بہتر کارکردگی کے لئے تضاد بیانی اور خوش گمانی چھوڑنا ہوگی

وزیر   توانائی عمر ایوب نے اپوزیشن کی طرف سے  پیٹرولیم  مصنوعات کی  قیمتوں میں اچانک اضافہ کا دفاع کرتے ہوئے اسے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں   میں اضافہ کا نتیجہ قرار دیا ہے لیکن اپوزیشن لیڈروں نے قیمتوں میں اس اضافہ کو عوام کی جیبیں کاٹنے کے مماثل قرار دیتے ہوئے انہیں واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن)  کے لیڈروں نے اسلام آباد میں  پریس کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے  مطالبہ کیا کہ اس اقدام سے حکومت کی نااہلی ثابت ہوگئی ہے۔ عمران خان  کو اس کے بعد اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہئے۔

اس بات کا امکان نہیں ہے کہ اپوزیشن پیٹرول  کی قیمتوں پر کوئی ایسا طوفان کھڑا کرسکتی ہے  کہ حکومت کو واقعی مستعفی ہونا پڑے تاہم واقعات کے تسلسل سے  بطور وزیر اعظم    ، عمران خان کی پوزیشن  نہ صرف کمزور ہوئی ہے بلکہ ان پر دباؤ میں بھی اضافہ ہؤا ہے۔  دو روز قبل قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران وزیر اعظم کے پاس یہ موقع ضرور تھا کہ وہ اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرتے اور  ملک میں وسیع تر افہام و تفہیم پیدا کرنے کے لئے قائدانہ  حوصلہ مندی کا مظاہرہ کرتے۔ اس کی بجائے عمران خان نے اسامہ بن لادن  کی ہلاکت  کے حوالے سے گڑے مردے اکھاڑ کر اور ایک دہشت گرد کو ’شہید‘ قرار دے کر ایک نیا تنازعہ کھڑا  کرلیا۔ اس بیان کے قومی سطح کے علاوہ   عالمی  طور سے اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ موجود ہے۔

قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کی تقریر  اپنی حکومت کا دفاع کرنے کی ناکام کوشش  تھی۔ سامعین نے محسوس کیا  کہ یہ ایک ایسے لیڈر کا خطاب تھا جو اگر پوری طرح دیوار سے نہیں لگا تو بھی اس میں   پیش قدمی کرتے ہوئے مسائل سے نمٹنے  اور ان کے بارے میں حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنے  کا حوصلہ نہیں تھا۔  وزیر اعظم نے کووڈ۔19 کے بارے میں پالیسی سے لے کر کشمیر اور معیشت  کے بارے میں اپنی حکومت کی پالیسی کو نہ صرف درست قرار دیا بلکہ  یہ دعویٰ کرنے کی کوشش بھی کی کہ   ان کی حکومت پوری یکسوئی کے ساتھ مسائل کا ادراک کرکے ان سے نمٹنے کی حکمت عملی پرکاربند ہے۔ یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جسے وفاقی  وزیر فواد چوہدری   بھی وائس آف امریکہ کے ساتھ انٹرویو میں مسترد کرچکے ہیں۔ اس انٹرویو میں انہوں نے نہ صرف تحریک انصاف کے اندر سازشوں کا انکشاف کیا تھا بلکہ  یہ بھی کہا تھا کہ عمران خان خود یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر 6 ماہ میں کارکردگی نہ دکھائی تو حالات سازگار نہیں رہیں گے۔  اس انٹرویو کے بعد گزشتہ منگل کو کابینہ کے اجلاس میں اس  حوالے سے ہونے والے تبادلہ خیال میں عمران خان کے ساتھیوں میں گروہ بندی کے دعوؤں کو درست بھی ثابت کردیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف عمران خان  کووڈ۔19 کے  بارے میں اپنی حکمت  عملی کی تعریف کرتے ہوئے یہ دعویٰ کررہے تھے کہ ’دنیا میں اگر کسی ملک نے کورونا وائرس کے خلاف  ٹھوس اور واضح پالیسی اختیار کی تھی تو وہ پاکستان ہے‘ تو اس دوران متفرق مقدمات کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد  حکومت کی  نااہلی اور بے عملی پر افسوس کا اظہار کررہے تھے۔ ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے برملا کہا کہ ’حکومت خود تو مسئلہ حل نہیں کرتی، فیصلوں کے لئے معاملات عدالتوں کی طرف دھکیل دیتی ہے‘۔   حکومت  کی ناقص کارکردگی کا معاملہ اب وزیروں  کے انٹرویوز، کابینہ  کے مباحث اور عدالتی ریمارکس سے ہوتا ہؤا اپوزیشن کے اس مطالبے تک پہنچ چکا ہے کہ  عمران خان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

