سرپرست سوچیں: عمران خان کسی کے دوست نہیں!

دنیا کے اہم ترین دہشت گرد اسامہ بن لادن  کو شہید  قرار دے کر پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے  ملک     کی سیاسی اور سفارتی پوزیشن کو داؤ پر لگایا ہے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران انہوں نے  مئی 2011 میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو شہادت قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ  امریکہ کا یہ عمل پاکستان کی توہین کے مترادف تھا کیوں کہ ایک طرف پاکستان امریکی جنگ لڑتے ہوئے قربانیاں دے رہا تھا اور دوسری طرف امریکہ نے اس حملہ کے بارے میں حکومت کو بتانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔

عمران خان کا دعویٰ  ہے کہ ان کی  ’ماہرانہ خارجہ  پالیسی‘ کی وجہ سے اب امریکہ کے ساتھ  احترام کا رشتہ استوار ہؤا ہے اور پاکستان نے اپنی یہ بات منوا لی ہے کہ افغانستان  میں جنگ مسئلہ کا حل نہیں ہے بلکہ مذاکرات  سے  ہی یہ  معاملہ حل کیا جاسکتا ہے۔ عمران خان کو ریکارڈ کی درستی کے لئے جان لینا چاہئے کہ امریکہ اس نتیجہ پر دو دہائی کی بے مقصد جنگ، سینکڑوں ارب ڈالر گنوا کر اور ہزاروں امریکیوں کو مروانے کے بعد پہنچ پایا ہے۔ اس کا کریڈٹ عمران  خان کی سفارت کاری اور ذہانت کو دینا  بالکل ویسے  ہی ہے جیسے عمران خان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے  پاکستان کی جھولی میں ڈال دیا ہے۔ امریکہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اور دنیا   و   امریکی عوام میں افغان جنگ کے خلاف ابھرنے والی رائے کے نتیجہ میں افغانستان سے فوجیں نکالنے پر مجبور  ہؤاہے۔ اس کا دعویٰ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی کیا تھا۔  اب  یہ سہرا عمران خان اپنے سر باندھ کر ’پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ ‘ کا کردار ادا کررہے ہیں۔ بطور وزیر اعظم انہیں  کوئی بیان دینے سے پہلے اپنے لفظوں کو تول لینا چاہئے۔

اسی طرح بھارت میں نریندر مودی کی حکومت  نے نہایت چالاکی سے گزشتہ سال اگست میں مقبوضہ کشمیر کی آئینی اور خصوصی حیثیت ختم کرکے، اسے وفاق کی اکائی قرار دیا تھا۔  پاکستان  اس بھارتی اقدام کے خلاف دنیا کے کسی ملک یا ادارے کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔   گزشتہ برس انتخاب میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرنے کے بعد مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرنے کے لئے  اقدام کیا  تھا۔ یہ اسی انتخاب کی بات ہے جس کے دوران عمران خان نے بطور وزیر اعظم  پاکستانی علاقے میں حملہ کرنے والے بھارتی پائیلٹ ابھے نندن کو رہا کرتے ہوئے بزعم خویش خیرسگالی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن   اس سادہ لوحی اور خیر سگالی کو نریندر مودی نے نہایت چالاکی سے اپنی سفارتی کامیابی بنا کر پیش کیا اور  تذبذب کا شکار بھارتی ووٹروں کو بھی  ایک  ’مضبوط‘ وزیر اعظم کو دوبارہ منتخب کروانے کے لئے ووٹ دینے پر آمادہ کیا۔  اس انتخاب کے دوران اگر مودی اور  بھارتی جنتا پارٹی کے لیڈروں کی تقریروں  کا جائزہ   لیا جائے تو عمران خان پر یہ واضح ہوسکتا ہے کہ ابھے نندن کی رہائی کو کس طرح بی جے پی نے اپنی سفارتی ہی نہیں عسکری کامیابی کے طور پر پیش کیا تھا۔ ان تقریروں   سے یہ  نہیں لگتا تھا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے بھارت پر کوئی احسان کیا ہے بلکہ ان سے یہ تاثر قائم کیا گیا تھا کہ بھارتی حکومت نے پاکستان کو ’دھمکا‘ کر اپنا پائیلٹ رہا کروا لیا تھا۔

