عوام بنام جسٹس ارشاد حسن خان

اس موقر روزنامے میں ملک کے معروف صحافی محترم عرفان صدیقی نے چھ کالموں کے ایک مربوط سلسلے میں جون 2001 کے ان واقعات کی آنکھوں دیکھی کہانی بیان کی ہے جب پاکستان پر زبردستی مسلط ہونے والے جرنیلوں کے ٹولے نے بیس مہینے تک انتظار کرنے کے بعد بالآخر ملک کے منتخب صدر محترم رفیق تارڑ کو بھی ان کے منصب سے بے دخل کر دیا۔

اس مقصد کے لئے ایک عقیم و سقیم حکم نامے سے مدد لی گئی۔ اس حکایت ندامت میں ناگزیر طور پر اس وقت کے چیف جسٹس ارشاد حسن خان کا ذکر بھی آیا۔ محترم ارشاد حسن خان نے مورخہ 23 اور 24 جون کو دو متصلہ تحریروں کے ذریعے عرفان صدیقی کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی ہے۔ قدرت اللہ شہاب کی خود نوشت سوانح ’شہاب نامہ‘  پر احمد بشیر کی رائے کے پیرائیہ بیان سے استفادہ کرتا ہوں کہ  ’اگرچہ رپورٹ پٹواری مفصل ہے۔۔۔ لکھنے والے نے بیان صفائی مرتب کیا مگر ملزم مجھے باعزت بری ہوتا نظر نہیں آتا‘۔ میں داد رسی کے لئے اپنا حق مرافعہ بروئے کار لانا چاہتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ صاحبان وقار کے در عدل پر دستک دی جائے تو فریادی کا اختیار استغاثہ (Locus Standi) دریافت کیا جاتا ہے۔ عرض کرتا ہوں۔

میرے آبا و اجداد مشرقی پنجاب کے غریب غربا تھے۔ مغربی پنجاب سے ارسال کردہ شرناتھیوں نے قتل و غارت کا بازار گرم کیا تو پاکستان چلے آئے۔ زور آوری کی لہروں پہ بہتے خس و خاشاک تھے۔ 1946 کے موسم گرما میں اس شہر میں مسلم لیگ کو ووٹ دیا تھا جہاں مجلس احرار کے بانی اور کانگرس کے حامی مولوی حبیب الرحمن کا سکہ چلتا تھا۔ میں نے گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی میں پاکستان کے شہری کے طور پر جنم لیا۔ یہی میری اول وآخر شناخت ہے۔ پیشے کا صحافی ہوں۔ ملک کا وفادار ہوں، آئین کا اطاعت گزار ہوں۔ آئین ہی کی پناہ چاہتا ہوں۔ آئین شکنوں سے پناہ چاہتا ہوں۔ صاحب جائیداد نہیں۔ ترکہ بہت وسیع اور ورثہ وقیع ہے۔ یہ استحقاق ترکہ ہی کا استغاثہ ہے۔ یہ ورثے کی ملکیت کا مقدمہ ہے۔

ہمارے بزرگوں نے ایک دستوری عہد نامے میں شرکت تھی۔ معاہدہ یہ تھا کہ غیرملکی حکمران واپس چلے جائیں گے اور اس زمیں پر مقامی باشندوں کی حکومت ہو گی۔ پاکستان مفتوحہ زمیں ہو گا اور نہ ملک محروسہ۔ ایوب خان کی شب تیرہ میں آنکھ کھولنے والوں کو معلوم ہوا کہ اس عہد کی پاسداری نہیں ہوئی۔ فرنگی چلا گیا لیکن ریاست نے شہریوں کا حق حکمرانی غصب کر لیا۔ آئین کی شکست و ریخت کی حکایت ایسی دلدوز ہے کہ ملک کا ٹوٹنا بھی اسی کا شاخسانہ تھا۔ 1973 میں اس ملک کے باشندوں نے ایک دستور تشکیل دیا۔ اس آئینی سمجھوتے کے بنیادی خدوخال یہ تھے کہ یہ ملک ایک وفاقی جمہوریہ ہو گا جسے پارلیمانی جمہوریت کے ذریعے چلایا جائے گا۔ نصف صدی سے ہم یہ کاغذ کا ٹکڑا ہاتھ میں لئے بیٹھے ہیں۔ جمہوریہ پہ جبر، وفاق پہ مرکز اور پارلیمانی نظام پر صدارتی امکان کی تلواریں لٹک رہی ہیں۔ 1977 کے تعطل سے 1985 کی آٹھویں ترمیم برآمد ہوتی ہے اور 1999 کے اکتوبر سے 2003 کی سترہویں ترمیم پھنکارتی ہے۔ کبھی بلوچستان پر چڑھائی ہوتی ہے تو کبھی سندھ کے گوٹھوں میں توپیں لگائی جاتی ہیں۔ کبھی احتساب کا غلغلہ ہوتا ہے تو کبھی قومی سلامتی کی دہائی دی جاتی ہے۔ کیا ہم ایسے غبی ہیں کہ طاقت کا منشا نہیں سمجھتے؟

