آمدنی سے زائد اثاثوں کا قضیہ

پاکستان 1947 میں بنا تو  ہر مقامی مسلمان اور مہاجر مسلمان کو توقع تھی کہ  اُن خطوں میں آباد تمام لوگوں کو اُن کے حصے کا پاکستان ضرور ملے ۔ اپنے حصے پاکستان کیا تھا ؟ دووقت کی آبرومندانہ روٹی کی ضمانت ، سر پر اوسط معیار کی چھت ، تعلیم اور طبی سہولتوں کی فراہمی کا معیاری نظام ۔

بدقسمتی سے یہ حقوق صرف اُن کو ملے جو پہلے سے ہی حقوق یافتہ تھے ۔ اور جو مجبور اور محروم تھے وہ آج بہتر برس کے بعد بھی جوں کے توں ہیں اور  تا حال پاکستان بننے کے منتظر ہیں ۔ وہ غریب عوام اور اُن کی اولادیں پاکستان بننے کے انتظار میں فٹ پاتھوں پر بیٹھی ہیں لیکن کسی مسلمان دولت مند بھائی نے اُن کو برابر کا مسلمان نہیں سمجھا ۔ اُن سے اخوت نہیں بانٹی ۔ اُن سے مساواتِ محمدی کا رشتہ استوار نہیں کیا اور پھر پاکستان اُدھر تم اِدھر ہم کی واردات بن گیا ۔ یہ سب کچھ ہوگیا لیکن آمدنی سے زائد اثاثوں کا کاروبار بڑھتا چلا گیا ۔ پہلے ایک شوگر مل ، پھر دوسری شوگر مل ، اور پھر شوگر مل پر شوگر مل ،  جس نے سیاست کو شوگر بزنس بنا دیا ۔ شوگر بزنس میں اتنی مٹھاس تھی کہ اس کی تقلید میں تعلیم سے لے کر طب اور خدمتِ خلق سے لے کر مذہبی فرقہ فروشی تک سب کچھ بزنس بن گیا ۔ محبت بزنس بن گئی  ۔ ادب بزنس بن گیا ، میڈیا بزنس بن گیا اور  موٹی ویشنل سپیکنگ سے لے کر تصوف تک سب کچھ بزنس کی قربان گاہ پر ذبح ہوگیا ۔ منافع خوری ایمان بن گئی اور مال و دولت جمع کرنا دین ٹھہرا ۔

تو میں سوچتا رہا کہ کیا اسلام میں اپنی چادر سے بڑھ کر پاؤں پھیلانا ، فضول خرچی ، اسراف  اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنا اور دنیا کے ہر بر اعظم میں عشرت کدے قائم کرنا اور  املاک خریدنا کس مسلک اور کس حدیث کی رو سے جائز ہے ؟ مجھے تو علم نہیں مگر شاید طاہر القادری صاحب کو علم ہو گا  مگر میری کیا مجال کہ میں اُن سے سوال بھی کرسکوں۔ اسی فکری  اُدھیڑ بُن میں مجھے نہجہ البلاغت کی ایک نشانی یاد آئی :

جہاں بھی وافر دولت دیکھو ، جان لو کہ کسی کا حق غصب ہوا ہے ۔

اور پھر قرآن کی یاد آئی ۔ سورہ ء الہمزہ نے سرگوشی کی ۔ خرابی ہے اس کے لیے جو مال جمع کرتا ہے اور گن گن کر رکھتا ہے ۔ یہ زر اندوزی  بد عملی ہے ، گناہ ہے ۔ اور ان بد عملیوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے :

خُشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خُدا اُن کو اُن کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے ، ممکن ہے وہ باز آ جائیں : ( الروم ۔ ۴۱)

لیکن آج کا سیکنڈ ہینڈ مسلمان خُدا کی کہاں سُنتا ہے ، سیکنڈ ہینڈ مسلمان کون ؟ جو قرآن کا علم نہیں رکھتا بلکہ دوسرں کی گھڑی ہوئی کہانیوں سے اپنے دین کا متن لکھتا ہے  جب کہ قرآن پکار پکار کر کہ رہا  ہے کہ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں  اور اُس کو خُدا کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ، اُن کو عذابِ الیم کی خبر سنا دو ۔ ( التوبہ ۔ ۳۴)۔

اور اسی پر بس نہیں ، مسلمانوں کو انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ : ّ

(جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے گا ، پھر اُس سے بخیلوں کی پیشانیاں ، پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی اور کہا جائے گا یہ وہی ہے جو تم جمع کرتے تھے ، اب اُس کا مزہ چکھو ۔ التوبہ ۳۵)

