پارٹیوں میں خاندانی اور شخصی اجارہ داری کا نقصان

پاکستان  کو اس وقت بظاہر کورونا وائرس کے علاوہ ٹڈی دل جیسے دو بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ کووڈ۔19 نامی وائرس  ملک میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومتی پالیسی غیر واضح یا کمزور ہے۔  اس وبا کا پھیلاؤ شدید ہونے کی صورت میں پاکستان کے محدود  مالی و طبی وسائل کی وجہ سے لوگوں کی تکلیف میں غیر معمولی اضافہ کا امکان ہے۔ اسی طرح ٹڈی دل کا حملہ ملک کی فصلوں کے لئے شدید نقصان کا سبب بن رہا ہے۔ باون اضلاع میں لاکھوں ایکڑ رقبہ پر فصلیں  ٹڈی دل کے نشانے پر ہیں۔ اس کا سامنا کرنے کے لئے ملکی صلاحیت اور کوشش حملہ کی نوعیت اور شدت کے مقابلہ میں کم تر بتائی جارہی ہے۔  البتہ ملک کو اس وقت  سیاسی تصادم، نظام پر عدم اعتماد اور اختیارات کی تقسیم کے سنگین کا بحران کا سامنا بھی ہے۔   اس بحران کی وجہ سے  فوری نوعیت  کے مسائل سے نمٹنا مشکل تر ہوجا تا ہے۔

جیسا کہ کورونا  اور ٹڈی دل کے مقابلے میں دیکھا جاسکتا ہے۔  حالانکہ ایک وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہئے اور عالمی ادارہ صحت یا دیگر ماہرین کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر  وبا  سے بچاؤ اور متاثرہ افراد کی دیکھ بھال کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ لیکن گزشتہ چند ماہ کے دوران  ملک کے ہر فرد نے اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ انسانی صحت اور عوام کی زندگی سے متعلق اس بنیادی مسئلہ کو بھی سیاسی رسہ کشی کا سبب بنا لیا گیا ہے۔ وفاق میں حکمران پارٹی   پوری قوت سے سندھ میں  حکومت کرنے والی  پیپلز پارٹی پر حملہ آور ہے اور جواب  میں  بلاول بھٹو زرداری کی سرکردگی میں پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کو نااہل اور مسئلہ سے نمٹنے کی صلاحیت سے بے بہرہ قرار دیتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان خود یہ کنفیوژن پیدا کرنے میں پیش پیش رہے ہیں کہ  اس مسئلہ سے نمٹنے اور  مقابلہ کے لئے  اصل اختیار کس کے پاس ہے۔  کورونا  کا مقابلہ کرنے کے لئے ماہرین کی رائے کے مطابق مل جل کر فیصلہ کرنے کے نادر موقع کو باہمی چپقلش اور سیاسی انارکی کی وجہ بنا لیا گیا۔ وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں نے نادانستگی میں یا جان بوجھ کر اس موقع پر اٹھارویں ترمیم، سیاسی  اختیارات  اور مالی وسائل کی تقسیم کے  سوال  پر  اظہار رائے کرنا  اور اسے سیاسی مباحث کا حصہ بنانا ضروری سمجھا۔ یعنی ایک ایسے وقت میں جب  وسیع تر اتفاق رائے کی ضرورت تھی اختلاف اور دوری کا ایک نیا موضوع تلاش کرکے اسے   بظاہر ملکی نظام کی درستی کے لئے  ضروری سمجھا گیا۔

