کیا پاکستان ایک نئے جہادی دور میں داخل ہونے والا ہے؟

دنیا  کا سب سے بڑا دہشت گرد سمجھے جانے والے اسامہ بن لادن کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں ’شہید‘ قرار دینے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے اب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ’دہشت گردی‘ ختم کرنے کے لئے عالمی مدد طلب کی ہے۔ آزاد کشمیر کے مختصر دورہ کے دوران انہوں نے بھارتی وزیر اعظم اور حکومت کے بارے میں اپنے دیرینہ مؤقف کو دوہراتے ہوئے انہیں ہندو انتہاپسندی کے خطرناک راستے پر گامزن بتایا ہے جس کا پوری دنیا کو نوٹس لینا چاہئے۔ 

پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے  عمران خان کے اس بیان  پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسرے ملکوں میں تشدد کے خاتمہ کی بات کرنے سے پہلے  اپنے اندر  جھانکنے کی ضرورت ہے۔’ تشدد کے خاتمہ کے لئے اہم ہے کہ اسے جرم سمجھا جائے اور جرم قرار دیا جائے۔ پاکستان  کو بھی کسی بھی  ہمہ قسم تشدد کو مسترد کرنے کے لئے اس فعل کو  جرم   سمجھنا ہوگا‘۔  اس سے پہلے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کی تقریر پر رد عمل دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے لیڈر اور سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا  تھا کہ ملک کے 70 ہزار لوگوں کی شہادت  کا سبب بننے والا اسامہ بن لادن ایک دہشت گرد تھا۔ ’اس نے میری قوم کو تباہ کردیا اور وزیر اعظم اسے شہید قرار دے رہے ہیں‘۔

سیاسی مقابلہ بازی کے اس ماحول میں  وزیر اعظم کی تقریر کے حوالے سے  صرف سیاست دانوں ہی نے سخت رد عمل  ظاہر نہیں کیا بلکہ عام لوگوں نے بھی سوشل میڈیا مباحث میں پاکستانی وزیر اعظم کے اس طرز تکلم پر ناراضی اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر وزیر اعظم یا وزارت خارجہ  کے کسی ترجمان نے اس بیان کی وضاحت  نہیں کی۔  وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے ایک ٹوئٹ میں یہ  ضرور کہاہے کہ اس معاملہ کو غیر ضروری طور پر اچھالا جارہا ہے۔ عمران خان نے اس تقریر میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے دو مرتبہ لفظ ’ہلاک‘ استعمال کیا۔ جبکہ انہوں نے صرف ایک بار اسے شہید کہا تھا۔  اس ٹوئٹ سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ  عمران خان نے  بیان کی روانی میں شہید کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اسے نہ تو اہمیت دینے کی ضرورت ہے اور نہ ہی  یہ سمجھنا چاہئے کہ  یہ  دہشت گردی کے حوالےسے پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔

شہباز گل اگرچہ  سیاسی معاملات  میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی  کے عہدے پر کام کررہے ہیں لیکن ا س عہدے کی  حیثیت اور  دائرہ کار کے بارے میں  کوئی خاص معلومات فراہم نہیں ہیں۔ اس لئے دوررس نتائج کے حامل کسی بیان پر ان کی وضاحت حکومت اور وزیر اعظم کا درست مؤقف سامنے لانے کے لئے کافی نہیں ہوسکتی۔ اس حوالے سے  وزیر اطلاعات شبلی فراز یا   معاون خصوصی  برائے اطلاعات و نشریات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم  باجوہ   کی وضاحت زیادہ قابل اعتبار ہوسکتی  تھی۔ یا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی  یہ بتا سکتے تھے کہ قومی اسمبلی کے خطاب میں اسامہ بن لادن کے لئے شہید کا لفظ استعمال کرنا کیوں   ضروری تھا۔  کیا محض روانی بیان  اس کا سبب تھی یا اس کے درپردہ  حکومت اور عسکری قیادت کوئی خاص پیغام دینا چاہتی ہے۔ یہ سوال اس لئے بھی اہم ہوجاتا  ہے کیوں کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ  نے بھی وزیر اعظم کی سہو کو درست کرنا ضروری نہیں سمجھا۔   اور  تشدد کے خلاف عالمی دن کے حوالے سے  وزیر خارجہ اور وزیر اطلاعات نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تشدد پر سیر حاصل تبصرے کئے ہیں۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ   دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ بیان دیتے رہے ہیں کہ پاکستان نے کامیابی سے دہشت گردوں کو اپنے ملک سے ختم کیا ہے۔ انہیں  اس پر کسی ملک سے انعام و اکرام کی امید نہیں ہے لیکن دنیا  کو پاکستان کی اس شاندار کامیابی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی تحسین کرنی چاہئے۔  دہشت گردی کے بارے میں  اس دو ٹوک مؤقف کی روشنی میں مسلمہ دہشت گرد اور لاکھوں لوگوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے اسامہ  بن لادن کے بارے میں عمران خان کا بیان  پاک فوج کے لئے باعث تشویش ہونا چاہئے تھا۔ ماضی میں  اختلافی معاملات   پر فوج  کا مؤقف سامنے لانے میں بخل سے کام نہیں  لیا گیا تھا۔ اس لئے اس موقع پر فوج کی خاموشی کھٹکتی ضرور ہے۔

