عدلیہ کی خود مختاری: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے فیصلہ سے شبہات قوی ہوں گے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  کے خلاف ریفرنس کیس میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ کا فیصلہ آنے کے باوجود  اب یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اس معاملہ میں ابھی آخری حرف نہیں کہا گیا۔  یوں تو سپریم کورٹ کے مختصر فیصلہ میں ہی ٹیکس حکام اور ایف بی آر کو تحقیقات مکمل کرنے اور رپورٹ جمع کروانے کے لئے ایک سو دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اس کے بعد یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کے دائرہ کار میں چلا جائے گا۔ کونسل اس معاملہ پر فوری فیصلہ بھی کرسکتی ہے لیکن  حسب روایت  معاملہ کو التوا  میں ڈال کر بنیادی سوالوں کے حتمی جواب فراہم کرنے میں غیر ضروری تاخیر بھی کی جاسکتی ہے۔

اس حوالے سے کچھ سوالوں کے جواب سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ میں سامنے آسکتے ہیں لیکن ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ فیصلہ کب تک جاری ہوگا۔  پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ کے فیصلہ میں صدارتی ریفرنس کو مسترد کرنے پر   خوشی و اطمینان کا اظہار کیا تھا  اور 22 جون کو یوم تشکر منانے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ لیکن لگتا ہے کہ ابھی  شکر  اداکرنے کا وقت نہیں آیا۔  پاکستان  بار کونسل کے   وائس چئیرمین عابد ساقی نے کہا  ہے کہ کونسل اس  مختصر فیصلہ کے پیراگراف 9 سے متفق نہیں ہے اور اس پر نظر ثانی کی  درخواست دائر کرنے کا  فیصلہ کیا گیا ہے۔  عابد ساقی کے مطابق جب عدالت نے صدارتی ریفرنس اور شو کاز نوٹس کو  غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تو اس معاملہ کو ایف بی آر کی رپورٹ  سے  مشروط کرنے اور  سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک بار پھر جج کے خلاف کارروائی کا اختیار دینے کو کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ حصہ فیصلہ کی روح سے میل نہیں کھاتا اس لئے بار کونسل اس پیراگراف کو حذف کرنے کی  اپیل دائر کرے گی۔

ملک کے قانون دان اس فیصلہ کے قانونی پہلوؤں کے حوالے سے  مختلف آرا کا اظہار کررہے ہیں۔    بعض وکلا یہ مانتے ہیں کہ  سپریم کورٹ بجا طور سے یہ چاہتی ہے کہ ایک جج کے نام پر لگا ہؤا داغ مٹ جائے اور  حکومت کے متعلقہ ادارے ان کے خلاف الزامات کو مسترد کریں۔ کیوں کہ اس حوالے سے جسٹس قاضیٰ فائز عیسیٰ کی اہلیہ   تمام دستاویزی شواہد سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرچکی ہیں۔  اگرچہ مسز قاضی اس معاملہ میں فریق نہیں تھیں لیکن   ان کی  ملکیت میں بعض جائیدادوں کو بنیاد بنا کر  جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بنایا گیا تھا ۔ اس لئے   بنچ میں شامل ججوں کی اکثریت نے  ضروری سمجھا کہ  ان کے فراہم کئے گئے دستاویزی  شواہد کی روشنی میں ایف بی آر معاملہ  میں حتمی رائے قائم کرلے۔ 

اس طرح ججوں نے دراصل  سپریم کورٹ کے ایک رکن کو ایک ایسے احتساب کے لئے  پیش کیا ہے جس کا کسی عام شہری سے تقاضا نہیں کیا جاتا۔  لیکن یہ معاملہ کا صرف ایک پہلو ہے۔ حکومت کے مقدمہ میں ان املاک کی خریداری  اور  فراہم کردہ وسائل کے حوالے سے سوال  ضمنی دلیل کے طور پر سامنے آئے تھے۔ حکومت کا اصل مقدمہ یہ  ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی بیوی اور بچوں کے نام لندن میں املاک کو اپنی ٹیکس ریٹرن میں شامل نہ کرکے بدنیتی کا مظاہرہ کیا  تھا۔ یہ طریقہ جج کے وقار اور دیانت کے بارے میں شبہات پیدا کرتا ہے۔ اس لئے  سپریم جوڈیشل کونسل انہیں مس کنڈکٹ کا مرتکب سمجھتے ہوئے     عدلیہ سے علیحدہ کرے۔