یاوش بخیر یہ وہی نریندر مودی  ہے جس کی کامیابی کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ بی جے پی جیت گئی تو اس کے ساتھ کشمیر کے سوال پر مذاکرات کرنا آسان ہوگا۔ اگر کانگرس کامیاب ہوگئی تو وہ انتہا پسند ہندو ووٹروں میں  غیرمقبولیت کی وجہ سے کسی  پائیدار حل کی طرف بڑھنے کا حوصلہ نہیں کرے گی۔ دیانت داری  کا دعویٰ کرتے ہوئے سابقہ  حکومتوں پرقومی راز عوام سے چھپانے کا الزام لگانے والے عمران خان خود ہی  بتادیں کہ گزشتہ سال کے شروع میں وہ کس کے کہنے پر نریندر مودی کی حمایت کررہے تھے اور  یہ سیاسی ’ویژن‘ کس سے مستعار  شدہ  تھا؟ اسی طرح وہ یہ بھی بتادیں کہ  بھارتی پائیلٹ ابھے نندن کو رہا کرنے کا فیصلہ کس کے دباؤ اور مشورہ سے کیا گیا تھا؟   اس یک طرفہ خیر سگالی سے کیا مفاد حاصل کیا گیا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ایک طرف  پاکستانی حکومت   معمولی فضائی جھڑپ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے اپنے لوگوں کو پاک فوج کی برتری  و  مستعدی سے مسرور کرنے کی کوشش کررہی تھی اور دوسری طرف بھارتی پائیلٹ کو امریکی ہدایت اور دباؤ میں رہا کرنے کا اقدام کیا  جارہا تھا۔ کیا عمران خان اس قسم کے لین دین کو کسی لیڈر کی توہین   نہیں سمجھتے؟

کیا عمران خان اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ  نریندر مودی نے  انتخابات کے عین بیچ پاک فضائیہ کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارتی پائیلٹ کی رہائی کی صورت میں اس شکست کو اپنی کامیابی اور دھونس کی مثال بنا کر انتخابات میں فروخت کیا۔ اس وقت عمران خان اپنی سادہ لوحی میں یہی سمجھ رہے تھے کہ مودی کامیاب ہو کر آگے بڑھ کر انہیں گلے لگا لے گا اور مقبوضہ کشمیر کو پاکستانی شرائط پر ان کی جھولی میں رکھ دے اور وہ حقیقی معنوں میں ’قائد اعظم ثانی‘ بن جائیں گے۔ بدقسمتی سے خارجہ پالیسی اور  ملکوں کے  تنازعات خواب دیکھنے سے حل نہیں  ہوتے اور نہ ہی  کسی ایک خاص لیڈر کی وجاہت و شباہت  سے ان کا موافق حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔  عمران خان کو جو لوگ یہ بتا رہے ہیں کہ دنیا کے لیڈر  ان کی شخصیت کے سحر میں  مبتلا ہیں اور  بظاہر کم تر شخصیت کے حامل نریندر مودی  عالمی منظر نامہ پر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے، وہ ان کے ساتھ  دھوکہ کررہے ہیں ۔   ان باتوں پر بھروسہ کرکے عمران خان اہل پاکستان  کے ساتھ غلط بیانی کے مرتکب ہورہے ہیں۔  اس قوم کو سابقہ فوجی آمر اور عمران خان کے  ممدوح  ایوب خان کے دور میں  ایسا ہی دھوکہ دیا جاچکا ہے۔ 1965 کی جنگ کے بعد تاشقند معاہدہ کے موقع پر بھی ایوب  خان اور بھارت کے  وزیر اعظم آنجہانی لال بہادر شاستری    کا ایسا ہی موازنہ کیا گیا تھا۔ اس کے نتائج  آج سب کے سامنے ہیں۔

بھارت نے  گزشتہ برس اگست میں مقبوضہ کشمیر کو بھارتی فیڈریشن کی اکائی قرار دینے  کے بعد  نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسترد کردیا ہے بلکہ یہ نیا سیاسی و سفارتی مؤقف دنیا بھر سے تسلیم کروالیا ہے کہ کشمیر اس کا جائز حصہ ہے۔ کشمیری عوام ضرور بھارتی تسلط کے خلاف  جد و جہد میں مصروف ہیں۔ دنیا بھر کے محکوم عوام کی طرح وہ یہ کوششیں جاری رکھیں گے لیکن پاکستان کشمیر پر اپنا مقدمہ  ہار چکا ہےاور مقبوضہ کشمیر پر اپنے دعوے سے عملی طور پر دست بردار ہوچکا ہے۔ کیا عمران خان کو یہ حقیقت دکھائی نہیں دیتی؟  مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ کو بھارتی پارلیمنٹ کی قانون سازی کے ذریعے درست ثابت کرنے کے بعد  اب نریندر مودی اور بھارتی فوجی جنرل ’آزاد کشمیر‘ کوہتھیانے کی بات کرتے ہیں کیوں کہ ان کے نزدیک پورا کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ عمران خان جب اپنے بیانات میں بھارت کی طرف سے کسی بہانے سے حملہ کی دہائی دیتے ہوئے دنیا  سے  مدد طلب کرتے ہیں تو کیا وہ  بھارت کے  ان ہی مذموم ارادوں کے بارے میں اپنے اور اپنی حکومت کے خوف کا اظہار نہیں کرتے؟ سچ کڑو ا ہوتا ہے۔ بہت سے لیڈر  قومی مفاد کے نام پر اسے چھپانا ضروری سمجھتے ہیں لیکن   کیا عمران خان میں  اپنے حصے کا سچ عوام کو بتانے کا حوصلہ ہے  یا وہ سابقہ لیڈروں کی ’بزدلی‘ کے قصے سناکر ہی اپنا قد اونچا کرنا کافی سمجھتے ہیں؟