ٹڈی دل کا معاملہ بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ ملکی نظام  اس حملہ کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ جب یہ دل افریقی ممالک میں تیار ہو کر برصغیر کی طرف کوچ کرنے والے تھے، اسی مرحلہ پر ضروری معلومات کے تبادلہ اور  زمینی سطح پر اس  ٹڈی دل کو  تباہ کرنے کے عملی اقدامات کی طرف توجہ دینا ضروری تھا۔  گزشتہ چند دہائیوں سے چونکہ ٹڈی دل کا حملہ نہیں ہؤا تھا اس لئے   ملکی نظام میں یہ تسلیم کرلیا گیا کہ اب اس قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا ۔ ایسی آفات کی  پیش بندی کے لئے قائم انتظامی ڈھانچہ  تتر بتر  ہوگیا لیکن  چند برس سے جب  ٹڈی دل  کے نئے حملے اور سفر کے روٹ کی اطلاعات سامنے آنے لگیں تو بھی پاکستان میں اس حوالے سے نہ تو رائے عامہ تیار ہوئی، نہ میڈیا میں اسے فوکس کیا جاسکا ۔اور نہ ہی سرکاری سطح پر ٹڈی دل سے ہونے والے ممکنہ نقصان کاکوئی تخمینہ کرنے اور اس کی روک تھام کا اہتمام کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ جب ٹڈی دل  حملہ آور ہوئی اور یہ اطلاعات سامنے آنے لگیں کہ موسمی و زمینی حالات اس کی افزائش کے لئے نہایت سازگار ہیں  تو اس کا ’مقابلہ‘ کرنے کی ڈھنڈیا پڑی۔  تب خبر ہوئی کہ زمانہ قدیم میں ٹڈی دل کی روک تھام کے لئے اسپرے       کرنے والے چھوٹے  طیاروں میں سے بیشتر ناکارہ اور ناقابل استعمال ہوچکے ہیں۔ یہ سوال  نہ مباحث کا حصہ بنے گا اور نہ ہی کوئی آڈٹ اس کا حساب سامنے لاسکے گا کہ تین چار دہائیوں میں ان جہازوں کو  مین ٹین  رکھنے اور مرمت  وغیر کے نام پر کس قدر وسائل استعمال کئے جاچکے ہیں۔ کتنے ٹھیکیداروں کے گھر اس مد میں پلتے رہے اور کتنے ملازمین ایک ایسے کام کی تنخواہیں وصول کرتے رہے جو کبھی سرانجام ہی نہیں دیا جاسکا۔

جس طرح کورونا وبا کے سوال پر وفاق اور سندھ کی لڑائی میں مسئلہ کا کوئی حل نکالنے کے لئے فوجی قیادت نے خاموشی سے کورونا کنٹرول اینڈ کمانڈ سنٹر بنا کر اہم معلومات کی مواصلت اور ضروری پیش بندی کا اہتمام کیا تھا ، اسی طرح اب فوج کے سربراہ  جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ فوج ٹڈی دل کا مقابلہ کرنے کے لئے سول حکام کی مدد  کرے گی۔  اس دوران  درجنوں اضلاع  اس  حملہ کی زد   میں ہیں اور ٹڈی دل کے مزید حملوں کا شدید اندیشہ ہے۔ البتہ ابھی تک یہ اندازہ نہیں کیا جاسکا کہ اس سے فصلوں کے نقصان کی نوعیت کیا ہوگی اور ملک میں آئیندہ برس کے دوران خوارک کی دستیابی کی کیا صورت حال ہوگی۔ حالانکہ کورونا وبا  سے پیدا ہونے والے بحران میں  یہ حقیقت امید افزا تھی  کہ پاکستان چونکہ زرعی ملک ہے،  اس لئے شدید مالی مشکلات اور سیاسی بدانتظامی کے باوجود ملک کا زرعی شعبہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا۔ اس طرح  نہ صرف  اجناس کی فراہمی میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی بلکہ  یہ شعبہ  کورونا وائرس  پھیلنے  کے سبب مواصلات  اور آمد ورفت بند ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والے اندیشوں میں معاشی احیا  کی بنیاد  بھی بن  سکے گا۔  اگر اسی شعبہ کو بے آسرا چھوڑ دیا جائے اور ٹڈی دل جیسی آفت  کھڑی فصلوں کو تباہ کرکے عوام  کو فراہم کی جانے والی  خوراک  کو کھیتوں میں ہی برباد کردے گی تو ملک  اپنے  22 کروڑ نفوس  کی  غذائی ضروریات پوری  کرنے کے لئے بھی درآمدات کا محتاج ہوسکتا ہے۔  ملک کے موجودہ معاشی بحران میں یہ  صورت  حال ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنے گی۔

