امریکہ میں احتجاج کا سلسلہ جاری، کرفیو کی خلاف ورزی

  • بدھ 03 / جون / 2020
  • 2540

امریکہ میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف ملک بھر میں آٹھویں روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ مختلف شہروں میں کرفیو کی خلاف ورزی اور لوٹ مار کے متعدد واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

ہزاروں امریکی شہری منگل کو بھی مختلف شہروں میں سڑکوں پر جمع ہوئے اور پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا۔  ہیوسٹن میں  جارج فلائیڈ کی رہائش گاہ کے باہر بھی ہزاروں افراد اکھٹے ہوئے اور اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرین ایک مرتبہ پھر وائٹ ہاؤس کے باہر پارک میں جمع ہوئے جہاں سے پیر کو پولیس نے اُنہیں آنسو گیس کی شیلنگ کر کے پیچھے دھکیل دیا تھا۔  احتجاج کے دوران امریکہ کی ریزرو فوج 'نیشنل گارڈ' کے دستوں نے واشنگٹن ڈی سی میں واقع 'لنکن میموریل' کا کنٹرول بھی سنبھال لیا جہاں مظاہرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

لاس اینجلس، فلاڈیلفیا، اٹلانٹا اور سیاٹل میں بھی ریلیوں میں مظاہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نیویارک میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جس کے دوران لوٹ مار کے کئی واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ دن کے اوقات میں نیویارک میں مظاہرین نے پرامن طور پر احتجاج کیا۔ تاہم بعض علاقوں میں سورج ڈھلتے ہی لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور املاک کو آگ لگانے کے واقعات بھی پیش آئے۔

مظاہرین نے رات آٹھ بجے سے نافذ ہونے والے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بارکلے سینٹر سے بروکلن برج تک مارچ کیا۔ اس دوران پولیس کے ہیلی کاپٹر فضا میں پرواز کرتے ہوئے مظاہرین کو آگے نہ بڑھنے کی ہدایت کرتے رہے۔  مین ہٹن برج پر موجود مظاہرین پل کے داخلی راستے پر جمع ہوئے اور پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر نعرے بازی کرتے رہے کہ "ہمیں کچل دو، ہمیں کچل دو۔"

نیویارک میں پیش آنے والے واقعات پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیویارک مکمل طور پر کنٹرول سے باہر ہو گیا ہے۔  ایک ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ گورنر اینڈریو کومو کو چاہیے کہ وہ فسادات کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔

امریکہ کے آئندہ صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے ممکنہ ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ جب ہزاروں امریکی وائٹ ہاؤس کے باہر پر امن طور پر احتجاج کر رہے تھے۔ اس وقت صدر نے فوٹو شوٹ کے لیے اُن پر آنسو گیس کی شیلنگ کروائی۔  انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو عوام نے تمام امریکیوں کی خدمت کے لیے منتخب کیا تھا لیکن وہ صرف اپنے مفادات کو دیکھ رہے ہیں۔

loading...