پیٹرول کی قیمتوں میں اچانک اور غیر معمولی اضافہ نے اس مطالبہ میں شدت پیدا کی ہے۔ یہ صورت حال  تحریک انصاف و حکومت کے لئے عمومی طور اور عمران خان کے لئے خاص طور سے  باعث تشویش ہونی چاہئے۔   ملکی حالات اور عسکری قیادت کی مجبوریوں کے تناظر میں  اگر   یہ بات مسترد بھی کردی جائے کہ موجودہ حکومت میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے تو بھی حکومت  کے بارے میں نااہلی اور کمزوری کا تاثر قوی ہورہا ہے۔  اور اس کا اظہار طاقت کے مراکز سے سامنے آیا ہے۔  یہ تاثر کسی بھی حکومت کی صلاحیتوں پر اثرا انداز ہونے کی   قوت رکھتا ہے۔ اسے تبدیل کرنا وزیر اعظم کی پہلی ترجیح ہونی چاہئے لیکن وہ جب تک اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا ، کسی بڑے لیڈر کی خوبی  سمجھنے پر آمادہ نہیں ہوں گے ، حالات کا دھارا تبدیل  نہیں کرسکتے۔ اس کی بجائے وہ اپنی کارکردگی کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں رکھ کر اپنے شدید حامیوں کو سوشل میڈیا پر دھوم مچانے کا موقع تو  فراہم کرسکتے ہیں، ، اپنی پوزیشن اور حکومت کی شہرت  بہتر کرنے کا کام نہیں  کرسکتے۔

عمران خان نے قومی اسمبلی کے خطاب  میں دعویٰ کیا ہے کہ کشمیر کے سوال پر ان کی حکومت نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے پوری دنیا کے میڈیا اور اقوم متحدہ کو ہمنوا بنا لیا تھا لیکن  اس  دوران  پاکستان میں آزادی مارچ کے ڈھونگ میں دھرنا دے کر ان کوششوں کو پانی میں ملا دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب پھر سے کشمیر کا معاملہ عالمی ایجنڈے پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔ وزیر اعظم کا یہ بیان حقیقت احوال  سے متضاد تصویر سامنے لاتا ہے۔  بھارت میں نریندر مودی کی حکومت نے  5 اگست2019 کو مقبوضہ کشمیر کی  آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد  اس خطہ کو عملی طور سے  بھارت کا اٹوٹ انگ ثابت کردیا ہے اور دنیا  کے کسی ملک یا ادارے نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ پاکستان اس مؤقف کو مسترد کروانے میں کوئی سفارتی کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔

پاکستان کا کل مقدمہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر استوار ہے حالانکہ اگر بھارت کسی بھی طرح  آج بھی  ان قراردادوں پر عمل کرنے  پر آمادہ ہوجائے تو  یقین جانئے پاکستان  ان قراردادوں سے فرار حاصل کرلے گا۔ ان قرار دادوں  کے تحت پاکستانی فوج کو پہلے  کشمیر سے نکل کر کل کشمیر کا  انتظام بھارتی فوج کے حوالے کرنا پڑے  گا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی نگرانی میں بھارتی فوج کے زیر انتظام ہی کشمیر میں استصواب کروایا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی قراردوں کا نعرہ بلندکرنے والے لیڈر بھی جانتے ہیں کہ امتداد زمانہ سے اب یہ قراردادیں قابل عمل نہیں ہیں لیکن انہیں سیاسی نعرے کے طور پر  استعمال کیا جاتا ہے کیوں کہ عام لوگوں کی یادداشت سے اصل حقائق محو ہوجاتے ہیں۔ یہ قراردادیں تو آزاد کشمیر کو کسی جنگ اور فساد کے بغیر بھارتی انتطام میں دینے کا راستہ ہیں جس کے بعد بھارت ایک بار پھر ریفرنڈم کروانے سے منحرف   ہوسکتا ہے۔