کورونا وائرس ہو یا ٹڈی دل، یہ پھر بھی عبوری نوعیت کے مسائل ہیں۔ وقت کے ساتھ  وبا  اور فصلوں کو لاحق خطرہ ٹل جائے گا لیکن ملکی نظام  کے نقائص درحقیقت اصل مسئلہ اور قومی چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں جن کی وجہ  سے ملکی نظام ان مسائل کا مناسب اور بروقت مقابلہ کرنے کی  صلاحیت سے محروم  ہوچکاہے۔  گزشتہ تین چار ماہ میں کورونا  اور ٹڈی دل  کے مقابلے میں ملک میں جوسیاسی تصادم کی کیفیت دیکھنے میں آئی اور  فوجی اسٹبلشمنٹ کے مقابلے میں عوام کی منتخب اسمبلیاں جس طرح بے بس اور بے اثر ثابت ہوئی ہیں، ان سے یہ بنیادی نوعیت کا سوال سامنے آتا ہے  کہ ملک میں حکمرانی کا نظام کیسے کام کررہاہے۔  اور کیا یہ طریقہ  واقعی قابل عمل ہے اور مستقبل میں پیش آنے والے چیلنجز و خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے  مناسب ہوگا۔

موجودہ نظام بظاہر 1973 کے آئین پر استوار ہے جو پارلیمانی جمہوریت کا داعی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو  انتظامی اختیارات اور مالی وسائل میں  بڑا حصہ دینے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ لیکن عملی طور سے  آئینی تقاضوں کو  ’زمینی ضرورتوں‘ کے مطابق مینیج کرنے کی روایت راسخ کی گئی ۔ اس انتظام میں سیاسی پارٹیوں  اور پارلیمنٹ کا کردار   ثانوی ہوگیا ہے حالانکہ آئینی پارلیمانی نظام میں  پارلیمنٹ کو بہر صورت بالادست ہونا چاہئے۔ لیکن اب اس کی حیثیت  ڈبیٹنگ کلب سے زیادہ نہیں ہے جہاں افراد اور گروہ اپنے فائدے اور اقتدار کی بند ربانٹ میں حصہ لینے کے لئے جوڑ توڑ کا حصہ بنتے ہیں۔  آئینی نظام کے بین السطور جو انتظام استوار کیا گیا ہے ، اس میں فوج اور عدلیہ کو اہم اسٹیک ہولڈرز کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔

اس وقت ملک  میں فوج کو سب سے طاقت ور، فیصلہ کن، مؤثر  اور  فعال ادارے کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ ملکی دفاع کا ضامن ہونے کی وجہ سے  اس کی عزت و توقیر   کے لئے  رائے عامہ ہموار کی جاتی ہے۔  ایسے  میں البتہ یہ جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ ملک کے تسلیم شدہ آئینی انتظام میں فوج کو کسی ادارے کی نہیں بلکہ حکومتی انتظام میں ایک محکمہ  جاتی شعبہ کی حیثیت حاصل ہے۔ یعنی فوج، فضائیہ اور بحریہ  وزارت دفاع کے ماتحت کام کرنے والے شعبے ہیں جو دفاع کے علاوہ دیگر سول ضرورتوں کے لئے حکومت کے حکم پر امداد فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ عملی طور سے ہی نہیں عام تفہیم میں بھی   یہ تصویر دھندلا چکی ہے۔ اب فوج کو نہ صرف ادارہ مانا  جاتا ہے بلکہ سب سے بالادست اور فیصلہ کن اختیار کا حامل ادارہ بھی تسلیم کرلیا گیا ہے۔

