کفِ کرونا فروش

زمین کی گمرہی اور زمین زادوں کے جرائم اتنے بڑھ گئے تھے کہ بالآخر آسمان نے زمین سے جواب طلب کر لیا ہے اور وضاحت طلب کر لی ہے کہ اس زمین پر زندگی کا توازن کیوں بگاڑا گیا ہے اور فطرت کی شان میں جو اشیاء و مظاہر کی ماں ہے ، صدیوں تک کیوں گستاخی کی گئی ہے اور زمین کو جرائم ، ظلم ، ناانصافی ، لاقانونیت ، لالچ اور جہالت کی کچرا کُنڈی میں کیوں تبدیل کیا گیا ہے ۔

 اس زمین کے آباد کاروں کو یہ زمین لیز پر اس لیے دی گئی تھی تاکہ وہ اس پر خُدا کی بادشاہت قائم کریں ۔ خُدا کی بادشاہت قانون کی حکمرانی کا قدیم نام ہے ۔ اُم الکتاب میں واضح کردیا گیا تھا کہ انسان ایک قانونی وجود یعنی قانون کی پابند مخلوق ہے اور اگر وہ فطرت کے قوانین کی پاسداری کرتا رہے گاتو اُس کا انسانی منصب برقرار رہے گا اور اگر وہ قانون شکنی کرے گا تو اُس کا انسانی منصب منسوخ کردیا جائے گا ۔ چنانچہ یہی ہوا ہے ۔ زمین گنہگاروں اور قانون شکنوں کی آماجگاہ بن گئی ہے اور یہ سیاہ کاریاں اشرافیہ نے شروع کی ہیں جن کی نقالی ہر خاص و عام نے کی اور زمین جہنم بن کر رہ گئی ہے ۔ جہنم کی جو تعریف کی گئی ہے وہ آگ کا الاؤ ہے جس میں لوگ جلائے جاتے ہیں ۔ جہنم کی جو شکلیں بتائی گئی ہیں ، اُن میں حسد کی آگ ، نفسانی خواہش کی آگ ، وباؤں کی آگ ، لالچ کی آگ ، حرص و ہوس کی آگ ، ظلم کی آگ ، نا انصافی کی آگ ، تشدد کی آگ اور نفرت کی آگ سرِ فہرست ہیں ۔ آج کا گلوبل گاؤں اس آگ کی لپیٹ میں ہے ۔

امریکہ سے ایشیا تک یہ آگ بھڑکی ہوئی ہے اور لوگ طرح طرح سے اس آگ میں جل رہے ہیں ۔ کرونا وہ آگ ہے جس کی چنگاری چین میں بھڑکی ، اٹلی ، سپین ، فرانس کو روندتی امریکہ میں ر وارد ہوئی اور دنیا اس آگ کی لپیٹ میں آگئی ۔ اس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں طرح طرح کے فسادات کی آگ بھڑک اتھی ۔ امریکہ میں سفید فام پولیس اہلکاروں کے ایک سیہ فام جارج فلائیڈ کا قتل وہ چنگاری تھی جس نے امریکہ کے بھُس خانے میں آگ لگا دی اور اب پورا امریکہ خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے ۔ نسلی امتیاز کی آگ وہ بدترین آگ ہے جو زمین پر دوزخ کے اذیت کیمپ قائم کردیتی ہے ۔ امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف موجودہ مظاہرے سفید فام انسان کی بے رحمی کی ایک نئی تاریخ مرتب کر رہے ہیں ۔ سفید فام انسان اپنی کاروباری صلاحیتوں کی بنا پر تیسری دنیا کا ارضی خُدا بناہوا ہے اور تیسری دنیا کے لالچی ، بے حمیت اور نالائق حکمرانوں نے اپنے اپنے  ملک کے عوام کو ان کی املاک سمیت سفید فام ارضی خُداؤں کے پاس گروی رکھا ہے جس کی وہ کمیشن کھا  رہے اور اپنے آقاؤں کی  پالتو  کُتیا کے بچے بنے ہوئے ہیں ۔ چنانچہ آسمان نے اُن کو  مزا چکھانے کے لیے احتجاجی  مظاہروں  کی صورت میں سزا سنادی ہے اور اس طرح امریکہ میں زندگی خانہ جنگی کی زنجیروں میں جکڑی اُس سیہ فام جارج فلائیڈ کی طرح اپنا دم گھٹتا محسوس کر رہی ہے ، جس نے سفید فام پولیس والے کی گردن کے نیچے اپنی جان جانِ آفریں  کے سپرد کردی تھی ۔اب ایک طرف کروناہے اور دوسری طرف سیاہ فام امریکیوں کے مظاہرے ہیں جس سے امریکی معاشرت اُکھڑی اُکھڑی سانسیں لے رہی ہے ۔

کرونا کیا ہے اور کیا نہیں ہے یہ اپنی جگہ ایک الگ بحث ہے ۔ کوئی کرونا کو سازش ثابت کر رہا ہے اور کوئی اسے چین کی کیمیاوی تجربہ گاہ کی صناعی قرار دے رہا ہے ، کوئی اسے امریکہ کی سازش قرار دے رہا ہے اور کوئی اسے بل گیٹس کی سوچی سمجھی سکیم قرار دے رہا ہے جس کے ذریعے زمین پر آبادی کے دباؤکو ہلاکتوں کے ذریعے کم کرنا ہے ۔مگر کچھ چالاک لوگ اس بیماری کو بھی کمائی کا موقع بنانے کی کوشش میں ہیں کہ  کرونا ہتھیلی پر رکھے اُس کو سونے کی کان بنانے کی فکر میں ہیں تا کہ ویکسین بنا کر دنیا بھر کی مارکیٹ سے منافع کمائیں ۔   