سپریم کورٹ  نے  ایف بی آر سے   بیگم جسٹس فائز عیسیٰ   کی املاک کے بارے میں رائے طلب کی ہے۔ تاہم یہ فیصلہ تو ججوں کو ہی کرنا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی جائیداد اپنےٹیکس گوشوارے  میں شامل نہیں کرتا تو کیا وہ قانون شکنی کا مرتکب ہؤا ہے۔ حکومت نے جو ریفرنس تیار کیا تھا، اس  کے مطابق  انکم ٹیکس حکام نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ جسٹس قاضی  فائز عیسیٰ نے ان املاک کو اپنے گوشواروں میں شامل نہیں کیا لیکن  یہ بھی بتایا گیا تھا کہ مسز قاضی فائز عیسیٰ نے بھی اپنی  2014 کی ٹیکس ریٹرن میں یہ معلومات فراہم نہیں کی تھیں۔ حالانکہ یہ املاک اس سے پہلے خریدی جاچکی تھیں۔  ایف بی آر اگر منی ٹریل اور املاک کی جائز آمدنی سے  خریداری کی تصدیق  کر بھی دیتا ہے تو بھی   اس شکایت کا ازالہ نہیں ہوگا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیوں ان املاک کو اپنے گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا۔

اس حوالے سے  صدارتی ریفرنس میں  بیان کی گئی شکایت کو پڑھنا مناسب ہوگا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 5 اگست 2009  کو بلوچستان کے چیف جسٹس بنے تھے۔ زیر غور  املاک میں سے ایک 2011 میں خریدی گئی جبکہ باقی دو املاک 2013 میں حاصل کی گئیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انکم ٹیکس گوشواروں کے ساتھ ویلتھ ٹیکس کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ تاہم جان بوجھ کر یا انجانے میں انہوں نے ان املاک کو چھپایا۔ حالانکہ انکم ٹیکس  قواعد کے تحت ان پر یہ اثاثے ظاہر کرنے کی قانونی پابندی  تھی۔ ان کی اہلیہ نے بھی 2014 کی ویلتھ سٹیٹ منٹ میں ان املاک کا حوالہ نہیں دیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل اس سے پہلے مسٹر شوکت علی ریفرنس میں واضح کرچکی ہے کہ ’ کسی جج سے دیانت داری کے اعلیٰ ترین معیار کی توقع  کی جاتی ہے۔ اسے نامناسب عمل سے گریز کرنا چاہئے اور ایسی کسی حرکت سے بھی باز رہنا چاہئے جس کے بارے میں نامناسب ہونے کا شبہ ہو سکے‘۔ اس رائے کی روشنی میں اور دستیاب معلومات کے تحت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے  اپنی دولت کے بارے میں جو معلومات فراہم کیں وہ غلط اور خفیہ رکھنے کے مترادف تھیں۔ اس طرح انہوں نے انکم ٹیکس آرڈی ننس کے سیکشن 116 اور دیگر قواعد کی خلاف ورزی کی‘۔