ملک کے وفادار اور آئین کے اطاعت گزار شہریوں نے آئین کی حفاظت کی ذمہ داری اعلیٰ عدلیہ کو سونپی تھی۔ عدلیہ کے منصف برضا و رغبت حلف اٹھا کر دستور کی حفاظت کا ذمہ لیتے ہیں۔ آئین شہریوں کی سپر ہے۔ آسٹریا کے ماہر قانون ہینس کیلسن کی قانونی رائے یا اس میں تحریف سے ہمیں سروکار نہیں، ہماری دستوری روایت جان آسٹن سے استناد کی گئی۔ ہمارے قانونی ڈھانچے کا بالاتر اخلاقی اقدار اور موضوعی فہم سے تعلق نہیں۔ 1949  میں لارڈ الفریڈ ڈیننگ نے Freedom Under the Law  میں لکھا کہ ’بادشاہ کا کوئی جج اپنا عہدہ سنبھالتا ہے تو ایک درخواست گزاری جاتی ہے جسے صدیوں سے چلی آ رہی روایت کے مطابق دیگر تمام درخواستوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔ وکیل کہتا ہے کہ مائی لارڈ، میری ایک درخواست ہے جس کا تعلق رعایا کی آزادی سے ہے اور جج تمام دوسرے معاملات کو ایک طرف رکھ کے اس درخواست کی سماعت شروع کرتا ہے۔‘  اس مشق کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ منصف کو شہری آزادیوں کا بالاترین مقام ذہن نشین کرایا جائے۔

 2000میں اس ملک کے تہی دست اور برہنہ پا اپنی آزادی کا مقدمہ لے کر ارشاد حسن خان کے حضور پیش ہوئے تھے۔ ہمیں سرتاج عزیز کے انتخابی فہرستوں کے مدعے سے غرض تھی اور نہ ہمیں اس سات نکاتی پروگرام سے واسطہ تھا جسے ممکن بنانے کے لئے اعلیٰ عدلیہ نے (بقول خود) آمر کو آئین میں ترمیم کا اختیار دیا تھا۔ ارشاد حسن نے اپنے دفاع میں جنرل کے غاصبانہ قبضے کی حقیقت بیان کر کے تسلیم کر لیا کہ 12 اکتوبر کا آئینی جواز نہیں تھا۔ یہ ایک جرم تھا اور جرم کے بارے میں جسٹس حمود الرحمن نے عاصمہ جیلانی کیس میں لکھا تھا کہ ’قومی بندوبست سے بغاوت کرنے والے مجرم کے بدبو دار سانس اور آلودہ قلم سے قانونی جواز برآمد نہیں ہوتا‘۔ 1972 ہی کے برس میں جج ولیم او ڈگلس نے ایرک سریڈیڈ سے ایک نادر ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا تھا کہ ’عدالت ضمیر کی محافظ ہے…. اور قوم کا ضمیر اس کا دستور ہوتا ہے‘۔ محترم ارشاد حسن خان نے  ’وسیع تر قومی مفاد‘کے کمبل میں لپیٹ کر قوم کے ضمیر کو داغدار کیا۔ دستور کی شق 245 میں معاشی استحکام، انصاف، اچھی حکمرانی اور عوامی فلاح کے ان نکات کا کہاں ذکر ہے، عدالت عظمیٰ نے افواج پاکستان کو جن کا مکلف ٹھہرایا۔ نواز شریف پر الزام تو طیارہ اغوا کرنے تھا، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے غیر فعال ہونے کا تعین کیسے ہوا؟ 2002کے انتخاب کو شفاف اور جمہوری سمجھنے والے جمہوریت کی روح سمجھتے ہیں اور نہ شفافیت کی لطافت سے آشنا ہیں۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...