وزیر اعظم  نے  ماضی میں  پاکستان کے قبائیلی علاقوں پر کئے جانے والے امریکی ڈرون حملوں کے علاوہ ایبٹ آباد حملہ کو بھی پاکستان کی توہین قرار دیا ہے۔ پاکستان پر ڈرون حملوں کا سلسلہ سابقہ فوجی آمر اور عمران خان کے  ایک دوسرے ممدوح پرویز مشرف  کے دور میں شروع ہؤا تھا۔ یہ حملے نہ صرف پاکستان کی مرضی سے ہوتے تھے بلکہ پرویز مشرف کے دور میں تو اس مقصد کے لئے پاکستانی فضائی اڈے بھی استعمال ہوتے رہے ہیں۔ کیا عمران خان اس سچائی پر بھی روشنی ڈالنے کا حوصلہ کریں گے۔ اگر انہیں ایبٹ آباد حملہ میں قوم   کی توہین کا ہی کوئی پہلو دکھائی دیتا  ہے تو  کیا وہ بطور وزیر اعظم ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ جاری کرنے کا اقدام کرسکتے ہیں۔ اس رپورٹ سے  کسی درون خانہ راز برآمد ہونے کی ہرگز توقع نہیں کی جاسکتی کیوں کہ اسے بھی  عمران خان کے ایک تیسرے ممدوح  جسٹس (ر) جاوید اقبال کی نگرانی میں تیار کیا گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود  اس  رپورٹ کو عام کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کی تقریر کا سب سے حساس اور خطرناک پہلو اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینا تھا۔  اسامہ بن لادن پر 2001 میں  امریکہ پر نائن الیون حملے کرنے کا الزام عائد ہے۔ پاکستان نے کبھی اس الزام سے انکار نہیں کیا۔  عمران خان  امریکہ اور  افغان طالبان کے درمیان  جس معاہدہ کو اپنی حکومت کی شاندار کامیابی قرار دیتے ہیں ، اس میں طالبان نے القاعدہ سمیت  ہمہ قسم دہشت گرد گروہوں کو افغانستان  میں پناہ نہ دینے کا  وعدہ کیا ہے۔ یہ وہی نکتہ ہے جسے نہ ماننے کی وجہ  سے   طالبان کی حکومت گرانے کے لئے امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا۔  ملا عمر کی حکومت اسامہ بن لادن کو مہمان قرار دیتے ہوئے اسے امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کرتی تھی جس کی وجہ سے تنازعہ شروع ہؤا۔ بعد از خرابی بسیار اسی نکتہ پر  امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرکے افغانستان میں امن کی امید کی جارہی ہے۔

عمران خان  اب اسی  اسامہ بن لادن کو شہید  قرار دے کر عوام کو اپنی  بہادری اور  اصول پرستی کے سحر میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں بتانا چاہئے کہ کیا  صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران بھی انہوں نے یہی مؤقف اختیار کیا تھا اور اسامہ بن لادن کو ہیرو  قرار دیا تھا؟ اسامہ بن لادن  اور  القاعدہ کی دہشت گردی کے بارے میں دنیا بھر میں دو رائے نہیں ہیں۔ لیکن  پاکستان  کا وزیر اعظم قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اس شخص کوگلوریفائی  کررہا ہے۔  ملک کی سلامتی کو لاحق خطرات اور  ابتر معاشی صورت حال  میں یہ بیان قومی مفاد  کو زک پہنچانے کے مترادف ہے۔ یہ بالواسطہ طور سے دہشت گردی کی تائید سمجھی جائے گی ۔

بھارت  دنیا بھر میں پاکستان کو اسی حوالے سے پیش کرتا ہے۔ وزیر اعظم کا یہ بیان   دشمن کے ہاتھ میں ایک مؤثر  ہتھیار  بن جائے گا۔  عمران خان کو دوست سمجھ کر   ان کی سرپرستی کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ دراصل کسی کے دوست نہیں۔  اپنی نادانی  اور جوش خطابت میں وزیراعظم نے ایک ایسا خطرناک  بیان دیا ہے جس کا زہر نکالنے کے لئے برسوں سفارتی کوششیں کرنا ہوں گی۔

loading...