سابق امیر جماعتِ اسلامی سید منور حسن انتقال کر گئے

  • جمعہ 26 / جون / 2020
  • 1090

جماعتِ اسلامی پاکستان کے سابق امیر سید منور حسن طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ اُن کی عمر 78 برس تھی۔

سید منور حسن گزشہ تین ہفتے سے کراچی کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج تھے جہاں وہ جمعہ کو حرکتِ قلب بند ہونے سے وفات پاگئے۔ سید منور حسن پانچ اگست 1941 کو نئی دہلی میں پیدا ہوئے۔ وہ جماعتِ اسلامی کے چوتھے امیر تھے جنہوں نے 2009 سے 2014 تک جماعتِ اسلامی پاکستان کے سربراہ  رہے۔ اس سے قبل وہ جماعتِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

سید منور حسن نے خرابی صحت کے باعث 2014 میں دوسری مدت کے لیے جماعتِ اسلامی کی امارت کا انتخاب لڑنے سے معذرت کر لی تھی۔ وہ جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلٰی بھی رہے تھے۔ سید منورحسن جنوری 1989 سے نومبر 1991 تک جماعت اسلامی کراچی کے امیر کے منصب پر فائز رہے۔ وہ 1992 میں جماعت اسلامی پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مقرر کیے گئے۔

سید منور حسن نے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے  طلبہ سیاست کا آغاز کیا۔ وہ 1959 میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر بھی رہے۔  بعدازاں وہ جماعت اسلامی کے بانی سید ابو الاعلیٰ مودودی کے نظریات سے متاثر ہو کر اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہو گئے۔ سید منور حسن کو ان کے انداز خطابت کی وجہ سے بھی طلبہ حلقوں میں پسند کیا جاتا تھا۔

منور حسن 1977 کے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ انہوں نے اس وقت کراچی کے حلقے سے ریکارڈ ووٹ حاصل کیے حالانکہ پورے ملک میں پیپلزپارٹی مقبول تھی۔ اُنہوں نے پیپلزپارٹی کے اُمیدوار جمیل الدین عالی کو پورے ملک میں ریکارڈ ووٹ حاصل کر کے شکست دی۔ وہ اسی عرصے کے دوران جماعت اسلامی کراچی کے سیکریٹری جنرل بھی رہے۔ انہوں نے 1977 میں کراچی میں  تحریک نظام مصطفی کو منظم کیا۔  

ملک کی سیاسی اور سماجی شخصیات نے سید منور حسن کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ صدرِ پاکستان عارف علوی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز سمیت اپوزیشن رہنماؤں نے بھی سید منور حسن کے انتقال پر دُکھ کا اظہار کیا ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ پاکستان اور اسلام کے لیے اُن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

loading...