میر شکیل الرحمان: آزادی رائے کی علامت بن چکے ہیں

جنگ گروپ کے چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمان کی حراست کو ایک سو دن بیت گئے۔ انہیں قومی احتساب بیورو نے  12 مارچ کو چونتیس برس پرانے ایک معاملہ میں گرفتار کیا تھا۔ اس دوران نہ تو نیب ان کے خلاف کوئی مقدمہ دائر کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور نہ ہی اس ملک  کی کسی عدالت کو ابھی تک ان کی ضمانت قبول کرنے کی توفیق ہوئی ہے۔     یہ کہنا مشکل ہے کہ ملک کے ایک  بڑے میڈیا گروپ کے مالک و ایڈیٹر کی گرفتاری اور مسلسل حراست  نیب کی مستعدی کا  نمونہ ہے یا حکومت کے انتقام کی علامت۔ لیکن یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ ریاست پاکستان طاقت کے جن ستونوں پر استوار ہے،  انہیں ایسا کوئی شخص یا ادارہ قبول نہیں ہے جو خودمختاری کے کسی بھی قسم  کے زعم میں مبتلا ہو۔

میر شکیل الرحمان خود کو سرمایہ دار کہتے ہیں اور وہ میڈیا کے متعدد ادارے بھی کاروباری طریقے سے ہی چلاتے ہیں۔ ان کے ان طریقوں سے اختلاف رائے  کے ہزار پہلو تلاش کئے جاسکتے ہیں۔ ان کے فیصلوں سے ان اداروں   میں  کام کرنے والے متعدد لوگوں کے ساتھ زیادتی بھی  ہوئی ہوگی۔    بطور آجر میر شکیل الرحمان   کی حکمت عملی اور غیر منصفانہ فیصلوں  کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا لیکن وہ اس میدان  کے اکلوتے شہسوار نہیں ہیں۔ جنگ و جیو گروپ کو پھر بھی ایک ایسے میڈیا گروپ کی  شہرت حاصل ہے جو اپنے ملازمین کو بروقت تنخواہیں دینے کا اہتمام کرتا ہے۔ اس ملک میں ایسے کئی ادارے ہیں جو  میڈیا کارکنوں کے ساتھ   جابرانہ سلوک  روا رکھتے ہیں۔ نہ وقت پر تنخواہ ادا کی جاتی ہے اور نہ صلاحیت و تجربہ کی بنیاد پر معاوضہ  ملتا ہے بلکہ صحافیوں اور دیگر کارکنوں کا حتی المقدور استحصال کرنے کا طریقہ عام ہے۔  نیب کے ہاتھوں میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کو مکافات عمل قرار دینے والوں  یا ان کی حراست کو ان کے اپنے  ’ظلم‘ کی سزا  کہنے والوں کو دو باتیں یاد رکھنی چاہئیں:  ایک تو یہ کہ  نیب  استحصال کے خاتمہ اور غریب کارکنوں کو انصاف فراہم کرنے کا ذمہ دار نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ کسی ناانصافی کا خاتمہ دوسری ناانصافی سے ممکن نہیں ہوتا۔

میر شکیل الرحمان کو نہ  تو  دہائیوں پہلے چند پلاٹ حاصل کرنے کے معاملہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور نہ ہی اس کا تعلق ان کے کاروباری معاملات سے تھا ۔ ان کی گرفتاری کی بنیادی وجوہ میں پاکستانی اسٹبلشمنٹ اور حکومت سے ان کے اختلافات کا تسلسل تھا۔  ان اختلافات کا یہ محض ایک پہلو ہے کہ موجودہ وزیر اعظم  عمران خان  اقتدار میں آنے سے پہلے ہی میر شکیل الرحمان کو اپنے سے سے بڑے سیاسی حریف نواز شریف کا حامی سمجھتے ہوئے انہیں  دھمکاتے رہے تھے۔ اس پس منظر میں جب مارچ میں میر شکیل الرحمان کو ایک کمزور مقدمہ میں گرفتار کیا گیا تو  سب سے پہلے  اسے  وزیر اعظم  کی ’بدنیتی‘    سے تعبیر کیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ قومی احتساب بیورو کے مستعد  چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال  کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود ملک کا کوئی بھی شخص نیب کی دیانت داری پر بھروسہ کرنے پر تیار نہیں ہے۔