عدلیہ کو البتہ آئینی طور سے  ایک  خود مختار ادارہ کی حیثیت حاصل ہے۔  ماضی  کی تاریخ میں اس ادارے نے البتہ آئین کی نگہبانی  اور پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کی بجائے  فوجی حکومتوں  کو جائز قرار دینے اور آئین میں شخصی ضرورتوں اور پسند کے مطابق ترامیم کرنے کا اختیار دینے کی روایت قائم کی ہے۔ حالانکہ  آئین میں ترمیم کا حق صرف پارلیمنٹ کو  حاصل ہے اور سپریم کورٹ بھی اس اختیار کو محدود  نہیں کرسکتی ۔ تاہم سابق  چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں یہ کوشش بھی کرکے دیکھ لی گئی۔ ملکی عدلیہ  اس وقت اختیار کی بند بانٹ میں اپنا حصہ لینے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ  کشمکش بیک وقت پارلیمنٹ اور فوجی اداروں کے ساتھ محسوس کی جاسکتی ہے۔ حالیہ واقعات میں آرمی چیف کی توسیع پر سپریم کورٹ کی گرم جوشی اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں اس کشمکش کے نشانات تلاش کئے جاسکتے ہیں۔

ملک کی سیاسی پارٹیوں اور پارلیمنٹ کو آئینی بالادستی کے تناظر میں  اصولی طور پر سپریم کورٹ کی پشت پر ہونا چاہئے۔ لیکن آرمی چیف کی توسیع  پر سپریم کورٹ کا اعتراض دور کرنے کے لئے جس طرح شدید سیاسی اختلاف کے باوجود  تمام اہم سیاسی پارٹیوں نے  مل کر ریکارڈ مدت میں قانون سازی کرنا ضروری سمجھا،اسے سیاسی پارٹیوں کی کمزوری اور  پارلیمنٹ  کی بے وقعتی کی مثال  کے طور پر پیش کیا جاسکتا  ہے۔ اسی طرح  سپریم کورٹ کے ایک ناپسندیدہ فیصلہ پر  ایک جج کو  عبرت کی مثال بنانے کے لئے جس طرح صدر عارف علوی نے  جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  کے خلاف ریفرنس دائر کیا اور حکومتی اداروں نے جیسے  اس میں معاونت کی، اس سے بھی یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ موجودہ حکومت یا کوئی بھی سیاسی حکومت  ملک کی عدلیہ کے مقابلے میں  فوج کا ساتھ دینے میں  ہی عافیت سمجھتی ہے۔  اس طرح صرف عدلیہ ہی  کمزور نہیں  ہوتی بلکہ ملک  کا آئینی جمہوری نظام بھی کمزور ہوتا ہے۔  واضح سی بات ہے کہ جب بھی  آئین کے نگران ادارے کو کمزور کیا جائے گا، آئینی اختیار رکھنے والی پارلیمنٹ بے بس اور غیر محفوظ ہوجائے گی۔ یہی ملک میں جمہوریت کی ناکامی  کا  باعث ہے اور اسی طرح  آئینی انتظام  میں نقب لگانے کے راستے  ہموار کئے جاتے ہیں۔

