قیامت کا دیباچہ

افرا تفری ، بحران ، نسلی  اور مذہبی منافرتیں ، ہنگامے ، لا قانونیت ،دولت پوجا ، سرحدی جنگیں ، وبائیں ، عالمی حکمرانوں کی ظُلم پروری ،سیاسی خانہ جنگیاں ، فکری جہالت ، خوشامد فروشی اور قصیدہ گوئی کے آم اور گٹھلیوں کے دام ، اور مرے ہوئے  اخلاقی نظام کی میت پر   آسمانی آفات  کے نو سو دُرے۔ یہ ہیں موجودہ عالمی معاشرے کے خدو خال ۔

 اس ہما ہمی اور روا روی میں ، اس چل چلاؤ اور جلاؤ گھیراؤ میں بہت سے پرانے بُت گرائے جا رہے ہیں ۔ کولمبس کا بُت ، چرچل کا بُت ، گاندھی کا بُت ۔ سارے سیاسی بُت لوگوں کے غیظ و غضب کے نشانے پر ہیں ۔ بڑی عالمی طاقتیں جو سُپر ہونے کی دعویدار تھیں اس قدر چھوٹی لگنے لگی ہیں کہ  بھوکے ننگے ، غریب اور دوسرے درجے کے مظلوم شہری اُن کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھے ہیں ۔ اس غیظ و غضب کی دہشت اور ہیبت اس قدر ہے کہ ٹرمپ کسی چوہے کی طرح کیپیٹل ہل کے بنکر کے بل میں جا جا گھُستا ہے ۔ یہ ایک قیامت کا سا منظر ہے ۔ سب کو اپنی اپنی پڑی ہے اور یہی نفسا نفسی قیامت کی علامت ہے ۔

فطرت جو ہم سب کی ماں ہے  ،اپنے ہر عمر کے بچوں سے جواب طلب کر رہی ہے اور حساب مانگ رہی ہے ۔ ہر شخص کو ، ہر مذہبی گروہ کو ، ہر امت کو ، ہر قوم کو اور ہر نظریاتی بھیڑ کو ایک ایک پل کا حساب دینا ہوتا ہے ۔ وہ جو ایک شاعر نے کہا ہے وہ سچ ہے کہ :

صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم

کرتی ہے جو ہرزماں اپنے عمل کا حساب

لیکن احتساب جو اصل میں خود احتسابی ہے ، اب طاقِ نسیاں پر رکھا بجھا ہوا دیا ہے کیونکہ کوئی اپنی ذات  کا احتساب نہیں کرتا ۔ ہر شخص اپنے باب میں بڑا رحمدل اور عفو و درگذر کرنے والا ہے کہ اپنی ذات کو  ہرقتل ، مالِ حرام ، حقوق العباد کے غصب اور مخلوق کے حق میں ہر جرم کو معاف کردیتا ہے اور جب ایسا مسلسل ہوتا رہے تو فطرت اپنے سفیر بھیجتی ہے اور اپنی چھاتہ  افواج اُتار کر سورہ  فیل کا متن دوہراتی ہے اور ابابیلوں کہ جگہ ٹڈی دل بھیجتی ہے ، وبائیں نازل کرتی ہے  خوفناک ، مہلک اور قاتل بیماریاں عام کرتی ہے  ، گلی کوچوں میں آوارہ کتوں کے جتھے متعین کر کے انسانی نسلوں کو خوف اور دہشت کا شکار بناتی ہیں ۔ انسانوں کو لولا لنگڑا کر کے اس قدر معذور کر دیتی ہے کہ اپنی بستیوں میں صفائی کے معیار کو قائم نہیں رکھ سکتیں اور بستیاں کچرا کُنڈیاں ، کوڑے کے ڈھیر اور اوپن ائر بیت الخلا بن جاتی ہیں ۔

 آدمی اور جانور کے درمیان فرق یہ ہے کہ آدمی اپنی آلائشوں کو ٹھکانے لگا سکتا ہے مگر جانور نہیں اور جب انسان بھی وہ جانور بن جائے جو اپنی آلائشوں کی جگہ جگہ  نمائش گاہیں بنا دے ، تو انسانیت مر جاتی ہے اور جب انسان مر جاتا ہے تو جانور باقی رہ جاتا ہے ۔ لاقانونیت کا اَن ڈِسپلینڈ ، غیر مہذب اور وحشی جانور ۔ اور ہمارے اندر کےاُس غیر مہذب جانور نے اللہ کے دین کو بھی تماشا بنا کر رکھ دیا ہے ۔ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے ۔ صوفیا کہتے ہیں کہ جب انسان اپنی انسانی ذمہ داریاں فراموش کر دے تو آسمان اپنا سزا کا قانون لاگو کرتا ہے ۔ اب یہ سیاروں گی گردش ہے جو فیصلے کر رہی ہے ۔ اور لوگوں کو سزا  دے کر راہِ راست پر لانے کا جتن کرتی ہے ۔ آسمان کے نحس اثرات کو وردو وظائف کی قوت سے روکا جا سکتا ہے مگر زمین پر وہ آسمانی مذہب اس وقت عملاً نافذ نہیں بلکہ اس کا ایک ارضی متبادل ہے جو محض خانہ پُری کے لیے ہے اور جو اصل مذہب نہیں محض نقل ہے ۔

