پاکستان میں کورونا وبا سے مئی کے دوران 54 ہزار افراد متاثر

  • سوموار 01 / جون / 2020
  • 1580

پاکستان میں کورونا وبا کے 72 ہزار 678  کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جبکہ اموات کی تعداد تک جاپہنچی ہے۔ دنیا میں اس وبا سے 62 لاکھ افراد متاثر ہوچکے ہیں۔ عالمی سطح پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین لاکھ 72 ہزار ہے۔

پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آج ابھی تک 1610 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 23 اموات کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کی  وبا کو 3 ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس عرصے کے دوران اس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوا جبکہ مئی کا مہینہ اب تک کا بدترین ماہ ثابت ہوا۔ مئی کے مہینے میں پاکستان میں 54 ہزار سے زائد کیسز اور 1100 سے زائد اموات ریکارڈ کی گئیں۔

صوبہ سندھ میں آج کورونا وائرس کے مزید 1402 کیسز اور 22 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں صوبے میں 1402 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 29 ہزار 647 ہوگئی ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اس وقت 14 ہزار 554 مریض زیرعلاج ہیں جن میں سے 13 ہزار 346 مریض گھروں میں، 113 آئسولیشن مراکز اور 1095 مریض ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ 342 کی حالت تشویشناک ہے۔

وزارتِ صحت اور نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سندھ کرونا وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔پنجاب میں 26 ہزار 240، خیبرپختونخوا میں 10 ہزار 27، بلوچستان میں چار ہزار 393، گلگت بلتستان میں 711، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 255، اسلام آباد میں دو ہزار 589 کیسز موجود ہیں۔

ہلاکتوں میں پنجاب سب سے آگے ہے جہاں اب تک 497 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں 481، خیبر پختونخوا میں 473، بلوچستان میں 47، اسلام آباد میں 28، گلگت بلتستان میں 11 اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کہتے ہیں کہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو سخت لاک ڈاؤن کیا جاسکتا ہے۔ ان کے بقول ملک میں کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اموات بھی بڑھ رہی ہیں۔ پاکستان میڈیکل ایسویسی ایشن کے ڈاکٹر قیصر سجاد کہتے ہیں کہ کورونا کے مریضوں کے حوالے سے احتیاط ہی واحد علاج ہے لیکن پاکستان میں جیسے لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی ہے اس سے کیسز کی تعداد بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف عام مریض نہیں بلکہ طبی عملہ بھی شدید مشکلات کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

امریکہ میں وائٹ ہاؤس نے سرکاری اور نجی کمپنیوں کے اشتراک سے ایک کنسورشیم بنایا ہے جو کورونا وائرس کے علاج اور اس کی ویکسین کے سلسلے میں تحقیق میں مدد دے گا۔ یہ سپر کمپیوٹر شمالی کیلیفورنیا میں ناسا کے ریسرچ سینٹر میں نصب ہے۔

امریکی سرکاری ادارے اور نجی صنعتوں کا ایک کنسورشیم خلائی ادارے ناسا کے سپر کمپیوٹر کو کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں استعمال کر رہا ہے۔ اس سپر کمپیوٹر کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ انسانی جسم میں وائرس کا کس طرح خلیوں سے ربط پیدا ہوتا ہے اور اس سلسلے جینیاتی عمل دخل کتنا ہے اور اس مرض کے علاج کے لیے کس قسم کی ادویات بنائی جا سکتی ہیں۔

loading...