بھارت کورونا وائرس سے متاثرہ 10 بدترین ممالک میں شامل

  • سوموار 25 / مئ / 2020
  • 3060

پاکستان میں کورونا کے مصدقہ کیسز 56 ہزار 272 ہوگئے جبکہ اموات 1164 تک پہنچ گئی ہیں۔ دنیا میں کورونا متاثرین کی تعداد 54لاکھ 28 ہزار اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3 لاکھ 38 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

بھارت میں گزشتہ چار روز کے دوران کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافے کے بعد بھارت عالمی وبا سے متاثرہ 10 بدترین ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔  بھارتی چینل 'این ڈی ٹی وی' کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کے لیے گزشتہ ہفتہ ہلاکت خیز رہا جہاں صرف پیر کو 5242 نئے کیسز کی تصدیق کی گئی ہے۔

بھارت میں جمعے کو 6088، ہفتے کو 6654 اور 6767 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس طرح بھارت میں عالمی وبا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 38 ہزار ہوگئی ہے۔ بھارت میں کورونا وائرس سے صرف ایک دن میں 154 ہلاکتوں کے بعد مرنے والوں کی مجموعی تعداد چار ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔

 

اس وقت دنیا کے 196 ممالک کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہیں جب کہ 10 ممالک ایسے ہیں جنہیں بدترین متاثرہ ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں بھارت کا 10 واں نمبر ہے۔ وائرس سے متاثرہ 10 ممالک میں امریکہ سرِ فہرست ہے اس کے بعد برازیل، روس، برطانیہ، اسپین، اٹلی، فرانس، جرمنی ترکی اور بھارت شامل ہیں۔

بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق وزیرِ اعظم نریندر مودی کی طرف سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کرنے کے دو ماہ بعد ہی نرمی کیے جانے کے باعث وہاں رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ ریاست مہاراشٹر ہے جہاں اتوار تک کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ یہاں ایک دن میں رپورٹ ہونے والے نئے کیسز کی تعداد 3041 ہے۔

بھارت میں پچیس مارچ کو نافذ کردہ لاک ڈاؤن کے باعث تمام اندرونِ و بیرون ملک پروازوں کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ تاہم پیر کو دو ماہ بعد مقامی پروازوں کی بحالی کا ایک مرتبہ آغاز ہوا تو کئی پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ صرف دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے 82 پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔ ایئر پورٹ حکام کا کہنا ہے کہ مختلف ریاستوں کی جانب سے مرکز کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر پروازیں چلانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکہ میں ییر تک متاثرین کی تعداد 16 لاکھ 47 ہزار 663 تھی جب کہ اس مرض سے مرنے والوں کی تعداد 97 ہزار 568 ہو چکی تھی۔  امریکہ میں پیر کو وطن کے لیے جانیں قربانیں کرنے والے ہزاروں فوجیوں کی یاد میں 'میموریل ڈے' منایا جا رہا ہے لیکن کورونا کی وبا کے باعث اس دن کی کئی تقریبات منسوخ یا محدود کردی گئی ہیں۔

میموریل ڈے کے موقع پر امریکہ بھر میں عام تعطیل ہے اور قومی پرچم پیر کو مسلسل چوتھے روز بھی سرنگوں ہے۔ اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا کی وبا کا شکار ہو کر اپنی جان سے جانے والے ہزاروں امریکیوں کی یاد میں جمعے سے اتوار تک تین دن کے لیے ملک بھر میں پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکہ میں ہر برس مئی کا آخری پیر ملک کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے امریکی مرد و خواتین فوجیوں کی یاد میں 'میموریل ڈے' کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے امریکہ بھر میں خصوصی تقریبات منعقد ہوتی ہیں، پریڈز کا انعقاد کیا جاتا ہے اور فوجیوں کی قبروں پر پھول نچھاور کیے جاتے ہیں۔

لیکن اس بار امریکی قوم یہ میموریل ڈے ایسے موقع پر منا رہی ہے جب ملک بھر میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ وبا سے مرنے والوں میں ایک ہزار سے زائد سابق فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔ کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں اور متاثرہ مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے امریکہ دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے۔

loading...