ان سیاق و سباق کے حوالے سے مجھے جو سوالات درپیش ہیں وہ کچھ یوں ہیں :

اسلامی معیشت کیا ہے ؟ کیا کبھی اُسے مرتب کر کے کبھی ایک باقاعدہ معاشی  نظام کی شکل دی گئی اور عالمِ اسلام میں اے رائج کیا گیا ؟ اُسے مروجہ اقتصادی اصولوں سے الگ کر کے اسلامی اقدار سے مزین کر کے فلاحی معیشت کی بنیادیں اُٹھائی گئیں ؟ کبھی نہیں ۔ بلکہ ہوا یہ ہے کہ   اسلام کے نام پر  ملوک ، سلاطین اور بادشاہوں نے دنیا بھر میں لشکر کشی کی ، دوسری قوموں کو اسلام کے نام پر لُوٹا اور اپنی عیاشانہ اسراف  اور تانا  شاہی کو اسلامی سلطنت کا نام دیا ۔  لیکن کیا  مدینے کی وہ ریاست جس کا کتابوں ، خطبوں اور تقریروں میں  ذکر ہے کہیں موجود بھی ہے ؟ اور یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب نفی میں ہے ۔

مجھے اس ضمن میں خواجہ بہاؤالدین نقشبندی علیہ رحمت  بہت یاد آتے ہیں کہ اُن سے سوال کیا گیا تھا  کہ اسلام کہاں ہے مسلمان کس ملک میں مقیم ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ اسلام کتابوں میں ہے اور مسلمان قبروں میں اور سچ تو یہ ہے کہ آج بھی اسلام کتابوں ہی میں قید ہے ۔ حضرت فضل شاہ قادری فاضلی ؒ فرمایا کرتے تھے کہ قرآن زمین سے واپس لوحِ محفوظ کو لوٹ گیا  ہےاور زمین پر صرف چھلکا پڑا ہے اور لوگ اُس بھوسے پر مونہہ مارتے رہتے ہیں ۔ پاکسان کے دولت مندوں اور اُن کے چاپلوس مذہبی شارحین کا  اسلام بہتر سال میں پاکستان میں عملاً نافذ نہیں ہوسکا  اور یوں لگتا ہے جو اسلام پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زمین پر اُترا اور آپ کے ساتھ ہی چلا گیا ۔ خُلفائے راشدین اور عمر بن عبد العزیز  وہ پانچ نام ہیں جن سے اسلامی معیشت کی آبرو اب تک قائم ہے جن کے عہد میں زمین پر اتارا ہوا خُدا کا رزق انصاف سے تقسیم ہوا ہوگا ورنہ اس کے علاہ پوری تاریخ مدینے کی ریاست کے خوابوں کی تاریخ ہے ۔ اقبال نے اس سلسلے میں خاصی چھان بین کی اور توقع کی کہ شاید کسی عہد میں اسلامی معیشت کا خواب شرمندہ ء تعبیر ہو ۔ لکھتے ہیں :

جو حرفِ قل العفو میں پوشیدہ ہے اب تک

اس دَور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار!

قل العفو قرآن کریم کا حوالہ ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تھا کہ خُدا کی راہ میں مخلوق پر کتنا خرچ کیا جائے ۔ قرآن میں اس کا حوالہ یوں ہے : یسئلونک ما ذا ینقفون کہ وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ کتنا خرچ کریں تو قل العفو کا جواب آیا کہ جو بھی تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مال و دولت مخلوق َ خُدا کی  کفالت ، فلاح و بہبود اور امت کی ترقی ِ خُوش حالی اور امن کی ترویج پر خرچ کیا جائے نہ کہ ملکوں ملکوں جائدادیں خریدنے اور دولت کے انبار لگاتے چلے جانے کا راستہ اختیار کیا جائے ۔ لیکن ہم چالاک لوگ ہیں ۔ ہم نے اسلام کا اپنا ایڈیشن تیار کر کے رکھ لیا ہے جو متبادل اسلام اور خلقِ خُدا کو دھوکہ دینے کے لیے ہے تاکہ سیاست کے ذریعے دولت کمائی جائے اور سرمایہ داری کی جڑیں ہمیشہ قائم رہیں اور ظالموں ، غاصبوں اور چیرہ دستوں کا ہمیشہ بول بالا رہے ۔

پاکستان پائندہ باد

اسلام زندہ باد

loading...