پی ٹی آئی حکومت کو اپنی کارکردگی پر نظرثانی کی ضرورت ہے: ملیحہ لودھی

  • سوموار 22 / جون / 2020
  • 610

اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ ملک کی موجودہ حکومت کو اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، یہ کام عوامی سطح پر کرنے کی ضرورت نہیں تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ اصلاح کی ضرورت کہاں ہے۔

ڈالتر ملیحہ لودھی نے یہ بات لائٹ اسٹون پبلشرز لمیٹڈ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک ورچوئل اجلاس میں ڈاکٹر ہما بقائی کی جانب سے اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔ ہما بقائی نے گفتگو کا آغاز اس تحقیق سے کیا جو انہوں نے حال ہی میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی پر کی تھی جس کا ایک حصہ اس حقیقت کے بارے میں تھا کہ وہ اکیسویں صدی کی متاثر کن 100 خواتین میں سے ایک تھیں۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ یہ 1990 کی دہائی میں ٹائم میگزین کے مضمون کا حوالہ تھا اور ’آپ کو ہر پڑھی ہوئی بات پر یقین نہیں کرنا چاہیے‘۔

میزبان نے ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو ان کے بطور مدیر ’دی نیوز اخبار‘ کا دور کو یاد دلایا جب انہوں نے آدھے صفحے کا اشتہار لینے سے انکار کرکے اس کی جگہ رپورٹ چلائی تھی۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے جواب دیا کہ وہ ایڈیٹر کی حیثیت سے بہت سخت تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کاروباری اور ادارہ جاتی پہلوؤں کے درمیان ہر اخبار میں ہمیشہ تناؤ رہتا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت میر شکیل الرحمٰن، جن کی مجھے جلد رہائی کی امید ہے، نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ مجھے چیلنج کرتی رہتی ہیں اور میں نے انہیں جواب دیا تھا کہ میرے پاس کوئی چارہ نہیں، آپ نے مجھے ایڈیٹر بنایا ہے اور مجھے اپنا کام کرنا ہے‘۔

آج کے حالات کے تناظر میں سابق سفیر نے کہا کہ ہم اتار چڑھاؤ سے گزرے ہیں اور یہی وہ آزادی ہے جو میڈیا پاکستان میں لایا ہے، یہ میڈیا کو خود نہیں ملی، ایسے مراحل گزرے ہیں جن میں میڈیا کی آزادی پر حملہ ہوا ہے۔ آج بھی میڈیا پر غیر واضح پابندیاں ہیں جو ماضی کے مارشل لا سے مختلف ہیں۔ پاکستان کو جمہوری بنانے میں میڈیا نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، اس کے بغیر پاکستان میں جمہوریت نہ ہوتی۔

کثیرالجہتی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے سب سے پہلے اس کی نشاندہی کی کہ ان کی زندگی کا ایک یادگار لمحہ لندن میں نیلسن منڈیلا سے ان کی ملاقات تھی۔ انہوں نے بتایا کہ نیلسن منڈیلا سے گفتگو کے دوران انہوں نے امید کے بارے میں ہی مستقل گفتگو کی اور آئیڈیل ازم پر زور دیا، نوجوان نسل کو نظریہ پسند ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کثیرالجہتی کو ایک بہت بڑا چیلنج درپیش ہے، جو زیادہ تر امریکا سے سامنے آرہا ہے لیکن یہ صرف امریکا ہی نہیں دوسرے ممالک بھی اسے چیلنج کررہے ہیں۔ یہ بحران کا شکار ہے لیکن ’ایک طرح سے یہ جمہوریت کی طرح ہے جو حکومت کی بدترین شکل ہے سوائے باقی ہر چیز کے‘۔

انہوں نے چین امریکا تنازع کے حوالے سے نئی سرد جنگ کے خیال کو مسترد کردیا۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان (اقوام متحدہ میں) کشمیر کے بارے میں مستقل پالیسی رکھتا ہے۔ ہر پاکستانی حکومت نے مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنے اور سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر قائم رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوششیں کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ (ڈاکٹر ملیحہ لودھی) وہاں تھیں وہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے ہر راستہ استعمال کرتی تھیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریفرنس کا حوالہ کا دیتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ یہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے لیے ایک بہت بڑا دن ہے۔ اس کے خلاف ریفرنس غلط تصور کیا گیا تھا، یہ اعلی سطح کے جج ہیں، سپریم کورٹ نے بتادیا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر فیصلے دے سکتی ہے‘۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اپنی کارکردگی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے بھلے یہ عوامی سطح پر ہو مگر یہ دیکھنا ہوگا کہ اصلاح کی کہاں ضرورت ہے۔ کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا، بہتری کے لیے ہمیشہ گنجائش موجود ہوتی ہے۔ وہ نئے ہیں لہذا شک کا فائدہ ان کے ساتھ ہے لیکن ’لوگوں کے لیے عاجزی سے زیادہ پر کشش کچھ نہیں‘۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم (جیسندا آردرن) کی مثال دی جنہوں نے کورونا وائرس کو کامیابی سے کنٹرول کیا ہے، عوام نے لاک ڈاؤن کی تعمیل کی کیونکہ انہوں نے عاجزی اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا تھا۔

افغانستان کی صورتحال کے بارے میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدہ (خطے سے) امریکی فوجیوں کے انخلا کے بارے میں ہے اور طالبان اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ وہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، یہاں تک کہ اگر انٹرا افغان مذاکرات سے امن معاہدہ نہیں سامنے آتا تو ’میری رائے میں امریکا اس خطے سے دستبردار ہوجائے گا‘۔

سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل نشست جیتنے کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان دونوں انتخابات جیت چکے ہیں، اس سے مسئلہ کشمیر پر اثر پڑسکتا ہے کیونکہ غیر مستقل رکن پردے کے پیچھے بہت سارے کام کرسکتا ہے۔ پاکستان کو ہوشیار رہنا ہوگا اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے کونسل میں کافی دوست ہوں۔

انہوں نے بھارت چین سرحدی تصادم کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرحدی خطہ ہمیشہ تنازع کا شکار رہا ہے۔ اس کی ایک تاریخ ہے لیکن دونوں ممالک کسی بھی بڑے تنازع سے پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی کی حکمرانی میں بھارت نے ایک مستحکم پالیسی پر عمل کرنے کی کوشش کی ہے اور ممالک اس کے مخالف ہوئے ہیں۔

loading...