یادِ رفتگاں

جب کبھی کسی یار آشنا ، دوست ، علمی ، ادبی یا فن کی دنیا کے کسی جگمگ ستارے  کی  یا کسی عزیز کے انتقال کی خبر آتی ہے جو مجھے بُلھے  شاہ اور اقبال یاد آتے ہیں اور بلند آواز میں میرے مونہہ سے نکلتا ہے :

بُلے شاہ اسیں مرنا ناہیں ، گور پیا کوئی ہور

زندگی ایک بہتا ہوا دریا ہے جو سطحِ ارض پر کئی موڑ مُڑتا ہے ، کبھی زمین کی تہوں میں چھپ کر جب سستاتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ دریا سوکھ گیا ہے مگر چونکہ ہم زندگی کی حقیقی زبان نہیں جانتے ، جو فطرت کی زبان ہے اس لیے ہم اپنی کم علمی کی بنا پر ایسے محاورے برتتے ہیں جو اصل حقیقت پر مبنی نہیں ہوتے ۔ اقبال نے بھی اسی طرح کی بات کی ہے کہ:

موت ، تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام ہے

خواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہے

تجدیدِ مذاقِ زندگی ایک عارفانہ اصطلاح ہے جسے ان کالموں میں موضوعِ بحث نہیں بنایا جا سکتا ۔ زندگی مختلف صورتیں اختیار کرتی ہے ۔ مونا جلال الدین رومی نے زندگی کی بدلتی ہوئی صورتوں کو بھی بیان کیا ہے َ ایک جگہ فرماتے ہیں :

بارہا چوں سبزہ ہا روئیدہ ایم

کئی دفعہ انسان نباتات کی دنیا میں ظہور پذیر ہوتا ہے ۔ غالباً اسی لیے غالب نے بھی کہہ دیا کہ :

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایا ں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں

یہ سب اس لیے یاد آیا کہ آج پنجابی اور اردو کے شاعر ، ٹی وی کامپئر ، نیوز کاسٹر ،مشہور ٹی وی پروگرام نیلام گھر کے میزبان  اور مستزاد یہ کہ وہ پنجابی شاعری میں بھی اک مقام  رکھتے تھے ، جنہیں ساز و آواز کی دنیا طارق عزیز کے نام سے جانتی ہے ، اس دنیائے آب و گل سے رُخصت ہو کر ایک نئی دنیا کی  تحویل میں چلے گئے ہیں ۔ یوں تو پی ٹی وی کے پروگراموں کی ریکار رڈنگ کے دوران اُن سے راہداریوں میں اکثر ملاقات ہوئی مگر ان سے اصل رشتے کی درمیان کڑی منیر نیازی تھے ۔ ایک بار طارق عزیز نے اپنی ایک سیاسی تقریر میں منیر نیازی کا یہ پنجابی شعر پڑھا تو وہ محبوبوں کی فہرست میں شامل ہوگیا ۔ شعر یہ تھا :

پھڑ مُرلی اوئے رانجھیا کڈھ کوئی تکھی تان

مار کوئی تیر اوئے مرزیا کھچ کے ول اَسمان

منیر نیازی  سے طارق عزیز  کا ہم شہر ہونے کا رشتہ تھا کہ دونوں ساہیوال کے ڈومیسائیل تھے ۔ طارق عزیز علمی مباحث میں ترقی پسندانہ سوچ رکھتے تھے اور  چندے غلام احمد پرویز کی طرٖ ف بھی اس لیے مائل رہے کہ وہ اسلام کا آخری حوالہ قرآن کو سمجھتے تھے ۔ لاہور میں اُن کی بیشتر شامیں لارنس روڈ پر واقعہ روزنامہ  آزاد کے دفتر  میں اپنے ہم مشربوں کے ساتھ گزرتی تھیں ۔ میں اس اخبار میں نیوز ڈیسک کا ایک کارکن تھا لیکن یہاں  منیر نیازی ،عبداللہ ملک ، حمید اختر  ، عباس اطہر ، عارف وقار اور شاہد محمود ندیم جیسے مشاہیر بھی کام کرتے تھے ۔ خاور نعیم ہاشمی نے بھی اسی دبستان سے اپنی عملی صحافت کا آغاز کیا ۔ اس دبستانِ محبت کے غیر صحافی رکن طارق عزیز تھے جو  شاموں کو دفتر سے ملحق ایک  انیکسی میں جو زاہد کی کینٹین تھی ، شعر و شاعری کی محفلوں میں شریک ہوتے تھے ۔

وہ فقیر منش تھے ۔ اُن میں وہ تکبر نہیں تھا جو آج کے اینکروں اور حکومتوں اور سیاستدانوں کے خوشامد پیشہ  اور چاپلوس صحافیوں میں  کوٹ کوٹ کر بھرا ہواہے ۔ طارق عزیز ایک درویش کی روح تھی جو جالب کی طرح جالندھر سے ترکِ وطن کر کے پاکستان آئے تھا ۔ میرے لیے جالندھر سے ہجرت کا سب سے بڑا حوالہ حضرت فضل شاہ نور والے علیہ رحمت تھے ، طارق عزیز  میں بھی وہ خوش مزاجی تھی جو اس خطے کے لوگوں کا خاصہ رہی ہے  البتہ جنرل ضیا الحق ایک استثنا ہیں جو جالندھری ہو کر بھی جالندھری نہیں تھے ۔میں جب بائیس برس پہلے اپنی بڑی بہن کی وفات پر پاکستان گیا تو طارق عزیز سے بھی اتفاقاً ملاقات ہوئی اور وہ ویسے کے ویسے ہی تھے جو کبھی ہوا کرتے تھے ۔ آج اس شخص کے انتقال پر ملال کی خبر سن کر جی بہت اداس ہوا ۔ تو میں نے جو محسوس کیا وہ لکھ دیا :

