انسانی صحت اور عالمی ادارہ صحت

7 اپریل کادنیا بھر میں عالمی یومِ صحت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 1948میں اسی دن اقوامِ متحدہ (یونائیٹڈ نیشنز) کے اداروں میں ایک نئے ادارے کا اضافہ ہو تا ہے، یہ عالمی ادارہ صحت(ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) ہے۔ اسی نسبت سے 7اپریل کو ورلڈ ہیلتھ ڈے قرار دیا گیا۔

عالمی ادارہ صحت کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو بلا تفریق صحت کی معیاری سہولتوں کو یقینی بنانا ہے۔ اپنے اس مقصد کو یقینی بنانے کے لئے اس ادارے کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔عالمی ادارہ صحت کا  'فریم ورک کنوینشن آن ٹوبیکو کنٹرول' پہلا بین الاقوامی معاہدہ ہے جو باہمی گفت و شنید سے طے پایا۔ 21مئی 2003کو عالمی ادارہ صحت نے ایف سی ٹی سی کو اختیار کیا اور 27فروری 2005کو اس کا  باقاعدہ اطلاق ہوا۔ فریم ورک کنوینشن آن ٹوبیکو کنٹرول  کا مقصد ”تمباکو کے استعمال سے صحت، سماجی،ماحول      اور معاشی تبا ہ کن نتائج کولاحق خطرات سے موجودہ اور مستقبل کی نسلوں کو بچانا/محفوظ رکھنا ہے“۔

دنیا بھر میں مختلف ادارے اور تنظیمیں تمباکو کے استعمال کو روکنے اور کم کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔تمباکو کے استعمال کو روکنے یا کم کرنے کے لئے کام کرنے والے ادارے فریم ورک کنوینشن آن ٹوبیکو کنٹرول کے ضابطہ کار کے تحت کام کرتے ہیں، چونکہ عالمی ادارہئ صحت  اقوامِ متحدہ کا ایک ادارہ ہے اور فریم ورک کنوینشن آن ٹوبیکو کنٹرول   عالمی ادارہ صحت کے تحت ایک بین الاقوامی معاہدہ کے طور پر بنایا گیا ہے لہذا وہ تمام ممالک جو اقوامِ متحدہ کے رکن ہیں اور انہوں نے اس معاہدے پر دستخط کئے ہیں وہ اپنے ملکی قوانین کے ضابطے میں رہتے ہوئے کسی بھی سماجی تنظیم، این جی او وغیرہ کو  تمباکو نوشی کے صحت، ماحول اور مادی نقصانات کے بارے میں شعوری بیداری، قانون سازی کے لئے     انڈسٹری کے ہتھکنڈوں سے عوام کو با خبر رکھنے کے کاموں سے روک نہیں سکتے۔

اس کے ساتھ یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ سگریٹ انڈسٹری سے حاصل ہونے والا ٹیکس کسی بھی حکومت کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔چنانچہ حکومتیں ایک طرف تو کئے گئے معاہدے کے تحت پابند ہیں کہ وہ سگریٹ/تمباکو کی پروڈکشن، پروموشن اور استعمال کے خلاف موٗثر قانون سازی کریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس کا تر نوالہ چھوڑنا بھی اتنا آسان نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اوّ ل تو سگریٹ انڈسٹری کے مفادات کے خلاف قانون سازی ایک مشکل کام ہوتا ہے، دوسرے سگریٹ انڈسٹری بہت مالدار ہے اور اپنے مفادات کا تحفظ کرنا خوب جانتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے فریم ورک کنوینشن آن ٹوبیکو کنٹرول کے تحت تمباکو نوشی کو روکنے کے حوالے سے قانون سازی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ کم اور متوسط آمدنی والے ملکوں میں ٹوبیکو کنٹرول کی صورتِ حال اچھی نہیں تھی۔  معاہدے کے بعد ان ممالک میں بھی ٹوبیکو کنٹرول کے کاموں میں مؤثر پیش رفت ہوئی۔سگریٹ پیک پر وارننگ کی تحریر، تصویری وارننگ، کھلے سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی جیسے اقدامات اسی معائدے کے مثبت نتائج ہیں۔

جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے 1948میں یہ ادارہ قائم ہوا تب سے لے کر 2017تک یہ واحد ادارہ تھا جو دنیا بھر میں تنہا ٹوبیکو کنٹرول کے کام کرتا رہا۔ 2017  میں ایک نیا ادارہ وجود میں آیا جس نے  ’اینڈ سموکنگ‘ کا سلوگن اختیار کیا اور اپنے کام کی بنیاد سائنسی ریسرچ پر رکھی۔اس ادارے کا نام  ’فاؤنڈیشن فار سموک فری ورلڈ‘  ہے۔ان  کی مشن سٹیٹمنٹ میں کہا گیاہے کہ ”ہم دنیا بھر سے سگریٹ نوشی کے نتیجے میں ہونے والی اموات کو کم کرنے کے مشن کے سا تھ کا م کر رہے ہیں۔عالمی سطح پر ترکِ تمباکو نوشی اور اس کے مضر اثرات میں کمی لانے سے متعلق مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی منفرد ضروریات کو مد نظر رکھنا اور ان سے نمٹنے کے لئے اقدامات کرنے ہونگے“۔فاؤنڈیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ہم واقعی دنیا کو  ’سگریٹ نوشی سے پاک‘  بنانے کے عمل کو تیز کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں نئے تصورات کو دریافت کرنا انہیں پرکھنا اور جائزہ لینا اور انہیں قبول کرنا ہو گا۔  

