فواد چوہدری کس کے پیغامبر ہیں؟

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے  وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس چھ ماہ کا وقت ہے۔ اگر حکومتی کارکردگی بہتر نہ ہوسکی تو معاملات دوسری طرف جاسکتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے  چھ ماہ مدت کی  بات   وزیر اعظم کی طرف سے  کہی ہے  لیکن اس  انٹرویو ، اس کے طریقہ اور وائس آف امریکہ کے ذریعے اسے نشر کروانے سے یہ بات واضح ہوجانی چاہئے  کہ فواد چوہدی نے درحقیقت کس کا پیغام کس کو پہنچانے کی کوشش کی ہے؟

اس انٹرویو اور اس کے بنیادی پیغام  کی روشنی  میں فطری طور سے پہلا سوال تو یہی بنتا ہے کہ کیا یہ پیغام جہاں پہنچانا مطلوب ہے ، وہاں پہنچ گیا ہے اور کیا  اس کے نتیجہ میں معاملات  درست کرنے کے لئے   کارروائی  دیکھنے میں آئے گی؟ اس حوالے سے  فواد چوہدری نے جو مثال دی ہے وہ خاصی دلچسپ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’تحریک انصاف  کی حکومت اور وزیرِ اعظم عمران خان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کی گئی تھیں۔ یہ توقعات نٹ بولٹ ٹھیک کرنے کے لیے نہیں بلکہ پورے نظام کی اصلاح کے لئے تھیں۔ اس لئے اس حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کا پیمانہ دوسروں سے مختلف ہے۔ اس میں ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں کہ ڈیلیور نہیں کر سکے‘۔ اس بیان میں اگر ’نٹ بولٹ‘ کو بدعنوانی کا ترجمہ  یامتبادل سمجھا جائے  توکہا  جاسکتا ہے کہ  فواد چوہدری کی معرفت پہنچائے جانے والے پیغام کا مقصد  یہ ہے  کہ عمران خان کو ’کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘ کی صدائے حق  بلند کرنے اور اس کی گونج کا پیچھا کرنے کے لئے نہیں  بلکہ  نظام  کی تبدیلی کے لئے سامنے لایا گیا تھا۔ اس تناظر میں  یہ ایک علیحدہ سوال ہے کہ ان سے  کون سا نظام ٹھیک کرنے کی توقع باندھ لی گئی تھی۔

 یہاں یہ بحث لایعنی  ہے کہ کسے عمران خان سے نظام تبدیل کرنے کی توقعات تھیں اور  نظام میں تبدیلی کی بجائے ان کے ’نٹ بولٹ‘  ٹھیک کرنے سے عاجز آکر  اب فواد چوہدری  جیسے ہرکاروں کے ذریعے اصلاح احوال  بہتر کرنے کا انتباہ  دیا جا رہا ہے۔ سوال تو  پیدا ہوتا ہے کہ یہ پیغام کون دے رہا ہے؟   لیکن  زیادہ گہرائی میں جانے کی بجائے یہ تصور کرلیتے ہیں کہ یہ توقعات عمران خان کو ووٹ دے کر منتخب کرنے والوں  نے ان سے وابستہ کی تھیں۔   لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوگا کہ آخر فواد چوہدری کیوں کر عوامی خواہشات اور ضرورتوں کے نباض بن گئے۔ وہ ایک کے بعد دوسری حکومت میں شامل ہونے کا کارنامہ عوام کی تائد و حمایت سے انجام نہیں دیتے بلکہ اس کی وجہ ان کی  خفیہ بے پایاں صلاحیتیں ہیں جو انہیں پرویز مشرف سے تحریک انصاف تک کی حکومت میں ’لاڈلا‘ بنائے رکھتی ہیں۔ اس پس منظر کے ساتھ فواد چوہدری  کو عوامی امنگوں کا ترجمان سمجھنا سنگین غلطی ہوگی۔