ایسے میں فطرت کے غیظ و غضب سے خود کو بچانا ممکن نہیں ر ہا ۔ اور عذاب کی مختلف شکلیں اتررہی ہیں ۔ دوزخ کی آگ کی مختلف شکلیں ہیں ۔ نفسِ امارہ کی آگ ، لالچ ، غصے ، حسد اور نفسانی ہوس کی آگ ۔ اور جلادینے والی آگ جو عمارتوں کو منہدم کر دیتی ہے اور ماں باپ بچے زندہ جل جاتےہیں ۔ ہمارے ہاں ایک عرصے سے کم سن بچوں اور بچیوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کے پے در پے واقعات نے بچوں سے بچپن کی آزادی چھین لی ہے اور اس جرم میں نامور علماء تک ملوث پائے گئے ہیں مگر مذہبی اداروں نے اس ظُلم کی بیخ کَنی کے لیے کبھی سنجیدگی سے ایسے اقدامت نہیں کیے جو معاشرے کی اخلاقی اصلاح کے  لیے لازمی ہو سکتے ہیں ۔ پاکستان میں دین ایک کاروباری کمپلیکس بن کر رہ گیا ہے جو کبھی خسارے کا سودا نہیں رہا بلکہ ہر دور میں منافع بخش رہا ہے ۔ سیاسی منطر نامہ اور بھی بھیانک ہے ۔ سیاسی جماعتیں  اور دوسرے ملکی ادارے کرپشن کو اپنا آئینی حق اور شیرِ مادر سمجھتے ہیں ۔ عدالتیں شور بہت مچاتی ہیں مگر انصاف نہیں کرسکتیں اس لیے کہ عدل کے منصب دار اپنے عہدے اور مراعات کے غلام ہیں ۔ اس لیے اُنہیں وہ ڈھائی کروڑ تعلیم سے محروم بچے نظر نہیں آتے جن پرعلم حاصل کرنے کے فرض کو اُن سےچھین لیا گیا ہےاور کسی مفتی یا ملا  ، کسی عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو شریعت کا یہ حکم یاد نہیں کہ:

(طلب العلم فریضتہ علیٰ کلِ مسلم و مسلمات) کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و زن پر فرض ہے

مگر اسلام کے نام پر  قائم ریاست میں بہتر سال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی تعمیل ممکن نہیں بنائی جا سکی  اور عدلیہ کے کان پر کبھی جوں تک نہیں رینگی کیونکہ وہ اپنے ملازمت دہندگان کی خدمت میں دست بستہ رہتی ہے ۔یہ صورتِ حال ایک وارننگ ہے مگر کسی کو  اس سے سبق سیکھنے کا یارا نہیں ۔ زندگی ایک عذاب بن چکی ہے ۔ ہر عمر کے لوگ اس  کرونا کے دوزخ کا یندھن بنے ہیں مگر دنیا میں ایسے ممالک بھی ہیں جہاں قانون کی پابندی اس دوزخ کی آگ کو دھیما کر سکتی ہے مگر ہمیں یہ فن نہیں آتا  اس لیے کہ ہم پڑھے لکھے جاہل ہیں ۔ اس کے برعکس وہ معاشرے بھی ہیں جو آگ سے بچنے کی تدابیر اختیار کر سکتے ہیں اور سہولت سے جی سکتے ہیں ۔

 مجھے کل اوسلو جانے کا اتفاق ہوا ۔ یہ دو مہینوں کے بعد ایک ہنگامی سفر تھا ۔ ریل کے پون گھنٹے کے سفر میں لوگ اپنی اپنی نشستوں پر قرنطینہ کیے ہوئے تھے ۔ ایک دوسرے سے لا تعلق فاصلے کو ملحوظ رکھے ہوئے ، مگر زندگی کا دریا بڑے سکون سے بہ رہا تھا ۔ کاش ہم بھی رحمت اللعالمینی کے ادارے سے ایسی ڈسپلن سیکھ سکتے ۔ کاش اے کاش!

loading...