سمارٹ لاک ڈاؤن میں ’سمارٹ حکومت‘ ہی نہ چلی جائے

اپوزیشن نے متفقہ طور سے قومی بجٹ کی مخالفت کی ہے جبکہ وزیر اعظم نے سوموار کو بجٹ ووٹ سے پہلے حلیف سیاسی جماعتوں کو مطمئن کرنے کے لئے آج رات بنی گالہ میں جس عشائیہ کا اہتمام کیاتھا، مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہیٰ نے اپنی مصروفیات کی وجہ سے اس میں شرکت  سے معذرت کی ہے ۔ تاہم ساتھ یہ یقین دلایا ہے کہ ان کی پارٹی قومی اسمبلی میں بجٹ کی حمایت  کرے گی۔  

بجٹ پر ووٹوں کی معقول تعداد جمع کرنے  کی کاوش کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹوئٹ میں  سمارٹ لاک ڈاؤن کو  کورونا وائرس سے نمٹنے کا واحد  ذریعہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ  کیا ہے کہ ’انہیں یہ اچھوتا فیصلہ کرنے پر فخر ہے۔ اب  دنیا کے باقی ممالک بھی پاکستان کی تقلید کررہے ہیں‘۔ پاکستان میں سیاسی تقسیم کے موجودہ منظر نامہ میں وزیر اعظم کے ایسے بلند بانگ نعرے صرف ان کے حامیوں کی سماعت تک ہی پہنچتے ہیں جو تمام تر مشکلات کے باوجود اپنے لیڈر کی  باتوں  کی تحسین کرنا نہیں بھولتے۔ تاہم سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے رائے ساز گروہوں کی موجودگی میں یہ قرار دینا مشکل ہے کہ اس حمایت میں کتنے عمران خان کے حقیقی حامی ہیں اور ان کے اختیار کردہ سماجی، سیاسی  و معاشی راستے کو کامیابی کا سفر سمجھتے ہیں اور کتنے لوگوں کو یہ کام کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔

کرپشن  ختم کرنے کے دعوؤں کے بعد عمران خان نے اگرچہ  سمارٹ لاک  ڈاؤن   کو  اپنی انوکھی سیاست کا  عنوان بنایا ہؤا ہے لیکن   یہ نہیں کہا جاسکتا کہ  یہ حکمت عملی کس حد تک ملک میں کورونا کی روک تھام کا سبب بنی ہے۔  البتہ وزیر اعظم اسے اپنی سیاسی سربلندی کا سبب ضرور سمجھتے  ہیں۔ آج جاری ہونے والے ٹوئٹ میں بھی اسی خوش گمانی کا اظہار سامنے آیا ہے۔  ایک ایسے وقت میں جب حکومت کے بارے میں نت نئے سوال سامنے آرہے ہیں ، وزیر اعظم  کی  سمارٹ لاک ڈاؤن کو سیاسی  افتخار کا سبب  بنانے کی کوشش  قابل فہم نہیں ہے۔  ایک طرف  کابینہ کے ایک رکن حکومت کے سر پر منڈلاتے خطروں کے بادلوں کا ذکر کرتے ہوئے حکومت کی ناقص کارکردگی اور باہمی چپقلش کو اس کی وجہ قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف  قومی اسمبلی  میں سرکاری بنچوں پر بیٹھنے والے ارکان حکومتی فیصلوں سے برملا اختلاف کا اظہار کررہے ہیں۔ وزیر اعظم  نہ اس وزیر کا کچھ بگاڑ پائے ہیں اور نہ ہی قومی اسمبلی کے اس رکن کی جوابدہی کی جاسکی ہے جسے اختلاف  کرنے اور اپنا حق مانگنےکے لئے قومی اسمبلی میں تقریر کرنا پڑی۔ ایسے میں یہ اندیشہ دو چند ہوگیا ہے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن  کے موسم میں اسے نافذ کرنے والی ’  سمارٹ حکومت ‘ کا ہی بستر گول نہ ہوجائے۔

یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اپوزیشن کی دو ٹوک مخالفت اور تند و تیز الزامات کے باوجود حکومت سوموار کو بجٹ منظور کروانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن نے تقریریں ضرور کی ہیں لیکن کوئی متبادل بجٹ تجاویز سامنے نہیں آسکی ہیں۔  تاہم اس کی دوسری اور اہم ترین وجہ یہ ہے کہ اس بجٹ میں عسکری قیادت کے اطمینان  کا بھرپور اہتمام کیا گیا ہے۔ جو لوگ وزیر اعظم کو ’سلیکٹڈ‘ قرار دیتے ہیں ، انہیں اس بات کا بھی بخوبی احساس ہوگا کہ  موجودہ وزیر اعظم کو ’نامزد‘ کرنے والی قوتوں نے ہی بجٹ منظور  کیا ہوگا۔  یوں بھی جب مالی پریشانیوں اور دباؤ کے ماحول میں امکانات کم اور   معاشی ریلیف کاکوئی متبادل حل موجود نہ ہو تو   بجٹ تجاویز  کو پریس کانفرنس کی حد تک مسترد کرنا آسان ہے۔ اسمبلی میں مخالف ووٹ دیتے ہوئے  یہی  اہتمام کیاجائے گا کہ    بجٹ  نامنظور ہونے کا ماحول پیدا نہ ہوجائے۔