اس افسوسناک صورت حال کی بنیادی ذمہ داری سیاسی پارٹیوں اور  ان کے لیڈروں پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں سیاست دانوں نے ذاتی اقتدار کے لئے مفاہمت  اور اصول شکنی کا راستہ اختیار کیا ہے۔  سیاست دانوں نے مشکلات بھی اٹھائیں۔ وہ ذولفقار علی بھٹو کی طرح پھانسی پر  چڑھے یا نواز شریف کی طرح جلاوطنی پر مجبور ہوئے لیکن انہوں نے  سبق سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔نہ تو ثابت قدمی سے   جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے  اور آئینی انتظام کو یقینی بنانے کی  جد وجہد  کی گئی اور نہ ہی آئینی انتظام کی حفاظت کے لئے سینہ سپر ہوئے۔     سیاسی   مزاحمت کی چند مثالیں ضرور تلاش کی جاسکتی ہیں جن میں بھٹو کی قربانی کے علاوہ نواز شریف کی طرف سے ’ووٹ کو عزت دو‘ کی تحریک بھی  شامل ہے۔ لیکن ان دونوں معاملات میں بھی ان لیڈروں کی پارٹیوں نے جد و جہد جاری رکھنے کی بجائے انہی قوتوں سے مفاہمت کرکے سیاست کرنے کو ترجیح دی جن کی وجہ سے بھٹو کو پھانسی چڑھناپڑا، بے نظیر شہید ہوئیں اور نواز شریف عدالتوں میں خوار ہونے کے بعد ملک سے ’فرار‘ ہونے پر مجبور ہوئے۔

سوچنا چاہئے کہ اس طرز عمل کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں۔ یوں تو متعدد عوامل  کو زیر بحث لایا جاسکتا ہے لیکن ان میں سب سے اہم اور فیصلہ کن وجہ سیاسی پارٹیوں پر خاندانوں یا افراد کی اجارہ داری ہے۔ جب ایک خاص خاندان یا فرد کسی پارٹی پر حاوی ہوگا تو وہ پارٹی بھی اسی کے مفادات کے لئے کام کرے گی اور کسی سیاسی یا آئینی چیلنج کا اصولی مقابلہ کرنے  پر  آمادہ نہیں ہوسکے گی۔    اس پس منظر میں ملکی سیاسی پارٹیوں کی ساخت اور ان کے اندرونی کلچر کو تبدیل کئے بغیر ملک میں جمہوریت کے فروغ  کا خواب دیکھنا ممکن نہیں ہے۔ اس وقت ملکی سیاست میں جن تین پارٹیوں کا غلبہ ہے، ان میں افراد اور خاندان حاوی ہیں۔ کارکنوں کی یا تو کوئی رائے نہیں ہے یا وہ بھی اپنے لیڈر کی خواہش پر  عمل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اسی لئے ملک میں  سیاسی کارکنوں کی بجائے  الیکٹ ایبلز خانوادے پیدا ہورہے ہیں جو طاقت ور کی کٹھ پتلی بن کر اپنے مفاد کو یقینی بنانا ہی سیاست کا ماحصل سمجھتے ہیں۔

اس وقت حکمران جماعت پر عمران خان کا قبضہ ہے۔ ان کی مرضی کے بغیر  پارٹی کا کوئی شخص فیصلہ تو کجا رائے تک دینے کا مجاز نہیں ہے۔ یہی صورت حال مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ان دونوں پارٹیوں میں باالترتیب شریف خاندان اور بھٹو/زرداری خاندان کی    اجارہ داری  ہے۔ عمران خان نے نظام بدلنے  کی جد و جہد کرتے ہوئے جب چند برس پہلے  اقتدار حاصل کرنے کے لئے  اسٹبلشمنٹ  کا آلہ کار بننے کا فیصلہ کیا تو ان کے اقتدار کا راستہ تو ہموار ہوگیا لیکن  پارٹی پروگرام سے وفادار کارکن یتیم ہوگئے۔ انہوں نے یا تو لیڈر کی بات کو ہی اس کا ’ویژن‘ قرار دینے میں عافیت سمجھی یا وہ خاموشی سے پارٹی چھوڑ گئے۔ جنہوں نے پارٹی کے اندر رہتے ہوئے  لیڈر کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی انہیں نشان عبرت بنادیا گیا۔   لہذا دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کے لئے بھی انہیں سیاسی خانوادوں نے کردار ادا کیاہے  جو اس سے پہلے مسلم لیگ (ن)   یا پیپلز پارٹی کے  ’وفادار‘ تھے۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ہیں لیکن ان کے سربراہ  خاندان کی   منفعت کو ہی دراصل سیاسی پروگرام یا حکمت عملی  قرار دیاجاتا ہے۔  اس کی تازہ ترین مثال  اس سال کے شروع میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کی متفقہ منظوری کی صورت میں سامنے آچکی ہے۔ جب کسی سیاسی پارٹی میں  ہی جمہوریت نہیں ہوگی جو بظاہر ملک میں جمہوریت اور آئینی بالادستی یعنی  انفرادی حق رائے کی سربلندی کے لئے کام کرتی ہے تو  اسے کیسے سنجیدہ کوشش  سمجھا جاسکتا ہے؟ پارٹی میں ایک فرد یا خاندان کے افراد کو عقل کل قرار دینے سے    سیاسی امور پر مباحث اور مل جل کر فیصلے کرنے کی ثقافت بھی متاثر ہوتی ہے۔  کسی پارٹی میں خاندانی وراثت کا یہ نقصان بھی ہوتا ہے  کہ   ایک فرد پر لگنے والے الزامات کو پارٹی  پر  الزام سمجھا جاتا ہے اس طرح ذاتی مفاد کے  لئے سیاست کرنے کا رویہ راسخ ہوتا ہے۔

