چھ ماہ بعد کیا ہونے والا ہے؟

وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے گزشتہ روز کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں وائس آف امریکہ کو وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے انٹرویو پر بحث ہوئی تھی۔ اور وزیر اعظم نے کابینہ کے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ  وہ پارٹی کے اندرونی معاملات پر میڈیا میں گفتگو نہ کریں۔ وزیر اعظم نے فواد چوہدری کے علاوہ وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کو بھی دیگر ارکان پر تنقید کرنے سے روک دیا اور وزیروں سے کہا کہ چھ ماہ کے اندر کارکردگی بہتر بنائیں ورنہ حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے۔

کابینہ اجلاس کے بارے میں سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ اجلاس میں متعدد وزرا نے ایک دوسرے پر کڑی تنقید کی۔ کابینہ   کا اجلاس الزامات اور جوابی الزام تراشی   کا اکھاڑہ بنا رہا ۔ وزیر اعظم نے مختلف وزیروں کو بات کرنے سے روکا   تاکہ اجلاس کا ماحول خراب نہ ہو۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیرمنصوبہ بندی اس عمر نے  فواد چوہدری کے  انٹرویو میں عائد کئے گئے  ان الزامات کی  تردید کی کہ وہ حکومت میں دھڑے بندی کا سبب بن رہے ہیں۔ فواد چوہدری نے  اپنے مؤقف پر قائم رہنے پر اصرار کیا اور کہا کہ  انہوں نے سہیل وڑائچ کے استفسار پر ملک کے سیاسی حالات پر  جائزہ پیش کیا تھا اور وہ اپنی رائے پر قائم ہیں۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان  کی رائے پر اعتراض کرنے والوں کو پورا انٹرویو سننا چاہئے تاکہ وہ گفتگو کا  پس منظر جان سکیں۔ وزیر اعظم نے فواد چوہدری کو خاموش کروایا تو وزیر آبی وسائل شکایات کا پنڈرا لے کر میدان میں کود پڑے ۔ انہوں نے نہ صرف فواد چوہدری کی تائد کی بلکہ الزام لگایا کہ متعدد سینئر وزیر  اپنا کام کرنے کی بجائے ، ان کی وزارت  میں ناروا مداخلت کرتے ہیں۔ خبروں کے مطابق واوڈا کا لہجہ اتنا ترش ہوگیا کہ وزیر اعظم کو انہیں ’غصہ پی جانے‘ کا مشورہ دینا پڑا۔

کابینہ میں فواد چوہدری کے انٹرویو کے حوالے سے ہونے والی گفتگو  تعمیری  نہیں تھی بلکہ اس سے وزیر اعظم کے قریبی رفقا میں دھڑے بندی کی صورت حال کھل  کر  سامنے آگئی ہے۔ ان حالات میں وزیر اعظم نے صرف آگ بجھانے کی کوشش کی یا یہ کہا کہ پارٹی کے اندرونی معاملات کو میڈیا میں زیر بحث نہ لایا جائے۔    البتہ کابینہ کے ارکان  کی  سیاسی بلوغت کا یہ عالم ہے کہ وہ اختلاف اور الزام میں تمیز کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ایسے میں  تحریک انصاف یا عمران خان    سے کیوں کر   بہتر کارکردگی کی توقع  کی جاسکتی ہے۔   کابینہ واضح  طور سے دو دھڑوں میں تقسیم ہے اور دونوں دھڑے ایک دوسرے پر  سازشیں کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ یا   اپنی وزارت  کا ریکارڈ پیش کرنے کی بجائے دوسروں کے کام میں  کیڑے نکالنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ایسے ساتھیوں کے ہوتے  کوئی بھی وزیر اعظم ڈیلور کرنے یا حالات  کو تبدیل کرنے  میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔

وزیروں کی باہمی لڑائیاں اور ایک دوسرے کے خلاف ریشہ دوانیاں فواد چوہدری کے انٹرویو کا محض ایک حصہ تھا۔ یہ اس انٹرویو کا اہم ترین پیغام بھی نہیں تھا۔ لیکن اس معاملہ کو کابینہ کے اجلاس میں اہم ترین موضوع کی حیثیت حاصل رہی۔   اگر یہ بات درست ہے کہ سیاسی جمہوری نظام میں حکومت کا کوئی بھی رکن میڈیا گفتگو میں اپنی رائے کا اظہار کرنے میں آزاد ہونا چاہئے تو دوسری طرف حکومت یا حکمران پارٹی کا بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ اختلافی امور پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے  مناسب مواقع کا اہتمام کریں۔ کیا عمران خان نے بطور وزیر اعظم اور پارٹی چئیرمین اس بات کا اہتمام کیا ہے کہ وہ  اپنے ساتھیوں کے باہمی تبادلہ خیال، مختلف موضوعات پر رائے کے اظہار اور اتفاق  پیدا کرنے کے لئے کوئی ایسا فورم فراہم کریں جہاں میڈیا کی نگاہوں اور کانوں سے دور  اختلاف سے پہلے اتفاق رائے سامنے آجائے؟ عمران خان سے بہتر کوئی نہیں جانتا ہو گا کہ وہ پارٹی اور حکومت کو شخصی اختیار کے تحت چلارہے ہیں۔ سارے فیصلے کرنے کا حق و اختیار انہی کے ہاتھ میں ہے۔  یہ طریقہ پارلیمانی طریقہ کے برعکس ہے جہاں فیصلے پارلیمنٹ اور دیگر مناسب سیاسی فورمز پر کئے جاتے ہیں اور اختلاف رائے کا موقع بھی فراہم ہوتا ہے۔

 تحریک انصاف کی حکومت میں پارلیمنٹ کو اپوزیشن کی تنقید کے  خوف میں  ایک مردہ ادارہ بنادیا گیا ہے ۔  کابینہ یا  پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں  ہر شخص عمران خان کو خوش کرنے اور ان کے قریب ہونے کی کوشش میں  رہتا ہے۔  اس لئے دیکھا جاسکتا ہے کہ کابینہ کی دھڑے بندی   سیاسی و انتظامی معاملات پر کسی اصولی اختلاف کی بنیاد پر استوار نہیں ہے بلکہ  اس کی بنیاد سرا سر انفرادی اور ذاتی ہے۔  کچھ لوگ عمران خان سے قربت رکھنے والوں سے بدگمان ہیں اور کچھ  وزیر اعظم کو دوسروں کے خلاف بدگمان کرنے کے مشن پر گامزن ہیں۔ ایسے ہی  حالات میں سازشیں کرنے یا ان کا الزام لگانے کا ماحول پروان چڑھتا ہے۔  یہ حالات پہلے بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں لیکن فواد چوہدری کے انٹرویو سے واضح ہؤا ہے کہ صورت حال  دگرگوں  ہے۔ کابینہ کے ارکان میں باہمی اعتماد کی کمی ہے اور وہ ملک و قوم کو درپیش مسائل   حل پر توجہ دینے کی بجائے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسی کابینہ سے چھ ماہ  تو کیا چھ سال میں بھی کسی کارکردگی کی امید نہیں کی جاسکتی۔

دلچسپ بات ہے کہ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق   عمران خان نے  اس اجلاس کے دوران اپنے وزیروں پر  زور دیا کہ وہ کارکردگی دکھائیں۔ ان کے پاس چھ ماہ ہیں پھر حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔ عمران خان اور ان کے ساتھی جس طرح حکومتی امور  چلارہے ہیں اس کی روشنی میں یہ  سمجھنا دشوار نہیں ہے کہ  چھ ماہ میں اس طریقہ میں کون سی ایسی تبدیلی لائی جاسکتی ہے جس سے امور حکومت میں  180 ڈگری فرق پڑ جائے گا۔ وزیر اعظم اور ان کے  ساتھی تو وہی کریں گے   جو وہ گزشتہ 20 ماہ کے دوران کرتے رہے ہیں۔  اس کا ایک نمونہ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز اسلام آباد کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کورونا وائرس کے حوالے سے اپنی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے بھی دیا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک میں کورونا متاثرین کی تعداد  دو لاکھ اور مرنے والوں کی چار ہزار تک پہنچنے والی ہے ، وزیر اعظم لاک ڈاؤن مخالف تھیسس  پیش کرنا   سیاسی بالادستی کے لئے اہم سمجھتے ہیں۔ جس لیڈر  میں حالات کو سمجھنے، ایک وبا کے بارے میں    ماہرین کی رائے کو اہمیت دینے اور  اپنے طرز عمل سے پیدا کئے ہوئے حالات  کی ذمہ داری قبول کرکے آگے بڑھنے کا حوصلہ نہ ہو،  وہ کیوں کر اختلاف کی صورت میں اتفاق رائے پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسا لیڈر خود اپنی تعریفیں کرنے، دوسروں سے اپنی ستائش سن کر خوش ہونے اور کابینہ میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے والے وزیروں کو خاموش کروا کے مسائل نظر انداز  تو کرسکتا ہے، انہیں حل کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں ہوتا۔        ان حالات میں چھ ماہ  میں حالات کی تبدیلی کی بات کرنا   درپیش حالات سے نابلد ہونے کے مترادف ہے۔