عمران حکومت کی پریشانی بہر صورت محض بجٹ منظوری تک محدود نہیں ہے۔  اس کا سلسلہ  دراز اور حالات کی سنگینی  تشویشناک ہے۔   اس صورت حال کا سب سے  المناک  پہلو بہر حال یہ ہے کہ بظاہر حکومت کو  حالات  دگرگوں ہونے کا  احساس نہیں ہے ۔  کابینہ میں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت دینے کے  علاوہ وزیر اعظم  بہتری کی طرف کوئی قدم اٹھانے پر آمادہ نہیں ہیں۔    بدلتے ہوئے سیاسی حالات سے تغافل اور معاشی مشکلات  کے ادراک  سے انکار موجودہ حکومت کا سب سے بڑا بوجھ ثابت ہوسکتا ہے۔ کوئی بھی سیاسی حکومت ایسی صورت حال میں وسیع تر سیاسی اتفاق رائے  کے ذریعے  ملک میں اعتماد اور ہم آہنگی کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ معاشی سرگرمیاں بحال ہوسکیں۔ عمران خان اور ان کے ساتھی یہ اہتمام کرنے میں کامیاب نہیں ہیں۔ حکومت ابھی تک یہ سمجھ رہی ہے کہ پارلیمنٹ یا اس کے باہر اپوزیشن کے الزامات  اورتنقید کا ترکی بہ ترکی جواب دے کر ہی معاملات کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ یہ طریقہ اپوزیشن کو سیاسی طور سے خاموش کروانے کا سبب تو بن سکتا ہے لیکن اس سے نہ  عوام کی بے چینی  ختم ہوتی ہے اور نہ ہی  حالات تبدیل ہوتے ہیں۔ ایسے میں  وزیروں مشیروں سے لاکھ کہا جائے کہ کارکردگی بہتر کرو ورنہ مشکل ہوجائے گی، اس سے کوئی نتیجہ برآمد ہونے کی امید نہیں کی جاسکتی۔

وزیر اعظم اگر اتنے ہی سادہ لوح ہیں کہ ان  کے اس  پیغام کے بعد  کہ’ کارکردگی نہ دکھائی تو حالات  کنٹرول میں نہیں رہیں گے‘ ان کے سارے ساتھی سخت محنت  سے معاملات کا رخ بدل دیں گے تو اسے ان کی سادہ لوحی تو سمجھا جاسکتا ہے، سیاسی بلوغت قرار دینا مشکل ہوگا۔   پہلی بات تو یہ ہے کہ کارکردگی دکھانے کے لئے کسی روڈ میپ کی ضرورت ہوتی ہے جو بظاہر موجودہ حکومت کے پاس موجود نہیں ہے اور نہ ہی  اس کی تیاری کی کوئی کوشش دیکھنے میں آئی ہے۔ بلند بانگ دعوؤں کی طرح  بڑے اہداف مقرر کرنا آسان ہے لیکن  کسی بھی قائد کا اصل امتحان یہ ہوتا ہے کہ اہداف کے حصول کے لئے حکمت عملی ترتیب دے اور اپنی ٹیم کو اس پر کام  کرنے کے لئے کہے۔ اگر اہداف موجود ہوں مگر انہیں مکمل کرنے کے لئے وسائل دستیاب نہ ہوں تو ناکامی ہی مقدر ہوگی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے  20 ماہ کے دور اقتدار  میں  نعروں اور الزامات کے سہارے وقت گزرا ہے۔ بدقسمتی سے دوسرا بجٹ پیش کرتے  ہوئے بھی اس حکومت کے نمائندوں کے پاس سابقہ حکومتوں  پر الزام  تراشی  اور کورونا کی  آفت کا ذکر کرنے کے علاوہ کوئی  دلیل نہیں تھی۔

