افغانستان میں امریکی فوجی مارنے پر روسی انعام کا تنازعہ، ٹرمپ نے تردید کردی

  • سوموار 29 / جون / 2020
  • 900

صدرٹرمپ نے اتوار کے روز کہا ہے کہ انہیں کبھی کسی نے نہیں بتایا تھا کہ روس کی فوجی انٹیلی جینس یونٹ نے طالبان عسکریت پسندوں کو افغانستان میں امریکی فوجیوں کو مارنے پر انعام دینے کی پیش کش کی تھی۔

صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کو مسترد کیا کہ امریکی انٹیلی جینس عہدے دار کئی مہینے قبل ہی اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ روسی خفیہ ایجنسی کے یونٹ نے پچھلے سال افغانستان میں بھی ایک مہم چلائی تھی،جس کے متعلق صدر کو مارچ میں بریفنگ دی گئی تھی۔

ایک ٹوئٹر پیغام میں صدر نے کہا ہے کہ انہیں نہ تو کسی نے بتایا ہے اور نہ ہی بریف کیا ہے۔ نائب صدر مائیک پینس یا وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف مارک میڈوز نے بھی افغانستان میں روسیوں کی جانب سے ہمارے فوجیوں پر حملوں کے متعلق کچھ نہیں بتایا۔ صدر کا کہنا ہے کہ نامعلوم ذرائع کے حوالے سے نیویارک ٹائمز میں جھوٹی خبر دی گئی ہے۔ ہر کوئی اس سے انکار کر رہا ہے۔  وہاں ہم پر زیادہ حملے نہیں کیے گئے۔

پچھلے سال افغانستان میں 20 امریکی فوجی مارے گئے تھے، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ کن ہلاکتوں کا تعلق روس کی جانب سے مبینہ طور پر انعام کی پیش کش سے ہو سکتا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں وائٹ ہاؤس میں اپنے ساڑھے تین سالہ قیام کے دوران صدر ٹرمپ اکثر روسی صدر ولادی میر پوٹن کے لیے احترام کا رویہ اختیار کرتے رہے ہیں۔ البتہ صدر ٹرمپ نے یہ ٹوئٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے مقابلے میں روس کے لیے کسی اور کا رویہ اتنا سخت نہیں رہا۔ انہوں نے اس کا موازنہ سابق صدر باراک اوباما اور سابق نائب صدر جو بائیڈن سے کیا۔

صدر ٹرمپ نے اخبار کو چیلنج کیا کہ وہ اپنے نامعلوم ذرائع کو سامنے لائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اخبار یہ نہیں کر سکتا کیونکہ امکان یہی ہے کہ اس خبر کے پیچھے کسی ذرائع کا وجود ہی نہیں ہے۔ دوسری جانب روس نے افغانستان میں امریکی یا نیٹو فورسز کے ارکان کی ہلاکت پر طالبان کو انعام دینے کی خبر کو غلط قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کی ہے۔

امریکہ میں روسی سفارت خانے نے اخبار میں شائع ہونے والی خبر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے امریکہ اور برطانیہ میں تعینات روسی سفارتی عملے کے لیے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

طالبان نے بھی امریکہ یا نیٹو کے فوجیوں کی ہلاکت کے لیے روسی خفیہ اداروں سے کسی قسم کے معاہدے کی تردید کی ہے۔  

loading...