پاکستان میں کورونا سے مزید 49 افراد جاں بحق

  • سوموار 29 / جون / 2020
  • 920

پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مزید 49 افراد کی ہلاکت کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 4167 ہو گئی ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد پانچھ لاکھ دو ہزار ہوچکی ہے۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے اموات کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ اس وبا سے ایک کروڑ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ پاکستان مین مریضوں کی تعداد دو لاکھ 6 ہزار سے زائد ہے۔

صحت کے عالمی ادارے کے سربراہ ٹیڈراس ایڈہانم گیبریسس نے  ایک ٹوئٹ پیغام میں کہا ہے کہ اگرچہ ہم ویکسین کی تیاری اور علاج میں بہتری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں لین وبا کی ہلاکت خیزی سنجیدہ پیغام ہے۔

امریکہ بدستور دنیا بھر میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں متاثرین کی تعداد 25 لاکھ اور اموات سوا لاکھ سے بڑھ چکی ہیں۔ برازیل میں مریضوں کی تعداد 13 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ امریکہ کے بعد وہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ دوسرا متاثرہ ملک ہے۔

جنوبی ایشیا میں بھارت اور پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے بھارت اس وقت عالمی فہرست میں چوتھے درجے پر ہے جب کہ پاکستان بارہواں متاثرہ ملک بن گیا ہے۔

امریکہ میں مزید 33 ہزار افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس وقت مغربی اور جنوبی ریاستیں وائرس کے پھیلاؤ کی زد میں ہیں۔ چین میں مزید 12 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ دارالحکومت بیجنگ میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اسے وبا کی دوسری لہر قرار دیا جا رہا ہے۔  چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق اتوار کی شام تک سامنے آنے والے مصدقہ کیسز میں سے پانچ  بیرونِ ملک سے چین آئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر پھیلنے والے سات کیسز دارالحکومت بیجنگ میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ گیارہ جون کے بعد سے اب بیجنگ میں مجموعی طور پر 311 افراد میں وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔  بیجنگ کے قریبی علاقوں میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ دارالحکومت سے 100 میل دور واقع اینسن کاؤنٹی نے بعض رہائی عمارتوں اور دیہات کو سیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے  ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان سے آنے والی پروازوں پر پابندی احتیاطی تدابیر کے پیشِ نظر لگائی گئی ہے تاکہ متحدہ عرب امارات آنے والے افراد کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔  حکام کا کہنا ہے کہ فیصلے سے متاثر ہونے والے مسافر اپنی ایئر لائنز سے متبادل فلائٹس کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں۔

loading...