اسی تصویر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو جیسی مالی بے یقینی کا سامنا ہے، اسے ختم کرنے کے لئے اعتماد سازی کا ماحول پیدا کرنا ضروری تھا۔ عمران خان نے پہلے کرپشن کے  خلاف بیانیہ پر اصرار کرتے ہوئے سیاسی مفاہمت سے انکار کیا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے ملک کے صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کو مافیا قرار دے کر کٹہرے میں کھڑا کردیا۔ حکومت ایسا انتظام کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے سرمایہ داروں کو  گروہ بندی کرکے ملکی نظام سے  ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ اگر حکومت  سرمایہ داروں سے ٹیکس وصول کرنے  میں ناکام رہتی ہے تو اسے سیٹھوں کی چوری سے پہلے حکومت کی نالائقی کہا جائے گا۔   عمران خان اور تحریک انصاف نے جو طریقہ اختیار کیا ہے اس میں نظام درست کرنے  کا کام تو دکھائی نہیں دیتا لیکن بداعتمادی کا ماحول پیدا کرکےمعاشی  بحران میں اضافہ کا سامان ضرور کیا گیا ہے۔ نئے بجٹ میں متعدد شقات کے ذریعے چھوٹے تاجروں اور سرمایہ داروں کو مراعات ضرور دی گئی ہیں تاکہ کاروباری سرگرمیاں شروع ہوں اور لوگوں کو روزگار مل سکے لیکن  وہ حالات پیدا نہیں کئے گئے جن میں سرمایہ دار حکومت کی نیت پر  بھروسہ  کرنے پر آمادہ ہو۔ عمران خان اگر کلیدی اہمیت کے حامل اس نکتہ کو سمجھ سکیں تب ہی وہ جان سکیں گے کہ ان کی  گفتگو  ملک کے مالی شعبہ میں سراسیمگی پیدا کرنے کا سبب بنتی رہی ہے۔

حکومت ایک بحران سے نکل نہیں پاتی کہ ایک نیا بحران  درپیش ہوتا ہے۔ لیکن  جس طرح لاک ڈاؤن سے  لوگوں کے روزگار متاثر ہونے کا ڈھنڈورا پیٹا  گیا ہے ، اسی طرح یہ بھی جان لینا چاہئے تھا کہ  بحران کا عذر تراش کر لوگوں کے مالی حالات  بہتر نہیں  ہوسکتے۔ اس وقت سرکاری اندازوں کے مطابق  70 لاکھ سے زیادہ لوگ خط غربت سے کم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ نئے روزگار پیدا ہونا تو دور جن لوگوں کو کام دستیاب تھا ، وہ بھی اس سے محروم  ہورہے ہیں۔ اس وقت ملک میں بیروزگار لوگوں کی تعداد کا تخمینہ ڈیڑھ کروڑ لگایا جارہا ہے۔ لیکن حکومت کے نمائیندے پیٹرول   کی قیمت میں اچانک اضافے کی وضاحت کرنے کی بجائے یہ عذر پیش کررہے ہیں کہ پاکستان میں پیٹرول جنوبی ایشیا میں سب سے سستا ہے۔  اور یہ کہ اپوزیشن اس معاملہ پر سیاست کررہی ہے۔ اپوزیشن اس لئے سیاست کررہی ہے کیوں کہ حکومت  اسے سیاست کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔   ملک  میں ایک ماہ سے زائد  پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت رہی اور پھر اچانک  قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا۔ کوئی بھی حکومت مخالف اسے نام نہاد مافیا کے سامنے ہتھیار پھینکنا ہی کہے گا۔ ذخیرہ  اندوزی  یا اجناس کی عدم دستیابی  کسی بھی حکومت کا اہم ترین امتحان ہوتے ہیں۔ اس میں ناکام ہونے والی حکومت دوسرے شعبوں میں بھی ناکام ہی رہتی ہے۔

تحریک انصاف اور عمران خان کی ان تمام تر ناکامیوں کے باوجود اپوزیشن کے اس اعلان کا کوئی جواز نہیں ہے کہ ’عمران خان  قومی بوجھ بن چکے ہیں۔ ملک کو تباہی سے بچانے کے لئے انہیں ہٹانا ضروری ہے‘۔     ملک کو درپیش مسائل کو کسی ایک فرد   کی ذمہ داری قرار نہیں دیا جاسکتا۔ نہ ہی یہ دعویٰ درست ہے کہ  عمران خان کو تبدیل کرنا مسئلہ کا حل ہے۔ اپوزیشن اگر عسکری اداروں کے ساتھ وفاداری   کے ایک نئے عہد نامہ کے ذریعے عمران خان کو ہٹانے کی کوشش کرے گی تو اس سے ملک میں جمہوریت کا راستہ کھوٹا ہوگا۔ 

مسئلہ کا حل اسی ایک نکتہ میں پنہاں ہے  جو مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے دو روز پہلے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے بیان  کیا تھا ۔ کہ ’اگر معیشت  کی گاڑی  میں دفاع کو ٹریکٹر جبکہ تعلیم و صحت کو چنگچی کا پہیہ لگائیں گے تو عدم توازن پیدا ہوگا‘۔ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل اس عدم توازن کو دور کرنے میں ہے ، عمران خان کے رہنے یا ہٹانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

loading...