ایک لمحہ کے لئے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ فواد چوہدری نے  عوام  کی پریشانی اور تحریک انصاف کی گرتی ہوئی مقبولیت کے تناظر میں ایک جمہوری طریقہ اختیار کرتے ہوئے  اپنی ہی حکومت کی غلطیوں اور  ریشہ دوانیوں  کو مسترد کرنا ضروری سمجھا ہے تو اسے ان کی انفرادی رائے تو کہا جاسکتا ہے لیکن تحریک انصاف کے ووٹروں اور عمران خان کے حامیوں اور جاں نثاروں کی رائے سمجھنا شدید غلطی ہوگی۔ عمران خان کو  منتخب کرنے میں ووٹ کے ذریعے کردار ادا کرنے والے  تو بدعنوانی  اور بدعنوانوں کے خلاف عمران خان کی بلند آہنگ مہم جوئی کے دل و جان سے حامی ہیں اور اس نعرے کے سحر  میں گرفتار ہیں کہ ایک ایمان دار لیڈر چونکہ بے ایمانوں کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کررہا ہے ، اسی لئے اسے سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں  یقین  بھی ہے کہ  کرکٹ کے کسی میچ کی طرح  عمران خان  اس سیاسی مقابلے میں بھی سرخرو ہوں گے۔   اب فواد چوہدری جب یہ پیغام دے رہے ہیں  کہ انہیں نٹ بولٹ ٹھیک کرنے کے لئے نہیں بلکہ کسی بڑے کام کے لئے لایا گیا تھا تو اس میں  عمران خان کے حامیوں  کی آواز کو  نہیں سناجاسکتا۔  وہ  تو نٹ بولٹ ہی ٹھیک کروانا چاہتے ہیں ۔

فواد چوہدری نے اپنی  تمام سیاسی مہارت  بروئے کار لاتے ہوئے  اس بڑے منصوبہ کی طرف اشارہ بھی کردیا ہے جو   ان کے  بقول اقتدار سنبھالنے سے پہلے  عمران خان کا ’ویژن‘ تھا لیکن  بعد میں وہ یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔  فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’مشرف دور میں صوبوں سے اختیارات بلدیات تک منتقل کیے گئے تھے لیکن مرکز سے اختیارات صوبوں کو منتقل نہیں کئے گئے۔ اٹھارہویں ترمیم نے اختیارات مرکز سے صوبوں کو منتقل کر دیے لیکن صوبوں نے بلدیات کے اختیارات بھی خود لے لئے۔ دو عہدے اس وقت تمام برائیوں کی جڑ ہیں۔ ایک وزیراعلیٰ اور دوسرا چیف سیکرٹری۔ یہ وزیراعظم سے بھی زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں‘۔

کیا  کابینہ کے ایک تجربہ کار رکن  نے اس انٹرویو کے ذریعے  عمران خان  کو ان کا ’ویژن‘ یاد دلانے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ پوری دلجمعی سے اٹھارویں ترمیم  کو ’متوازن‘ بنوانے اور این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا  ’ناجائز‘ حصہ کم کروانے کے حقیقی منصوبے کی طرف توجہ دے سکیں؟ یہ توجہ کیسے  مبذول کی جاسکتی ہے؟ اس کے لئے عمران خان کو نٹ بولٹ ٹھیک کرنے کا ’کھڑاک‘ بند کرکے افہام و تفہیم کا دروازہ کھولنا پڑے گا۔ انہیں  مقبول نعروں کے  سحر سے نکل کر ایک سیاسی لیڈر کی طرح فواد چوہدری جیسے ساتھیوں سے  مشورہ کرنا  ہوگا کہ  پارلیمنٹ میں کون سے گروہ اور پارٹیاں اس منصوبہ کی تکمیل میں ان کے ہاتھ مضبوط کرسکتی ہیں۔  اس کام کے لئے انہیں    ’انقلابی اور منتقم مزاج قائد‘ سے مفاہمانہ رویہ اختیار کرنے والا لیڈر بننا ہوگا۔ پھر شاید   بظاہر  مخالف سیاسی   عناصر  اس ’عظیم منصوبہ‘ میں حکومت کا ہاتھ بٹانے پر راضی ہوجائیں۔  پھر شاید پیپلزپارٹی کو راہ راست پر لانے یا مین اسٹریم سے کاٹنے کی راہ ہموار ہوجائے۔ موجودہ حالات  میں عمران خان اس منصوبہ  یا  جیسا کہ فواد چوہدری نے بیان  کیا اپنے پرانے ’ویژن‘ سے بھٹک رہے ہیں۔