موجودہ حالات میں اگر دیکھا جائے کہ  مسلم لیگ (ن) پر نواز شریف  کا کنٹرول  نہ ہو بلکہ اس کے منتخب ادارے فعال ہوں جو  قومی سطح سے دیہات تک  ایک مربوط نظام سے بندھے ہوں اور سیاسی عمل  میں حصہ ادا کررہے ہوں تو نواز شریف یا ان کے خاندان پر لگنے والے الزامات  کا  پارٹی کی کارکردگی پر اثر مرتب نہیں ہوگا  اور نہ ہی پارٹی کو کسی ایک فرد  پر عائد ہونے والے الزامات کی روشنی میں مسترد کیاجاسکے گا۔ یہی اصول دیگر پارٹیوں پر منطبق  کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ جمہوری بنیاد پر کسی سیاسی پارٹی کو استوار کرنے سے کارکنوں کو تحریک ملے گی اور   پارٹیوں کو بڑی تعداد میں محنت کرنے والے سیاسی کارکن مل سکیں گے۔ اہم امور پر پارٹی کی نچلی سطح سے اوپر  تک مباحث کے بعد صاف ستھری  اورٹھوس رائے بھی سامنے لائی جاسکے گی۔ اس عمل کے نتیجہ میں اس الزام کا تدارک بھی ہوسکے گا کہ سیاستدان نااہل ہوتے ہیں، اس لئے فوج یا دیگر اداروں کی خدمات حاصل کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ سیاست دان سیاسی عمل سے گزرنے کے بعد ہی  معاملات کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے۔

سیاسی پارٹیوں کو افراد اور خاندانوں کے چنگل سے نکالے بغیر ملک میں جمہوری ثقافت کو فروغ دینا ممکن نہیں ہے۔ جب سیاسی کارکن یہ جانتا  ہو کہ وہ کبھی  کسی پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا کیوں کہ وہ  ’درست‘ خاندان میں پیدا نہیں ہؤا تو  اس کی سوچ جمہوری نہیں ہوگی  بلکہ وہ   جمہوریت کو ذاتی ترقی کے  ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرے گا۔ اسی طرح   سیاسی فکر اور متبادل آرا کی تشکیل اور بہتر راستہ   تلاش  کرنے کا عمل بھی مسدود ہوگا۔

پاکستان کی سیاسی پارٹیاں جمہوریت کی جد و جہد میں اگر اس بنیادی نکتہ کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوسکیں تب ہی  ایسا  ڈھانچہ استوار  ہوسکتا ہے  جسے بندوق کی گولی یا عدالتی اختیار نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔  اسی وقت ملک میں آئینی نظام کو ہمہ قسم خطرات سے محفوظ کیا جاسکے گا۔

loading...