حتی کہ جس عدلیہ  میں ساری زندگی خدمات سرانجام دینے کے بعد جاوید اقبال موجودہ عہدے تک پہنچے ہیں، وہاں بھی نیب کی کارکردگی، صلاحیت اور نیت کے بارے میں سوال اٹھائے جاتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس کیس میں بھی  احتساب کا سوال سامنے آنے پر ججوں نے اس  امر پر حیرت کا اظہار کیا  کہ احتساب کی شوقین حکومت ایک ایسے احتساب جج کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی جس  نے العزیزیہ کیس میں نواز شریف کو سزا دی اور جس  کی بدکرداری کے شواہد بعد میں ویڈیو کی صورت میں سامنے آگئے تھے۔  یوں تو  ملک میں احتساب کے گرو اور بدعنوانی سے لوٹی ہوئی قومی دولت قومی خزانے میں لانے کا دعویٰ کرنے والے جسٹس جاوید اقبال بھی  اپنے دفتر میں ایک خاتون کے ساتھ کی جانے  نامناسب حرکات پر خود کو  ’احتساب‘ کے لئے پیش کرنے پر آمادہ نہیں ہیں اور نہ ہی   نئے پاکستان میں ’مدینہ ریاست ‘ قائم کرنے کی دعویدار حکومت نے   مشکوک اخلاقی کردار کے حامل ایک شخص کے خلاف کارروائی کے  لئے  پارلیمنٹ، سپریم جوڈیشل کونسل یا کسی دوسرے بااختیار فورم پر یہ معاملہ اٹھانے  کی ضرورت محسوس کی ہے۔ البتہ   فوج کے بارے میں  ایک فیصلہ میں  صاف گوئی سے کام لینے والے  جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی اتنی جلدی تھی کہ ایک  غیر معروف شخص کی شکایت موصول ہونے کے چند ہفتے کے اندر جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کردیا گیا۔ پھر وزیروں مشیروں کی گفتگو کے زور پر انہیں میڈیا اور سوشل میڈیا میں نااہل ثابت بھی کردیا گیا۔  یہ مہم جوئی سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد  بھی  جاری ہے۔

میر شکیل الرحمان  کے معاملہ میں بھی قانون کی بالادستی یا احتساب بنیادی مسئلہ  نہیں ہے بلکہ  اصل شکایت یہ ہے کہ میر شکیل الرحمان کے ساتھ ’مفاہمت ‘میں مشکلات پیش  آرہی تھیں۔  اس لئے انہیں یہ باور کروانا ضروری تھا کہ وہ اس گمان میں نہ رہیں کی متعدد اخباروں اور  ٹی وی چینلز کے مالک و ایڈیٹر ہونے کی وجہ سے  ان کے ساتھ کوئی رعایت روا رکھی جاسکتی ہے۔    میر شکیل الرحمان کی حراست اور اس میں طوالت دراصل میڈیا  کو دبانے اور آزادی رائے کے نام پر اس کا گلا گھونٹنے کے ایک خاص ماحول    کو مؤثر بنانے  کی کوشش کا حصہ ہے۔ جیو و جنگ گروپ کو اس بات پر مجبور کرنا مقصود ہے کہ  وہ ’  صدق دل‘ سے  نئے پاکستان  میں متعارف کروائی گئی ان پابندیوں کو قبول کرلیں جن میں جمہوری آزادی کے علاوہ ہر طرح کی’ آزادی‘ کے مزے  لئے جاسکتے ہیں۔ ان آزادیوں میں اپنی مرضی کے سیاسی لیڈروں اور جماعتوں  کے خلاف  کیچڑ اچھالنا  اور قومی مفاد کے نام پر سیکورٹی اداروں  کی قصیدہ  گوئی کرنا اہم ہے۔   یہ کہنا  حقیقت سے روگردانی ہوگی  کہ اس معاملہ میں  نیب صرف عمران خان کی خواہش کی وجہ سے متحرک ہوئی  ہے۔  میر شکیل الرحمان عمران خان کے علاوہ بعض ایسے حلقوں کو ناراض کرنے کا سبب بنے تھے جن سے لڑائی مول لے کر ا س ملک میں عزت  و وقار سے کوئی بھی کام نہیں کیا جاسکتا۔

