کرم اے شہ عرب و عجم

اس میں شک نہیں کہ اس وقت پوری دنیا کورونا  سے پنجہ آزما ہے۔ لیکن اس نادیدہ دشمن کو شکست دینے کے اسباب  تاحال پہنچ سے باہر ہیں۔ طرح طرح کے بیانات منظر عام پر آرہے ہیں۔ لیکن ابھی تک وہ سرا نہیں ملا جسے گرفت میں لایا جاسکے۔

ہم اپنے عقیدے کے تحت ان مناجات کی طرف راغب ہیں جن میں خالق حقیقی اور خالق کائینات سے راسخ عقیدت کے ساتھ التجا کی جاسکتی ہے۔ لیکن پسماندہ ملک کے باسیوں کو اور بھی مسائل نے گھیر رکھا ہے۔ اس وقت ہمیں کورونا سے بھی خطرناک حالات کا سامنا ہے۔ نواز شریف ’غائب النظر‘  سہی شہباز شریف لندن سے لوٹ آئے ہیں۔ اور ساتھ وہ نسخہ لے کر آئے ہیں کی پرانی شراب کو نئی بوتلوں میں کیسے  ڈالا جائے۔ ان کی طبیعت اس قدر ناساز ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے۔ بلکہ کمپیوٹر کے سامنے بھی ماسک لگائے نظر آتے ہیں۔ یہ لندن جانے کی  تمہید تو نہیں؟

اسمبلی کا اجلاس بھی ہوگیا۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر بھی عنقا اور پاکستان کے وزیر اعظم بھی عنقا۔ ایک وزیر اعظم دوسرا اپوزیشن لیڈر۔ اجلاس کیاتھا ایک مجموعہ اضداد تھا۔  ہمارے بزرگ سیاست دان عمران خان کی کاوشوں کو سراسر نظرانداز کرکے ’میں نہ مانوں‘ کی رسہ کشی میں سراپا مبتلا:’ میں ہوں شفاف تم غلیظ، ہم نے ملک سنوارا اور تم ملک کو اجاڑ رہے ہو‘ ہم ہیں عقل مند اور تم نالائق‘۔

کسی کو یاد نہیں رہا  کہ اس وقت ہم عالمی برادری کے ہمراہ کورونا  سے نبرد آزما ہیں۔ ہم نے اس آفت ناگہانی کو سراسر نظرانداز کردیا۔ انٹرنیشنل کرپشن کو نظر انداز کردیا۔ انٹر نیشنل بھونچال کو نظرانداز کردیا۔ عالمی  برادری کی مجموعی جد و جہد کو نظر انداز کردیا لیکن انہوں نے  کسی کے چرچے تو کرنے ہی تھے:

ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے
خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے

اسی اسمبلی میں خواجہ آصف فرماتے ہیں وزیر خارجہ کو استعفیٰ دینا چاہئے۔ اور اسی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں وزیر اعظم مستعفی ہوجائیں۔ کیا یہ دونوں اس طرح اپنی ’باری‘ کی راہ ہموار کررہے ہیں؟ کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے۔ ہر گفتگو کا ایک مقام  ہوتا ہے۔  ہرسوچ کا ایک محور ہوتا ہے۔ لیکن ہماری اسمبلی تو سبحان اللہ ۔ خواجہ آصف کے خطاب کی تلخ نوائی میں تضاد، بلاول بھٹو کی گھبراہٹ میں تضاد، شاہد خاقان عباسی کے قول و فعل میں تضاد، اپوزیشن کہتی ہے  کہ ہمارے ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر ناپید ہیں۔ حکومت کہتی ہے ہمارے ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر دستیاب ہیں۔  اپوزیشن کہتی ہے حکومت وہ سارے اقدامات نہیں کررہی جو ضروری ہیں۔  حکومت کہتی ہے ہم وہ اقدمات کررہے ہیں جو ضروری ہیں۔

نیشنل اسمبلی میں جب مراد سعید اپنا بیان سنانے آئے تو  حزب اختلاف نے بائیکاٹ کردیا:

یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے

اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی

ہمارے زیرک ممبران اسمبلی اس بات سے ضرور واقف ہوں گے کہ چین دنیا کا سب سے بڑا خام مال درآمد کرنے والا ملک ہے۔ چین کی درآمدات دنیا کے بہت سے ملکوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ کورونا نے چین کی انڈسٹری کو بری طرح اثر انداز کیا ہے۔ چین نے خام مال کی درآمد کو کم کردیا ہے۔ جس کا براہ راست اثر بہت سے ممالک کی درآمد پر  پڑا ہے۔ نتیجہ مہنگائی کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ ہم پاکستان کے باسی ہیں۔  ہم صرف آٹے چینی کی مصنوعی قحط سالی کرکے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی تجارتی لغزشوں سے مکمل فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور مزید مہنگائی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

کیا یہ لازم نہ تھا   کہ ہم نیشنل اسمبلی  میں بین الاقوامی تجارت پر بحث کرتے اور درمیانی راستہ نکالتے؟ چین کے خام مال کی درآمد پر بات کرتے۔ اور  ان اثرات کی بات کرتے جو دوسرے ممالک پر پڑیں گے۔ اس پر اپنا  فاضلانہ نکتہ نظر پیش کرتے۔  ڈالر کی بین الاقوامی حیثیت پر بات کرتے اور اس معاملہ کو زیر بحث لاتے  کہ ڈالر کی موجودہ حیثیت پاکستانی قرضوں پر کیا اثر ڈالے گی۔ اور عمومی طور پر کورونا سے نجات حاصل کرنے اور اس کے اثرات اس سے محفوظ رہنے کی تدابیر کرتے اور قوم کو خبردار کرتے۔

ہم اس سوچ میں غلطاں ہیں کہ ہم کس طرح شہ عرب و عجم   سے اپنی   کوتاہیوں اور اپنے میر کارواں کی تنگ نظری کی معافیوں کے طلب گار ہوں۔ اور کس طرح اپنے  نادانستہ گناہوں کی معافیاں مانگیں:

پتا پتا  بوٹا بوٹا   حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

loading...