پشاور بی آر ٹی منصوبہ ایک ماہ میں مکمل کرنے کی یقین دہانی

  • سوموار 25 / مئ / 2020
  • 1400

خیبر پختونخوا حکومت نے وزیرِ اعظم عمران خان کو پشاور بس منصوبہ ایک ماہ میں مکمل کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

وزیرِ اعظم کو یہ یقین دہانی اسلام آباد میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کرائی گئی ہے۔ تاہم پشاور کے سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ اس منصوبے کا بیشتر حصہ نامکمل ہے اس لیے ایک ماہ میں بی آر ٹی منصوبے کی تکمیل ناممکن نظر آتی ہے۔  

اس منصوبے کا افتتاح سابق وزیراعلیٰ اور موجودہ وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے اکتوبر 2017 میں کیا تھا۔ افتتاح کرتے وقت پرویز خٹک اور حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں نے منصوبے کو چھ ماہ میں مکمل کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم یہ منصوبہ تاحال زیرِ تعمیر ہے۔  پشاور کے سیاسی، سماجی اور کاروباری حلقوں نے ابتدا میں ہی اس منصوبے کو ناصرف غیر ضروری قرار دیا تھا بلکہ دوران تعمیر اس کے تجارتی و کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات کی بھی نشاندہی کی تھی۔

شہریوں نے پشاور ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست بھی دائر کی تھی جس پر عدالت نے پچھلے سال وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا لیکن خیبرپختونخوا حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے ایف آئی اے کو تحقیقات سے روک دیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ میں بی آر ٹی منصوبے کے خلاف درخواست دائر کرنے والے سابق صوبائی وزیر اور جمعیت العلمائے اسلام کے رہنما مولانا امان اللہ حقانی نے وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان کو کروائی گئی  یقین دہانی پر ردِ عمل میں کہا ہے کہ اس قسم کی کئی یقین دہانیاں پہلے بھی کروائی جاچکی ہیں لیکن بات صرف یہیں تک محدود رہی۔

مولانا امان اللہ حقانی کا کہنا ہے کہ ایک ماہ بعد بھی صورتِ حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ منصوبے کے کئی اسٹیشن پر کام ادھورا ہے جب کہ دیگر تعمیراتی کام بھی اب تک مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ اٹھائیس کلو میٹر طویل اس منصوبے کے حوالے سے اکھاڑ پچھاڑ کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں تاہم پشاور ڈویلیمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سید ظفر علی کا کہنا ہے کہ تقریباً 99 اعشاریہ 99 فی صد کام مکمل ہے۔ صرف تزئین و آرائش کا کام باقی ہے جو بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

اس منصوبے سے جہاں شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے وہیں اس سے وابستہ مزدور اور چھوٹے ٹھیکیدار، بڑے ٹھیکیداروں کی جانب سے ادائیگی نہ کیے جانے کا شکوہ کرتے ہیں۔ منصوبے پر 46 ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا یبکغ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس کی لاگت 100 ارب روپے تجاوز کر گئی ہے۔

واضح رہے کہ منصوبے کے لیے بسوں کی خریداری جولائی 2018 میں ہی مکمل کرلی گئی تھی ۔ اس وقت صوبے میں پرویز خٹک وزیر اعلیٰ تھے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے اس منصوبے میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

loading...