جنگ کے  مقید ایڈیٹر ملک میں آزادی صحافت کے عملبردار بھی نہیں ہیں لیکن  ایک مشکوک معاملہ میں مشکوک طریقے سے ان کی گرفتاری اور اس میں مسلسل طوالت  نے انہیں پاکستان کی حد تک حرف کی آزادی  و  حرمت کا نمائیندہ بنا دیا ہے۔ اس گرفتاری سے یہ واضح ہؤا ہے کہ ملک میں میڈیا کو درپیش حالات  دگرگوں ہیں اور طاقت ور حلقے کسی ایسے شخص کو بھی برداشت  کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں جو مفاہمت و مصالحت  سے درمیانی راستہ نکالنے کا ارادہ  و شہرت رکھتا ہو۔  یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ایسے ماحول میں مکمل دیانت داری سے حالات و واقعات کو رپورٹ کرنے اور ان کا جائزہ  لینے والے صحافیوں اور پبلشرز کو کن مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

پاکستان اس وقت دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں میڈیا کو سخت گیر سرکاری پالیسیوں کا سامنا ہے ۔ نہ صرف مالکان  پر پابندیاں  عائد ہیں، نام نہاد سیلف سنسرشپ متعارف کروائی گئی ہے بلکہ صحافیوں کو  براہ راست جبر وتشدد  کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ عالمی صحافی تنظیموں اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے کارکن اس صورت حال کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں لیکن ملک میں ایک مقبولیت پسند  قیادت کی آڑ میں ہر مخالف رائے کو دبانے  کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ مبصرین اور صحافی  واضح کرتے ہیں کہ گزشتہ دو برس کے دوران ملک میں آزادی صحافت کی صورت حال خراب ہوئی ہے۔ 

میڈیا گروپس اور صحافیوں کے لئے پیغام بہت واضح اور دو ٹوک ہے:’ یا تو سرکاری پالیسیوں کے مطابق کام کیا جائے یا اختلاف کی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار رہا جائے‘۔ یہ قیمت  اشتہارات کی بندش، ٹی وی نشریات  میں تعطل ، مخالف میڈیا  و سوشل میڈیا پر کردار کشی یا نشریات و مطبوعات پر پابندی  کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔  ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے حارث خلیق نے واضح کیا ہے  کہ  ’میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری درحقیقت پاکستان میں اظہار رائے پر قدغن کی ایک  مثال ہے۔   یہ معاملہ موضوع بحث نہیں  ہے میر شکیل الرحمٰن کے مالی یا کاروباری معاملات کس حد تک درست ہیں۔ لیکن ان کی گرفتاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کے مقتدر حلقوں یا حکومتوں کو پسند نہ آنے والی ہر آواز کو دبایا جائے گا‘۔

 میر شکیل الرحمان  کی گرفتاری صرف جنگ گرپ کے لئے ہی نہیں بلکہ ملک کے تمام میڈیا  ہاؤسز کے لئے پیغام ہے کہ ’قوم‘  کو ان سے کیا توقعات ہیں۔  اس لئے یہ حقیقت حیرت کا سبب نہیں ہونی چاہئے کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے ان ایک سو دنوں میں جنگ کے مد مقابل میڈیا ہاؤسز نے اس معاملہ میں  کیا کردار ادا کیا ہے۔  ان حالات میں   میر شکیل الرحمان بلاشبہ  اس وقت ضمیر کے قیدی اور آزادی رائے کی طاقت ور علامت بن چکے ہیں۔

loading...