فواد چوہدری نے اس بھول  کی سزا کی طرف بھی اشارہ کردیا ہے یعنی چھ ماہ میں حالات بہتر نہ ہوئے تو  شاید معاملات  کوئی دوسرا رخ اختیار کرلیں۔ انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ حالات کون سا نیا رخ اختیار کرسکتے ہیں لیکن  اسے اس پیغام کا اہم ترین حصہ  سمجھا جاسکتا ہے  کہ تحریک انصاف اور عمران خان کی قیادت   کے حوالے سے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ کیا فواد چوہدری کو یہ غم ہے  کہ  وہ جس حکومت کا حصہ ہیں اسے خطرہ لاحق  ہے؟ اس کا امکان  بہت کم ہے۔  اسی انٹرویو میں  سوال کیا  گیا کہ’ آپ تین سال بعد خود کو کہاں دیکھتے ہیں؟‘ فواد چوہدری نے کہا کہ ’پاکستان میں چھ چھ ماہ کی پلاننگ ہوتی ہے۔ آج کے دور میں تین سال بہت زیادہ عرصہ ہے‘۔   یہ ایک ایسے وزیر کا بیان ہے جو قومی اسمبلی کا رکن ہے جس کی مدت پانچ برس ہوتی ہے اور موجودہ اسمبلی 2023 تک کے لئے چنی گئی ہے۔

کسی کو اس بات پر حیرت نہیں ہوگی کہ اگر عمران خان کی جگہ 6 ماہ میں  ملک کا کوئی نیا وزیر اعظم  ہؤا تو فواد چوہدری اس کی کابینہ کا بھی حصہ ہوں۔ کون سا رہنما ہے جو ایسے دوراندیش شخص کو ساتھ لے کر نہیں چلنا چاہے گا جو کشتی ڈوبنے سے  نصف برس پہلے ہی  متنبہ کرنے کا ہنر جانتا ہو۔      فواد  چوہدری  کے اس بیان کے بعد اگر ملک میں حکومت  کی تبدیلی اور تحریک انصاف کی مشکلات  کے بارے میں مباحث کا ایک نیا باب کھل جائے تو یہ حیرت کا سبب نہیں ہوگا۔  لیکن یہ تبدیلی کیسے آئے گی؟ اگر عوام عمران خان سے نالاں ہیں تو انتخابات کے بغیر کوئی تبدیلی ممکن  نہیں ہے۔ اگر پارلیمنٹ  کی اکثریت وزیر اعظم کی قیادت سے پریشان ہے تو  اس کے پاس تحریک عدم اعتماد کا اختیار ہے۔ ایسے میں فواد چوہدری انٹرویو دینے کی بجائے  وزیر اعظم کو مشورہ دیتے  کہ   پارلیمنٹ کو مطمئن کیا جائے۔ لیکن   انٹرویو میں  فواد چوہدری نے سہیل وڑائچ کو  بتایا ہے   کہ وزیراعظم آج کل ان کے مشورے نہیں مانتے۔ لیکن وہ مشورے دیتے رہتے ہیں‘۔ شاید اسی لئے انہیں انٹرویو کے ذریعے مشورہ دینے پر مجبور ہنا پڑا ہو۔

وفاقی وزیر نے   حکومت کی کارکردگی کو ناقص تو  کہاہے لیکن عمران خان کو اسلامی دنیا کا سب سے عظیم لیڈر بھی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کابینہ  کی کارروائی پر اپنا سیاسی  فلسفہ استوار کرکے اس کا اعلان کرنے اور پارٹی کی اندرونی لڑائی کا بھانڈا پھوڑ کر  عمران خان کو بیک وقت بطور وزیر اعظم اور بطور پارٹی چئیر مین چیلنج کیا  ہے۔ انہوں نے  اپنے لیڈر کے خلاف جو چارج شیٹ پیش کی ہے اس میں انہیں نااہل  بتایا گیا ہے ۔  فواد چوہدری کے بقول  عمران خان ایک ایسے لیڈر ہیں جو   اہل اور لائق لوگ چننے   میں ناکام رہے ہیں۔  اگر اس  سچ کو نظر انداز بھی کردیا جائے کہ فواد چوہدری کو بھی عمران خان نے ہی ’چن‘ کر کابینہ میں شامل کیا تھا تو بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ کیا عمران خان  اپنے وزیر کی اس چارج شیٹ کا جواب دیں گے؟

 یہ جواب دینے کے لئے  کیا  وزیر اعظم بھی  وائس آف امریکہ  یامیڈیا کا فورم ہی استعمال کریں گے یا  کابینہ کے اجلاس یا کسی دوسرے   طریقے سے فواد چوہدری سے جواب طلب کیا جائے گا۔ اگر عمران خان یہ جواب طلب کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو اس کا ایک ہی مقصد ہوگا کہ  فواد چوہدری اپنا پیغام واضح طور سے پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

loading...