’تاریک ایام‘ کا اردو ترجمہ کتابی صورت میں شائع ہوگیا

تاریک ایام ریاستی جبر سے تنگ آکر تارکینِ وطن ہونے والے باپ اور بیٹی کے درمیان نفسیاتی کشمکش کا ایک مکالمہ ہے۔ یہ کہانی ریاستی جبر، متعصبانہ امیگریشن قوانین اور غیر انسانی سمگلنگ جیسے مکروہ جرائم کا خلاصہ پیش کرتی ہے۔

ہینی مانکل کے لکھے ہوئے اس اسٹیج پلے کو پہلی دفعہ کتاب کی صورت شائع کیا جارہا ہے۔ اس ڈرامہ کا اردو ترجمہ پاکستانی نژاد نارویجن آرٹسٹ ٹونی عثمان نے  کیا ہے۔

ہینی مانکل سویڈن کے دارلحکومت اَسٹاک ہولم میں 1948 میں پیدا ہوئے۔ 1966 میں وہ تعلیم کے لئے پیرس چلے گئے جہاں ان کی شناسائی ترقی پسند رحجانات سے ہوئی۔ 1972 سے لے کر 1981 تک وہ ناروے میں مقیم رہے اور تھیٹر کے لئے کام کرتے رہے۔ مانکل کا کہنا تھا کہ وہ دنیا میں استحصال اور لوٹ مار کے خلاف مزاحمت میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے لکھتے ہیں۔

سویڈش زبان میں لکھے گئے اس ڈرامہ کا اردو ترجمہ  ٹونی عثمان نے کیا ہے۔ وہ  تقریباً تین دہائیوں سے ناروے میں ٹیلی ویژن، تھیٹر اور ریڈیو سے منسلک ہیں۔ ٹونی عثمان پروڈکشنز کے نام سے ان کی ایک رجسٹرڈ تھیٹر کمپنی ہے جس کے وہ آرٹسٹک ڈائریکٹر ہیں۔ اسی کمپنی کے بینر تلے ہی تاریک ایام کو 2018 میں اوسلو میں اسٹیج پر پیش کیا گیا تھا۔ جسے ہر حلقے میں پذیرائی نصیب ہوئی تھی۔

ایک سویڈش مصنف کے ڈرامہ کو اردو قالب میں ڈھال کر ٹونی عثمان نے اردو میں مغربی ادبی روایت  کو متعارف کروانے کے سلسلہ کو آگے بڑھایا ہے۔ اس طرح اردو قارئین مغربی ادبی انداز، سوچ اور فکری جہت سے آگاہ ہوسکتے ہیں۔

ہینی مانکل کا یہ ڈرامہ چونکہ پناہ کی تلاش میں نکلے ہوئے ایک باپ اور اس کی نوجوان بیٹی کے خوف، مشکل اور غیر یقینی کے بارے میں ہے اس لئے اسے ہمارے عہد کے تناظر میں بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔ اقوام متحدہ نے مہاجرین کو اس وقت دنیا کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہونے والے لوگوں کی تعداد 7 کروڑ بتائی جاتی ہے۔ ان میں سے 4 کروڑ اپنے ہی ملک میں بے گھر ہیں اور پناہ کی تلاش میں ہیں جبکہ باقی ماندہ 3 کروڑ لوگ دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

پناہ کی تلاش میں اپنا گھر اور خاص طور سے کسی دوسرے ملک میں پناہ حاصل کرنے والے لوگوں کو جس ذہنی اور جذباتی کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے، ہینی مانکل نے ’تاریک ایام‘ میں اس کا بخوبی احاطہ کیا ہے۔ پاکستان میں  بھی افغان مہاجرین کی بڑی تعداد سال ہا سال سے مقیم ہے۔ اس پس منظر میں اردو میں اس ڈرامہ کی پیش کش سے اہنے گھروں سے کسی مجبوری کے عالم یا جنگ کی وجہ سے ہجرت کرنے والوں کی صورت حال سے آگاہی و تفہیم میں مدد ملے گی۔

یہ پلے ہجرت کے ان پہلوؤں کو سامنے لاتا ہے، جو ان حالات سے گزرے بغیر سمجھنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس طرح انسانوں کے درمیان انسیت اور یک جہتی کے  فروغ کے لئے بھی اس کتاب کا مطالعہ اہم ہوگا۔

’تاریک ایام‘ کو لاہور کے پبلشر فولیو بکس نے شائع کیا ہے۔ مترجم کے مطابق یہ کاتب جلد ہی ناروے میں بھی دستیاب ہوسکے گی۔

loading...