جسٹس  قاضی فائز عیسیٰ  اور ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز  کی دائر کردہ پٹیشنز میں اس مؤقف کو مسترد  کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے مختصر فیصلہ میں ریفرنس کو خارج کرکے اس مؤقف کو تسلیم تو کیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی املاک کی تحقیقات کا حکم دے کر یہ ابہام بھی پیدا  کردیا ہے کہ کیا  جسٹس عیسیٰ     اپنی اہلیہ کے اثاثے اپنے ٹیکس گوشوارے میں ظاہر کرنے کے قانوناً پابند تھے۔  درخواست گزار اس سے انکار کرتے ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ کا  مختصر فیصلہ   ریفرنس مسترد کرنے کے باوجود اس پہلو پر دو ٹوک رائے دینے میں ناکام رہا ہے۔ بلکہ سپریم جوڈیشل کونسل کو  یہ اختیا ربھی دے دیاگیا ہے کہ  اگر وہ ایف بی آر کے جواب سے مطمئن نہ ہو یا  خود یہ صراحت کرے کہ قاضی فائز عیسیٰ اپنی اہلیہ اور ان کے بچوں کے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند تھے تو  ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے گی۔  اسی حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تضادات سے پر اور  ناقص کہا جارہا ہے۔

ہو سکتا ہے تفصیلی فیصلہ اس ابہام کو ختم کردے لیکن پاکستان بار کونسل کا کہنا ہے کہ مختصر فیصلہ میں اپیل کی جو مدت مقرر کی گئی ہے اس کے اندر اس نکتہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کرنا ضروری ہوگا۔  تاکہ یہ سہولت ضائع نہ ہوجائے کیوں کہ تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں ہے۔ اس ابہام اور نقص کی وجہ سے متعدد مبصر اور وکیل اس معاملہ کو عدلیہ اسٹبلشمنٹ تعلق کے وسیع تر تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور نشاندہی کی جارہی ہے کہ   جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف اصل مقدمہ ان کا فیض آباد کیس میں جرات مندانہ فیصلہ ہے۔ اس میں انہوں نے ملک کے سیکورٹی اداروں کی سیاسی معاملات میں مداخلت  کی نشاندہی کرتے ہوئے اس طریقہ  کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

پاکستان میں اعلیٰ عدالتوں نے  ہمیشہ حکمرانوں کا ساتھ دیا ہے  اور ان کے غیر آئینی اقدامات کو عدالتی تحفظ فراہم کیا ہے۔  کبھی باہم رضامندی سے اور کبھی دباؤ سے یہ مقصد حاصل کیا گیا۔ اسی لئے  قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری پر براہ راست حملہ تصور کیا گیا تھا۔  اس رائے کو تقویت ملی تھی کہ ملکی اسٹبلشمنٹ کسی خود مختار جج کو  قبول نہیں کرسکتی، اسی لئے  صدارتی  ریفرنس کے ذریعے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے 2023 میں چیف جسٹس بننے سے پہلے ہی ان کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ابھی تک کوئی یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ سپریم کورٹ نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ یہی اس فیصلہ کا سب سے بڑا نقص اور کمزوری سمجھی جارہی ہے۔

یہ صورت حال عدالت کے وقار  اور  خود مختاری  کے  حوالے سے شبہات پیدا کررہی ہے۔ کیا ماضی کی روایت کی طرح  موجودہ  فیصلہ بھی ایک بار پھر  آئین کا حوالہ دینے کے باوجود آئینی حقوق کو کمزور کرنے کا سبب بنے گا یا اس سے  مفاہمت کا ایسا راستہ نکالا گیا ہے کہ کسی بھی ادارے کو براہ راست شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور معاملہ بھی طے ہوجائے۔ گویا سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔  اسٹبلشمنٹ کی  طاقت کی روشنی میں  یہ سوال بھی موجود رہیں گے  کہ کیا اب  جسٹس قاضی  فائز عیسیٰ کو  ان کی خود مختاری کی شہرت کے باوجود  ’قبول ‘ کرلیا جائے گا یا ایک بار پھر  ان کے خلاف نیا طوفان  اٹھانے کی کوشش ہوگی۔ یا کسی دوسرے طریقے اور درپردہ مفاہمت کے نتیجے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو رام کرنے یا فارغ کرنے کا اہتمام ہوگا۔

 موجودہ  بے یقینی میں یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ سپریم کورٹ    نے اپنے ایک  ساتھی کی دیانتداری کی تصدیق کرکے جمہوریت میں آمریت کی آلائش کا تاثر زائل  کرنے کا ایک نادر موقع ضائع کردیا ہے۔

loading...