یہ سب زمین زادوں کی اپنی توجیہات ہیں جو ممکن ہیں کسی حد تک درست ہوں مگر اصل حقیقت وہی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا جا چکا ہے ۔ ابھی کچھ دیر پہلے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کا یہ بیان دیکھا جس میں وہ اس بات کر خوش تھیں کہ نیوزی لینڈ میں کرونا کا کوئی کیس نہیں ہے ۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ میں اس صورتِ حال پر رقص کی کیفیت میں رہی ہوں ۔ یہ چھوٹا سا ملک پچھلے کچھ عرصے سے قانون کی حکمرانی اور مذہبی رواداری کی خوبصورت مثال بنا ہوا ہے ۔لیکن اس کے برعکس ہمارے ہاں سابقہ حکمرانوں اور ان کی حکومتوں کے اہم عہدیداروں کے خلاف اخلاقی بے راہروی کے الزامات ایک نئی کہانی لکھ رہے ہیں ۔ یہ الزامات ایک سفید فام وکیل خاتون سنتھیا کی طرف سے لگائے گئے ہیں اور ان الزامات کا ہدف بننے والوں میں یوسف رضا گیلانی اور رحمٰن ملک بھی شامل ہیں جن کے ساتھ سنتھیا کی تصویریں منطرِ عام پر آ گئی ہیں ۔

یہ صورتِ حال پیپلز پارٹی  کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش کی گھڑی کا نقطہ ء آغاز بن سکتی ہے ۔یہ حکمران اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ حکومت خدا کی طرف سے حکمرانوں کو آزمائش کے لیے دی جاتی ہے تاکہ خُدا دیکھے کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں ۔ جیسا کہ سورہ ء یونس کی ۱۴ویں آیت میں آ گاہ کیا گیا ہے کہ : ( پھر ہم نے اُن کے بعد تم لوگوں کو ملک کا خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو ) ۔ اور آسمان نے دیکھا کہ وہ کام نہیں کرتے ۔ اُن کے پاس زمین پر خُدا کے قانون کو رائج کرنے کی اہلیت ، صلاحیت اور حکمتِ عملی موجود نہیں ہے اور یہ کہ وہ ملک کو ایک ذاتی کاروباری فرم کی طرح چلاتے ہیں اور منافع اپنی جیب میں ڈالتے ہیں ۔ اور چونکہ عوام اپنے حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں اس لیے وہ بھی اُن کے شریکِ کاروبار ہوتے ہیں اور حکمرانوں کی سرمایہ داری کو وسعت دینے میں اُن کی مدد کرتے ہیں۔ چنانچہ اُن کا مقصدِ حیات خُدا کی اطاعت نہیں ہوتا  بلکہ حکمرانوں کی طرح اپنے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے اور وہ اپنا ہدف پورا کرنے کے لیے ہر ناجائز ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہیں جس سے قانون جو زمین پر خُدا کا نمائندہ ہے ، اپنی افادیت اور قوت کھو دیتا ہے اور معاشرہ انتشار کا شکار ہوجاتا ہے جسے کنٹرول کرنے کے لیے پولیس ناجائز اور غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے جس سے معاشرے میں لاقانونیت کے سائے اور بھی گہرے ہو جاتے ہیں ۔ ان سابقہ حکمرانوں نے اپنے اپنے عہد میں کرپشن ، منی لانڈرنگ ، جبر ، تشدد اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے عوام کے بنیادی حقوق غصب کیے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں ترقی نہیں ہوئی ، معاشرتی امن ناپید ہے اور ملک کی ایک کثیر آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے ۔

ڈھائی کروڑ بچے تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں ، طبی سہولتوں کا فقدان ہے جس کی وجہ سے انارکی بڑھی ہے اور ہر شخص نے قانون اپنے ہاتھ میں لے کر سر راہے لوٹ مار ، بھتہ خوری ، ڈاکہ زنی اور گداگری کو بطور پیشہ اضتیار کر رکھا ہے ۔ لاقانونیت کے ہاتھوں اس معاشرے کی نئی نسل وحشی آدم خوروں کا شکار بنی ہوئی ہے ۔ یہ صورتِ حال ایک عذاب کی صورتِ حال ہے ۔یہ حشر ہے جو برپا ہے جیسا کہ فیض صاحب نے کہا تھا :

سزا جزا سب یہیں پہ ہوگی

یہیں پہ روزِ حساب ہوگا

اور روزِ حساب جاری ہے اور اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ  زمیں قانون کی بالادستی سے سر سبز و شاداب نہیں ہو جاتی ۔ اور کہیں دور سے اقبال کی آواز آ رہی ہے :

عصرِ حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف

ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمر کہیں

اور اسلام نے  گلوبل مذہب اور گلوبل دنیا کا جو  تصور پیش کیا تھا وہ اپنی حقیقی صورت میں نافذ العمل ہو گا ۔ 

loading...