 کتنا اچھا ہوتا اگر عالمی ادارہ صحت اور فاؤنڈیشن فار سموک فری ورلڈ دونوں باہمی اشتراک سے دنیا کو تمباکو کی لَت سے پاک کرنے کے لئے مشترکہ جدوجہد کرتے، مگر ایسا نہ ہوا۔ عالمی ادارہئ صحت نے نہ جانے کیوں فاؤنڈیشن کو حریف جانا شاید انہیں اپنی اجارہ داری کے ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہوا۔ 31مئی کو عالمی سطح پر ’ سگریٹ سے انکارکا دن‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس سال 31مئی کے دن کو منانے کے لئے عالمی ادارہئ صحت اور اس کی معاون تنظیموں نے عجیب پیغام دئیے جو ان کے اپنے مشن کی نفی کرتے نظر آئے۔ مثلاً ٹوبیکو کنٹرول پر کام کرنے والی ایک تنظیم دی یونین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سگریٹ نوشی سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے

 (Harm Reduction Products-HRPs)

والی مصنوعات پر پابندی عائد کرئے۔

اگر آپ سگریٹ نوشی چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ویپنگ (ای۔ سگریٹ)آپ کی مدد گار ہو سکتی ہے جبکہ آپ ویپنگ کے ساتھ کونسلنگ سے بھی مدد لیں“ (سی این این)۔ یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک نئی سٹڈی میں کہی گئی ہے۔

                   www.myhighplains.com/news/for-your-health/study-e-cigs-more-effective-than-counseling-alone/  

 پاکستان میں کام کرنے والا ادارہ اس کی مخالفت کر رہا ہے یہ صورت حال تشویشناک ہے۔

اگر عالمی ادارہ صحت کچھ مختلف طرزِ عمل اختیار نہیں کرتا اور تمباکو پالیسی میں جدّت کو قبول نہیں کرتاتو ادارہ دل، کینسر اور پھیپھڑوں کے امراض میں کمی کے اہداف کے حصول میں بہت پیچھے رہ جائے گا۔لوگوں کو سگریٹ نوشی کی بجائے کم خطرناک متبادل اختیار کرنے کی ترغیب دینا 2030تک بیماریوں کے دباؤ میں بہت کمی لا سکتا ہے،اگر عالمی ادارہئ صحت اس خیال کو رد کرنے کی بجائے اسے قبول کرے“۔ (پروفیسر رابرٹ بیگل ہول، یونیورسٹی آف آکلینڈ۔نیوز ی لینڈ)

 صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے تمباکو پالیسی کے بین الاقوامی شہرت کے حامل بہت سے ماہرین نے کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں عالمی ادارہئ صحت کی نئی ٹیکنالوجی سے روایت پرستانہ دشمنی پر مایوسی ہے۔انہیں خدشہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کا ادارہ ئ  صحت سگریٹ نوشی کی وجہ سے کروڑوں افراد کی قبل از وقت اموات کو روکنے کا موقع ضائع کر دے گا۔

یہ تو ایسا ہے جیسے عالمی ادارہ صحت بھول چکا ہے کہ اس کا کام زندگیاں بچانا اور بیماریوں میں کمی لانا ہے۔ ہم صارفین کو  سگریٹ نوشی کی بجائے کم خطرناک مصنوعات کو اپنانے میں مدد دے کر اور ان کی حوصلہ افزائی کر کے یہ کام کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان مصنوعات کے نسبتاً بہت کم نقصانات کو ایمانداری سے تسلیم کریں اور دانشمندانہ قوائد و ضوابط کے ذریعے متبادل اختیار کرنے کے عمل کو پُر کشش بنائیں“۔(ٹام مِلر۔سابق اٹارنی جنرل امریکہ)

پاکستان اور دنیا بھر سے تمباکو نوشی کا مکمل خاتمہ کرنا بہت بڑا چیلنج ہے۔تمباکو انڈسٹری بہت وسیع اور مضبوط نیٹ ورک ہے۔ روزگار مہیا کرنے کے حوالے سے اور انکم ٹیکس کے حجم کو دیکھتے ہوئے کسی بھی ملک کیلئے تمباکو کی کاشت کو روکنا اور صنعت کی مکمل بندش کسی بڑے بحران کو بھی پیدا کر سکتی ہے۔ دوسری طرف انسانی صحت سے مقدم اور کیا ہو سکتا ہے۔سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والی کینسر، دل اورپھیپھڑوں کی جان لیوا بیماریاں اور ان پر اُٹھنے والے اخراجات کے پیشِ نظر بہتر یہی ہے کہ عالمی ادارہئ صحت فریم ورک کنوینشن آن ٹوبیکو کنٹرول بھی جدید تحقیق سے مستفیض ہوتے ہوئے سگریٹ نوشی کو ترک کرنے کے متبادل ذرائع اور مصنوعات کی مخالفت کرنے کی بجائے اسے ترکِ تمباکو نوشی کی جدو جہد میں ایک انقلابی اقدام کے طور پر دیکھیں اور فاؤنڈیشن فار سموک فری ورلڈ کے شانہ بشانہ انسانیت کی بہتری کے لئے کام کریں۔

loading...