کراچی ایئرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ گر کر تباہ

  • جمعہ 22 / مئ / 2020
  • 1340

کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے قریب پاکستان ایئر لائن کا مسافر طیارہ ائر بس اے 320 گر کر تباہ ہو گیا ہے جس کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

مسافر طیارہ لاہور سے کراچی آ رہا تھا کہ لینڈنگ سے کچھ لمحے قبل ایئر پورٹ ہی کے قریب ماڈل کالونی کے علاقے میں آبادی پر گر کر تباہ ہوا جس سے بعض گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔  حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں 91 مسافر اور عملے کے آٹھ اہلکار سوار تھے۔ حادثے کے نتیجے میں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متاثرہ مقام سے آسمان کی جانب سیاہ دھواں بلند ہو رہا ہے جب کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ جائے وقوعہ پر مکینوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ تنگ گلیوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان کے شعبہ تعلقاتِ عامہ  کے مطابق فوج اور رینجرز کے اہلکاروں نے جائے وقوعہ پر پہنچنے کے بعد سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ریسکیو اور ریلیف آپریشن شروع کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ حادثے کے شکار مسافر طیارے میں 160 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی تاہم کورونا وائرس کے حفاظتی اقدامات کی وجہ سے طیارے میں 91 مسافر سوار تھے۔ ترجمان پی آئی اے عبداللہ کے مطابق مسافر طیارے کے حادثے کے بعد پی آئی اے ایمرجنسی آپریشن کے تمام فنکشنز فعال ہو گئے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا اور پرواز کے لیے عالمی معیار کے مطابق تھا۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے طیارہ حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ایک ٹوئٹ میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشد ملک کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ جو حادثے کے فوری بعد کراچی روانہ ہو چکے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ حادثے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے، میری دعائیں حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے ساتھ ہیں۔

 ماڈل کالونی کے جائے حادثہ سے موصول ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے ہے کہ امدادی کارکن اور مقامی رہائشی ملبہ ہٹانے اور زخمیوں کو نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ جائے حادثہ کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارہ ایک تنگ گلی میں گرا ہے اور ارد گرد کے گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

کراچی کے جناح ہسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب تک ان کے ہسپتال میں آٹھ لاشیں لائی جا چکی ہیں جن میں دو خواتین اور چھ مرد ہیں۔  انہوں نے بتایا کہ اب تک چھ زخمی افراد کو ہسپتال لایا گیا ہے جن میں دو خواتین اور چار مرد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں میں زیادہ تعداد جل کر متاثر ہونے والوں کی ہے۔

واقعے کے بعد پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر مارشل ارشد ملک نے فوری طور پر کراچی روانہ ہوتے وقت ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ پائلٹ نے کنٹرول روم کو بتایا کہ طیارے میں کوئی تکنیکی مسئلہ ہے اور اس نے لینڈنگ کے لیے 2 رن وے تیار ہونے کے باوجود لینڈنگ کے بجائے واپس گھومنے کا فیصلہ کیا۔

اس واقعے کے فوری بعد سامنے آنے والی فوٹیجز میں حادثے کے مقام سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا جبکہ جائے وقوع پر موجود عینی شاہدین نے بتایا کہ طیارے میں تباہ ہونے سے پہلے آگ لگ گئی تھی۔

واقعے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے، ریسکیو حکام اور مقامی لوگ جائے وقوع پر پہنچ گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ طیارہ حادثے پر نقصانات کی تشخیص اور ریسکیو اقدامات کے لیے پاک فوج کے آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز روانہ کردیے گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کو ریسکیو اقدامات کے لیے جائے وقوع روانہ کیا گیا ہے۔

طیارہ حادثے کی اطلاع ملتے ہے وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے شہر کی تمام فائر بریگیڈ گاڑیوں کو فوری طور پر ماڈل کالونی حادثہ کے مقام پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں کا حکم دے دیا۔ ترجمان پاک بحریہ کی جانب سے بتایا گیا کہ کراچی میں طیارہ گرنے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لئے پاک بحریہ بھی معاونت کر رہی ہے۔ پاک بحریہ کے 4فائر ٹینڈرز جائے وقوع کی طرف روانہ کردیے گئے ہیں۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی ہدایات پر تمام ایمرجنسی سروسز اور وسائل کا استعمال برائے کار لایا جارہا ہے۔ دوسری جانب سندھ کی وزارت صحت کی میڈیا کو آرڈینیٹر میران یوسف کے مطابق وزارت صحت نے کراچی کے تمام بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

کراچی میں طیارہ گرنے پر وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجودہ، اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سمیت مختلف شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ پی آئی اے کا طیارے گرنے پر دل نہایت رنجیدہ اورمغموم ہے۔

loading...