یوں تو برصغیر  کے سب ہی ممالک  کسی قومی مقصد کے لئے جان دینے والوں کے  بارے میں شہید کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کے لئے اس لفظ کی خاص اہمیت اور معنویت ہے۔  مرنے کے     اس طریقہ اظہار کو مسلمان  اللہ کے ہاں قبولیت کا درجہ پانے کے مترادف اور راست بازی  کی علامت سمجھتے ہیں۔ دنیا بھر میں اسلام  کے نام پر دہشت گردی کا طوفان بپا کرنے والوں نے انسانوں کی ہلاکت کے اس عمل کو جہاد قرار دیا تھا۔  وہ جہاد کے نام پر ہی معصوم نوجوانوں کو خود کش بمبار  بننے یا دہشت گردی کے دوسرے واقعات میں جان کی بازی لگانے پر آمادہ کرتے تھے۔ انہیں اگلے جہان میں اعلیٰ مقامات کی نوید   دیتے ہوئے   بتایا جاتا تھا کہ اس مقصد کے لئے  ان کی موت شہادت ہوگی۔  دہشت گردوں کے انہی ہتھکنڈوں کو مسترد کرنے کے  لئے دینی رہنماؤں نے  جہاد کی از سر نو تشریح کرتے ہوئے انفرادی  یا گروہی طور سے جنگ جوئی میں ملوث ہونے والوں کو غیر اسلامی شعائر کا مرتکب قرار دیا۔ اسی  لئے دہشت گردوں  کے لئے شہید کی اصطلاح استعمال کرنا ،  ان لوگوں کی توہین بھی سمجھی جائے گی جنہوں نے کسی ریاست کی خدمت میں  قومی مقصد حاصل کرنے کے لئے جان  کی بازی لگائی  ہو۔

اس  پس منظر میں ایک طرف عمران خان کے  اسامہ  بن لادن کو شہید قرار دینے  پر احتجاج کیا گیا ہے  تو اس کے ساتھ ہی  نام نہاد  اسلامی دہشت گرد گروہوں کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے عناصر اسے وزیر اعظم کا حوصلہ مندانہ اقدام قرار دے رہے ہیں۔ یہ عناصر  عام طور سے  تحریک انصاف کی پالیسیوں سے متفق نہیں ہیں لیکن اس  معاملہ پر  وہ وزیر اعظم کی پشت تھپتھپا رہے ہیں۔  کیوں کہ اس طرح اسلامی سربلندی کے بارے میں  ایک خاص سوچ کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ اسی سوچ کے تحت پاکستان میں  80 کی دہائی میں ایسے جہادی گروہ معرض وجود میں آئے  تھے  جنہوں نے  مقبوضہ کشمیر میں جہاد کے نام پر  دہشت گرد ی کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ بھارت میں ہونے والے متعدد  سانحوں میں بھی  ایسے دہشت گردوں   کا سراغ لگایا گیا تھا۔ پاکستان  میں سرکاری طور پر ان عناصر کی حوصلہ افزائی کی گئی اور ان کے خلاف ہمہ قسم شکایات کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان  دوریاں پیدا کرنے میں ان گروہوں کا  کردار  اہم  رہا ہے۔ اسی  لئے بھارت مسلسل پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی   کا الزام لگاتا  ہے۔