پاکستان کومعاشی، سفارتی، سلامتی اور حکمرانی کے جن مسائل کا سامنا ہے، کوئی  ارسطو  دوراں بھی انہیں فوری طور سے حل کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ کجا ایک ایسا لیڈر جو اپنی ناک سے آگے  نہ دیکھ سکتا ہو اور ایسی کابینہ جس کا ہر رکن اپنے اختیار میں اضافہ کرنے  کی تگ و دو میں ہو۔  یہ لوگ کیوں کر قومی اہمیت کے مسائل  حل کرنے کا اقدام کرسکتے ہیں۔  مسائل حل کرنے سے پہلے ان کی تفہیم اہم  ہے۔  وزیر اعظم کا  دعویٰ ہے کہ  چند لاکھ لوگوں میں کورونا  وائرس کے دوران 12 ہزار روپے فی خاندان تقسیم کرکے اور سرکاری سرپرستی میں لنگر کے انتظام  سے کورونا  کا کامیابی سے  تدارک کرلیا گیا ہے۔ اور اسی لئے پاکستان کے حالات بھارت اور  دیگر ہمسایہ ملکوں کے علاوہ یورپ اور امریکہ سے بھی بہتر ہیں۔ ایسی تفہیم رکھنے والا لیڈر پاکستان کو درپیش گوناگوں اور تہ در تہ مسائل کو کیسے حل کرے گا۔  ایسے زعم میں مبتلا لیڈر کیوں کر حالات کی سنگینی کو سمجھنے اور انہیں تبدیل کرنے کا اقدام کرسکتا ہے۔

میڈیا رپورٹ میں البتہ عمران خان کے حوالے سے ایک بار پھر   یہ بات سامنے لائی گئی ہے کہ وزیر اعظم نے اپنے ساتھیوں کو بتایا ہے کہ ان کے پاس چھہ ماہ کا وقت ہے۔ اس کے بعد حالات قابو میں نہیں رہیں گے۔ فواد چوہدری نے اپنے انٹرویو میں بھی یہی بات کہی تھی اور انہوں نے بھی عمران خان کا ہی حوالہ دیا تھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چھ ماہ بعد کیا  ہونے والا ہے۔ پاکستان کے آئینی جمہوری انتظام میں  اسمبلی پانچ سال کے  لئے چنی جاتی ہے اور جب تک کسی پارٹی کو ایوان کی حمایت حاصل رہے ، وہ حکومت کرسکتی ہے۔ اگرچہ کسی بھی حکومت سے بہتر کارکردگی کی توقع کی جاتی ہے لیکن کسی قانون میں یہ نہیں  لکھا کہ اگر نااہل شخص منتخب   ہو کر آجائے گا تو اسے اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑے گا۔ پھر عمران خان  اپنی کابینہ کو چھ ماہ کا انتباہ کیوں دے رہے ہیں؟ کیا وہ چھ ماہ بعد نااہل وزیروں کو کابینہ سے فارغ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ بات واضح  کرنے کی ضرورت تھی کہ معاملہ  نالائق وزیروں کے بارے میں ہے۔ لیکن چھ ماہ کی تکرار سے تو یہ تاثر قوی ہوتا ہے کہ کارکردگی نہ دکھانے پر یہ حکومت فارغ ہوجائے گی۔ مگر کیسے؟

کیا عمران خان اسمبلیاں توڑ کر نیا انتخاب کروانا چاہتے ہیں یا انہیں اندیشہ ہے کہ ملک میں  آئینی طریقہ   کے علاوہ  بھی تبدیلی  کا کوئی طریقہ موجود ہے۔ کیا ملک کے وزیر اعظم ملک   میں ماورائے آئین  فیصلوں اور اقدامات کی توثیق کررہے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ عمران خان اس پہلو سے قوم کو اعتماد میں لیں اور بتائیں کہ چھ ماہ بعد کیا ہونے والا ہے اور کون ان کے اقتدار کے لئے خطرہ بن سکتا ہے؟

loading...