بعینہ وفاقی وزیر توانائی ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کو   حکومت کی عوام دوستی کے ثبوت کے طور پر پیش کرکے عمران خان  کی قیادت پر سوالیہ نشان لگانے کا سبب بنے ہیں۔ عمر ایوب کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے منڈیوں میں تیل کی قیمتوں سے نصف اضافہ عوام کو منتقل کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ نہ صرف برصغیر بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں   پیٹرول  کی قیمتیں پاکستان سے زیادہ ہیں۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران  عمر ایوب نے وزیر اعظم کے  معاون خصوصی برائے پیٹرولیم  ندیم بابر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں جاپان کو بھی شامل کرلیا اور بھارت، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، انڈونیشیا کے علاوہ جاپان  میں تیل کی قیمتیں بتاتے ہوئے   ’ثابت کیا‘ کہ پاکستان میں پیٹرول پورے خطے میں سب سے سستا ہے۔

پاکستان میں تیل کی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے اور اسے اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے  تیل درآمد کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے  کہ براہ راست ٹیکس وصول کرنے میں ناکامی کے بعد ہر حکومت عوام سے مختلف اشیا پر محاصل عائد کرکے وسائل جمع کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات ایسی اشیا کی  لسٹ میں سرفہرست  ہیں۔ اس لئے ملک میں پیٹرول کی قیمتوں  کا تعین صرف عالمی منڈیوں کی قیمتوں کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ حکومت  کی مالی ضرورتیں بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔  وزیر توانائی کی یہ دلیل ناقص اور ناقابل قبول ہے کہ ہمسایہ اور خطے کے ممالک میں پیٹرول کی قیمتیں پاکستان سے زیادہ  ہیں۔ پاکستان میں فی کس قومی پیداوار 1357 ڈالر ہے۔  کورونا سے پیداواری صلاحیت متاثر ہونے کی وجہ سے اس میں مزید کمی کا اندیشہ ہے۔ جن ملکوں کا وزیر باتدبیر نے حوالہ دیا ہے ان میں فی کس قومی پیدا وار پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہے۔  بنگلہ دیش میں یہ شرح 2173  ڈالر، بھارت میں 2199، انڈونیشیا میں 4164، تھائی لینڈ میں 7792 اور جاپان میں 40847 ڈالر فی کس ہے۔ اس لئے  ان ملکوں کے مابین قیمتوں کو کوئی بھی موازنہ قابل قبول نہیں ہوسکتا۔

عمران خان   نے خود ہی اپنی حکومت کو کارکردگی بہتر کرنے کے لئے 6 ماہ کا عرصہ دیا ہے۔  اگر چہ یہ واضح نہیں ہے کہ وزیر اعظم   کو    اس مدت میں خود کو درست کرنے کا  ’انتباہ ‘ دیا گیا ہے یا انہوں نے  خود ہی یہ ٹائم فریم مقرر کرکے   اپنا امتحان لینے کا قصد کیا ہے۔  وجہ کوئی بھی ہو موجودہ دگرگوں حالات کو درست کرنے کے لئے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو تضاد بیانی سے گریز کرنا ہوگا۔ یہ ممکن ہے کہ اپوزیشن اس وقت کمزور ہو اور عوام کو حکومت  کے خلاف   ہمنو ا بنانے  میں  کامیاب  نہ ہو سکے لیکن اگر عمران خان  خوش گمانی کے سنگھاسن سے نیچے نہ اترے تو ان کے اقتدار کا تخت ضرور لرزہ براندام ہوسکتا ہے۔

loading...