلے سی ڈی سی نے جو فہرست تیار کی تھی اس میں صرف بخار، کھانسی، سانس لینے میں مشکلات، ٹھنڈ لگنا، کپکپی، مسلز میں درد، سردرد، گلے کی سوجن اور سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی کو کووڈ 19 کی علامات قرار دیا گیا تھا۔

اب یہ فہرست مجموعی طور پر درج ذیل 12 علامات پر مشتمل  ہے۔ ان میں بخار، کھانسی، سانس لینے میں مشکل، ٹھنڈ لگنا، کپکپی، مسلز میں درد، سردرد، گلے کی سوجن، سونگھنے یا چکھنے کی حس سے اچانک محرومی، ناک بہنا یا بند ہونا، متلی اورہیضہ شامل ہیں۔

سی ڈی سی کے مطابق کووڈ 19 کے شکار افراد میں متعدد اقسام کی علامات کا مجموعہ نظر آتا ہے اور ہر کیس میں بیماری کی شدت مختلف ہوسکتی ہے۔ ادارے کی ویب سائٹ پر بتایا یہ فہرست تمام ممکنہ علامات پر مبنی نہیں۔ سی ڈی سی کی جانب سے اس فہرست کو اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے گا۔

تحقیق کے مطابق متعدد ممالک میں کووڈ 19 کے مریضوں کے ڈیٹا میں اضافے سے یہ ٹھوس اشارہ ملتا ہے کہ بیشر مریضوں کو اس مرض کی علامات کے دوران سونگھنے کی حس سے محرومی کا سامنا بھی ہوتا ہے۔ بیشتر اوقات تو یہ سب سے پہلے نمودار ہونے والی علامات ہوسکتی ہیں، جس کے بارے میں ابھی کہا جاتا ہے کہ بخار سب سے پہلے اور عام ترین علامت ہے۔

شواہد میں مزید بتایا گیا کہ سونگھنے کے ساتھ ساتھ چکھنے کی حس سے محرومی بھی ایسے افراد میں نظر آئی جن میں کووڈ 19 کی دیگر علامات نظر نہیں آئیں مگر وائرس کی تشخیص ہوئی۔

اچانک سونگھنے یا چکھنے کی حس سے اچانک محرومی کا سامنا کرنے والے افراد میں کسی اور انفیکشن کے مقابلے میں نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کا امکان 10 گنا زیادہ ہوسکتا ہے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت نے تاحال اپنی علامات کی فہرست کو اپ ڈیٹ نہیں کیا یعنی سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی اور ٹھنڈ لگنے کو ڈبلیو ایچ او نے فہرست میں شامل نہیں کیا نہیں کیا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق بخار اس انفیکشن کی سب سے عام علامت ہے جو سب سے پہلے سامنے آتی ہے اور لگ بھگ 88 فیصد کیسز میں اسے دیکھا گیا۔ چین میں 55 ہزار کیسز کے تجزیے کے بعد یہ شرح بتائی گئی۔  اس کے علاوہ خشک کھانسی، تھکاوٹ، گا بلغمی کھانسی اور سانس لینے میں مشکلات وغیرہ۔

ایک امریکی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کووڈ 19 کے کچھ مریضوں کو نظام ہاضمہ کے مسائل خصوصاً ہیضے کا سامنا پہلی علامت کے طور پر ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ایسے مریض جن میں ہیضہ پہلی علامت کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، ان میں بیماری کی شدت معتدل تھی۔ نظام تنفس کی علامات بعد میں ظاہر ہوئیں بلکہ کچھ کیسز میں تو ایسی علامات نظر ہی نہیں آئیں۔

loading...