ان الزامات کے نتیجہ میں پاکستان کو متعدد عالمی اداروں  کے سامنے  مشکلات کا سامنا   ہے۔  جون 2018 میں پاکستان  کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا۔ پاکستان ابھی تک اس فہرست سے نام نکلوانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ حتیٰ کہ پاکستان نے گزشتہ برس آئی ایم ایف سے جو مالی پیکیج حاصل کیا تھا، اس میں بھی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو اہم شق کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ اسی دباؤ کی وجہ سے پاکستان کو جماعت الدعوۃ کے بانی حافظ سعید اور جیش محمد کے خلاف کارروائی کرنا پڑی تھی۔  پاکستان کے ان اقدامات کے باوجود بھارت بدستور پاکستان کو جہادی گروہوں کا سرپرست کہتے  ہوئے الزام عائد کرتا ہے کہ  پاکستان سے در اندازی کی وجہ سے ہی مقبوضہ کشمیر میں خوں  ریزی ہوتی ہے۔   مشکوک شہرت رکھنے والے عناصر کے بارے میں پاکستان کی غیر واضح حکمت عملی نے پاکستان کی شہرت کو داغدار کیا ہے اور کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان نے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دیتے ہوئے   مسلمانوں کی نظر میں اس کی توقیر میں اضافہ کرنے کی  کوشش کی ہے۔  قومی اسمبلی میں دیے گئے اس بیان پر اپوزیشن کے احتجاج کے باجود حکومت کی طرف سے خاموشی سے یہ تاثر  قوی ہوتا ہے کہ عمران خان نے نہ تو تن تنہا  اظہار کا یہ پیرایہ اختیار کیا ہے اور نہ ہی یہ اچانک زبان سے ادا ہوجانے والا لفظ تھا۔ نکتہ چینوں نے تقریر کے اس حصہ کا حوالہ دیتے ہوئے اشارہ کیا ہے کہ وزیر اعظم نے ایبٹ آباد پر امریکی حملہ کا ذکر کرتے ہوئے پہلے کہا کہ’ اس حملہ میں اسامہ کو ہلاک کردیا گیا‘۔ پھر وقفہ لے کر کہا: ’شہید کردیا گیا‘۔ گویا  ہلاک کے لفظ کو مسترد کرتے ہوئے شہید کو متبادل کے طور پر اختیار کیا۔ سوال ہے کہا یہ وزیر اعظم اور حکومت کی طرف سے سوچا سمجھا اشارہ تھا۔ اور کیا قومی اسمبلی جیسے مقدس پلیٹ فارم  پر تقریر کرتے ہوئے یہ اظہاریہ محض اتفاقیہ تھا۔  کیا ملکی سلامتی کے حوالے  سے  اہمیت رکھنے والا یہ بیان کوئی پاکستانی وزیر اعظم عسکری قیادت کی  آشیر باد کے بغیر  جاری کرسکتا ہے؟

گزشتہ روز ان سطور میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا گیا تھا کہ کیا عمران خان  کے پوشیدہ سرپرست اس غیر ذمہ دارانہ بیان کے بعد بھی انہیں اپنا دوست سمجھتے ہیں۔  البتہ اگر یہ بیان ایک سوچی سمجھی سرکاری پالیسی کا حصہ ہے جسے سول و فوجی  قیادت کی یکساں حمایت حاصل ہے تو زیادہ منطقی سوال یہ ہوگا : کیا پاکستان  ایک نئے جہادی دور میں داخل ہونے والا ہے؟مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استبداد اور افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کے   بعد پیدا ہونے والے خلا میں کیا کوئی نئی پاکستانی ڈاکٹرائن تیار کی جارہی ہے۔ ایسی صورت میں قوم کو اعتماد میں لینا نہایت ضروری ہوگا۔ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کا سرسری بیان  الجھن اور پریشانی میں اضافہ کرے گا۔

loading...