طارق عزیز ۱ موت کوئی سانحہ نہیں

یہ زندگی کی راہ کا دل چسپ موڑ ہے

تم اپنے فن کے ساتھ ہمیشہ رہو گے یاد

یہ موت اور حیات تو اک جوڑ توڑ ہے

طارق جدید انگریزی اصطلاح میں ایک موٹی ویشنل سپیکر بھی تھے اور اسلا م کی جدید تر تعبیر کے تلاش کرنے والوں میں سے تھے ۔ وہ اسی تحقیقی گفتگو کو عام کرنے کے لیے ایک بار ناروے بھی تشریف لائے اور بہت بڑے ہجوم کو متوجہ کیا ۔ طارق عزیز!آپ اُن لوگوں میں سے ایک ہیں جو میڈیا کی تاریخ میں ہمیشہ رکھے جائیں گے ۔ اب یہی کہا جا سکتا ہے:

کلُ نفس ذائقتہ الموت ۔ حق مغفرت کرے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

موت سے کس کو رُستگاری ہے

کل مری آج تیری باری ہے

موت کے وارنٹ پر پچھے دنوں حاضری کے دستخط  کرنے والوں میں محمد علی ماہیا اور بالو خانم کی بیٹی مختار بیگم  بھی تھیں جن کو فن کی دنیا  صبیحہ خانم کے نام سے  جانتی ہے ۔ صبیحہ خانم پیدائشی گلوکارہ تھیں اور روزنامہ آفاق کے ایک زمانے کے ایڈیٹر شوکت حسین شوکت کی معلومات کے مطابق وہ قرآن کی حافظہ بھی تھیں ۔ لیکن افسوس میں اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتا کیونکہ متعدد مواقع پر ان سے ملاقات کے وقت یہ بات میں ہمیشہ بھول جاتا رہا ۔ ایک زمانہ تک میں صبیحہ خانم  کو پردہ  سکرین کی ساحرہ اور سید موسیٰ رضا عرف سنتوش کمار کی ہیروئن اور ما بعد بیوی کے حوالے سے ہی جانتا تھا ۔ اپنے زمانہ  طالبعلمی میں اُن کی متعدد فلمیں دیکھیں اور اُن کے حُسن کو حواس پر طاری رکھا ۔ لیکن پھر ایک موقع آیا جب میں نے ایک پنجابی فلم شرابی کے لیے دو گانے لکھے جو گلووکارہ مالا نے گائے تھے جن کے بول یہ تھے :

۱ ۔میں تے گھول کے شراب وچ پیتے دکھ نی

۲۔ ریجھاں دی تصویر دے پرزے

فلم چلی یا نہیں کچھ یاد نہیں ، لیکن اس فلم کے ہدایت کار حمید چودھری تھے ، جو  ابتدا میں صبیحہ کے گھر کے ملازم  رہے تھے ، اُن کی مدد سے فلم  کے شعبے میں ایڈیٹر  بنے اور وہ بہت اچھے ایڈیٹر تھے ۔ فلم شرابی کا ایک گانا صبیحہ خانم نے بھی گایا تھا جو  بیک وقت غلام علی کی آواز میں بھی تھا:

سوہنیا اوئے مُکھ تیرا سجری سویر اے

میرے دونوں گانوں کی ریکارڈنگ کے دوران صبیحہ خانم موجود تھیں ۔ وہ اُن دنوں فلم سازی کا بھی سوچ رہی تھیں ۔ اُنہوں نے ایک دن حمید چودھری کے توسط سے مجھے شاہ جمال میں اپنے گھر بلوایا اور مجھے ایک لوگ گیت گا  کر  سنایا کہ اس کی طرز پر میں گانا لکھوں  ۔ وہ لوگ گیت کچھ یوں تھا:

دُکھن کنّاں دیا والیاں گادھی ہولی ہولی ٹور

وہ فلم وہیں رہ گئی اور میں پاکستان کی سماجی بھیڑ میں گم ہو کر رہ گیا۔ پاکستان کے سیاسی نظام نے مجھے مکھن سے بال  کی طرح نکال باہر کیا کیونکہ میں ایک ایسا سوشل مس فِٹ ہوں جسے کوئی روایتی معاشرہ قبول نہیں کرسکتا لیکن اس کے باوجود میں اُن لوگوں کو نہیں بھولا جو زندگی کے گلی کوچوں میں مجھے ملے ۔

صبیحہ خانم ! حق تمہاری مغفرت کرے

طارق عزیز ! پھر ملیں گے

بھول جا تم نے بنائے تھے محبت کے نقوش

نقش کی بات ہی کیا بن کے بگڑ جاتے ہیں

زندگی ایک دوراہا کہ اس پر اکثر

راہرو ملتے ہیں اور مل کے بچھڑ جاتے ہیں

loading...