لاہور ہائی کورٹ نے دوہفتے کے لئے شہباز شریف کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی

  • بدھ 03 / جون / 2020
  • 980

لاہور ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کو 17 جون تک گرفتاری سے روک دیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب سے جواب بھی طلب کر لیا ہے۔

شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ میں عبوری ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی جس میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔ شہباز شریف نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ نیب کو گرفتاری سے روکا جائے۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ وہ نیب کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر رہے ہیں۔ وہ کینسر کے مریض ہیں اور ملک میں کورونا کی وبا بھی پھیل چکی ہے۔

درخواست پر بدھ کو لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق عباسی اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ شہباز شریف کی جانب سے اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز ایڈوکیٹ پیش ہوئے۔ اسپیشل پراسیکیوٹر نیب سید فیصل رضا بخاری بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

دورانِ سماعت جج نے استفسار کیا کہ کیا نیب درخواست ضمانت کی مخالفت کرتا ہے جس پر نیب کے وکیل نے بتایا کہ جی بالکل نیب اس کی مخالفت کرتا ہے۔ نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ شہباز شریف تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے۔ عدالت نے سوال اُٹھایا کہ نیب نے 28 مئی کو وارنٹ گرفتاری جاری کیے تو پھر دو جون کو دوبارہ طلبی کا نوٹس کیوں بھیجا؟

عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں شہباز شریف کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے اُنہیں 17 جون تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا۔ شہباز شریف کو پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ عدالت نے نیب سے جواب طلب کیا ہے کہ کن ٹھوس شواہد کی بنا پر شہباز شریف کو گرفتار کرنے کی ضرورت ہے۔

شہباز شریف کی لاہور ہائی کورٹ آمد پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد بھی عدالت کے باہر موجود تھی۔ وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے سیاسی اُمور شہباز گل نے مقامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا کہ شہباز شریف جو مرضی کر لیں اُن کا مقدر جیل ہی ہے۔ مشرف دور میں ڈیل کر کے جدہ جانے والے ایک بار پھر اسی نوعیت کی ڈیل کے خواہاں ہیں۔

loading...