کراچی طیارہ حادثے میں 97 افراد جاں بحق ہوئے، لاشوں کی شناخت کا عمل جاری

  • ہفتہ 23 / مئ / 2020
  • 2070

کراچی میں پی آئی اے کے طہیارے  کو پیش آنے والے حادثہ میں 97 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ دو افراد اس سانحہ میں زندہ بچ گئے ہیں۔   لاہور سے آنے والے طیارے میں عملے کے آٹھ ارکان سمیت 99 افراد سوار تھے۔

وزیر اعظم پاکستان نے ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے لیے لواحقین کو 10 لاکھ روپے فی کس ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل کی پرواز پی کے 8303 لاہور سے کراچی آرہی تھی۔ پائلٹ نے دو بار لینڈنگ کی کوشش کی لیکن طیارہ آبادی پر گرگیا۔ طیارے میں سوار دو افراد زندہ بچ گئے جن میں پنجاب بینک کے صدر ظفر مسعود شامل ہیں۔ حادثے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ مکانات اور گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔ میتوں کی تدفین کے لیے لواحقین کو 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لاہور سے ڈی این اے ماہرین کی خصوصی ٹیم بھی کراچی پہنچ گئی ہے۔

کراچی میں جمعے کو گر کر تباہ ہونے والے طیارے کے حادثے میں ہلاک افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ درجنوں لاشیں کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں واقع ایدھی سرد خانے میں موجود ہیں۔  پی آئی اے کے طیارے کا ملبہ اٹھانے کا کام دوسرے روز بھی جاری ہے۔ حادثے میں 97 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ حادثے میں مکانات اور گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔ کراچی میں جائے حادثہ کے دورے کے بعد گورنر سندھ کے ہمراہ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا کہ تباہ ہونے والے گھروں کی تعمیر و مرمت کا مکمل خرچ حکومت برداشت کرے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کی گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں، اُن کے نقصان کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔

غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے انشورنس کی رقم جو لگ بھگ 50 لاکھ بنتی ہے، جلد از جلد ادا کی جائے گی۔ وزیر ہوا بازی نے کہا کہ حادثے سے متعلق ہر تفصیل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔  گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ یہ کسی معجزے سے کم نہیں کہ اتنا بڑا طیارہ زمین پر گرا اور کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور کے ہمراہ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پہلے ہی کورونا کی وجہ سے رمضان اور عید پھیکی پڑ گئی تھیں اب اس حادثے نے غم میں اضافہ کر دیا ہے۔ گورنر سندھ نے بتایا کہ ڈی این اے ٹیم لاہور سے کراچی آ چکی ہے جو اپنا کام کر رہی ہے۔

loading...