قانون، رویے اور ادارے

یہ ماجرا تیرہویں صدی عیسوی کا ہے۔ مصر کے چیف جسٹس عزالدین بن عبدالعزیز بن عبدالسلام کے پاس زمین کی تقسیم کا ایک مقدمہ آیا۔ اس مقدمے میں چھپا ایک نکتہ زمین کی سرکاری الاٹمنٹ کا بھی تھا۔ عدالت نے اس نکتے کی وضاحت چاہی تو پتا چلا کہ محکمہ مال کے سربراہ نے اس زمین کی الاٹمنٹ کی تھی۔

اس وقت تک مصر میں مملوکوں کے عروج کا آغاز ہو چکا تھا۔ مملوک وہ لوگ تھے جو دنیا کے مختلف علاقوں سے غلام کی حیثیت میں لائے گئے تھے۔ پھر ان غلاموں کو اتنا عروج ملا کہ یہ حکمران ہو گئے۔ چیف جسٹس کی عدالت میں جب محکمہ مال کے سربراہ کی حیثیت کا سوال اٹھا تو معلوم ہوا کہ یہ شخص بھی مملوکوں میں سے ہے، یعنی اسے بھی سرکار نے بطور غلام خریدا تھا۔ اسلامی قوانین کے مطابق غلام اعلیٰ سرکاری ملازمت کا اہل نہیں۔ عزالدین بن عبدالعزیز بن عبدالسلام نے اس نکتے کو بنیاد بنا کر فیصلہ کیا کہ ایک غلام کی طرف سے کی گئی زمین کی الاٹمنٹ ہی غیرآئینی ہے، لہٰذا یہ اراضی واپس حکومت کے سپرد ہو گی۔

جب عدالتی فیصلے کی رو سے غلاموں کا اعلیٰ عہدے پانا غیر قانونی قرار پایا تو سلطنت میں آئینی بحران پیدا ہوگیا، کیونکہ نائب السلطنت (وزیراعظم) بھی ایک مملوک تھا۔ سینکڑوں بڑے افسر اپنے عہدوں سے الگ ہو گئے اور سرکاری کام مکمل طور پر رک گئے۔ ملک کے مدبرین اور سیاستدانوں نے بحران کے خاتمے کے لیے سر جوڑ لیے۔ کچھ سمجھ نہ آیا تو قاضی کے پاس گئے کہ اسے فیصلہ واپس لینے کے لیے کہیں۔ قاضی نے فیصلہ واپس لینے سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ استعفے کی دھمکی بھی دے دی۔

حکومت نے فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کیا تو قاضی صاحب نے اپنی کتابیں ایک گدھے پر لادیں اور قاہرہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ اب صورت یہ بنی کہ شہرکے لوگ قاضی کو روکنے کے لیے ان کے راستے میں کھڑے ہو گئے۔ بات اتنی بڑھی کہ مصرکا حکمران نجم الدین ایوب خود عزالدین بن سلام کو منانے کے لیے ان کے راستے میں کھڑا ہوگیا۔ انہوں نے واپسی کی صرف یہ شرط رکھی کہ ان کا فیصلہ نافذ کیا جائے۔ حکومت تیار ہوگئی اور فیصلے کے نفاذ کا اختیار قاضی کو دے دیا۔ انہوں نے فیصلے کی زد میں آنے والے تمام افسروں بشمول وزیراعظم کو اپنی تحویل میں لیا اور بطور غلام ان کی نیلامی کا وقت مقرر کر دیا۔ پھر یہ منظر بھی آسمان نے دیکھا کہ یہ سارے امرا یکے بعد دیگرے نیلامی کے چبوترے پر آتے، لوگ ان کی بولی لگاتے سب سے بڑی بولی سے بڑھ کر مصر کا بادشاہ اپنی پیشکش دیتا اور غلام کی ملکیت اسے منتقل ہوجاتی۔ یوں سارے، غلام، بادشاہ نے خرید کر آزاد کیے اور مملکت کا نظام چلنے لگا۔

عزالدین بن سلام واپس اپنی عدالت کو لوٹ گئے۔ انہیں حکومت نے کچھ نہیں کہا اور بعد کے بادشاہ بھی ان کے فیصلوں کے اس قدر پابند رہے کہ منگولوں سے جنگ کے لیے سلطان سیف الدین قطز نے عوام سے قربانی مانگی تو عدالت کے حکم پر بادشاہ سمیت تمام امرا کو اپنی دولت سب سے پہلے جنگی اخراجات کے لیے جمع کرانا پڑی۔ مصر کی آزاد عدلیہ اور قانون کی پابند انتظامیہ، دونوں دنیا کی تاریخ میں ایک مثال بن گئے۔ اداروں کے اپنے اپنے دائرے میں رہنے کے اس نادر مظاہرے کے بعد مغربی دنیا کی بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں جہاں ایک ادارہ بدترین حالات میں بھی دوسرے کے اختیار استعمال نہیں کرتا، لیکن میری معلومات کے مطابق مسلم دنیا میں یہ آخری نظیر تھی۔

اداروں کا اپنی حدود سے باہر نکلنا درحقیقت کسی ملک کی تباہی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اگر آپ کو تاریخ کے دیے اس سبق پریقین نہیں آتا تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ہی دیکھ لیجیے۔ یہاں کون سا ایسا ادارہ ہے جس کو یہ امتیاز حاصل ہو کہ وہ صرف اپنا کام کرتا ہے؟ بعض اداروں نے جو کچھ ہمارے ساتھ کیا، اس پر دفتر کے دفتر لکھے جا چکے ہیں لیکن مجال ہے کسی نے کچھ سبق سیکھا ہو۔ ہر نیا آنے والا اپنے سے پہلے والے کی ماری ہوئی مکھیوں پر مکھیاں مارتا چلا جاتا ہے۔

نہیں معلوم کہ ان اداروں کے سربراہوں کی کرسیوں میں کوئی خرابی ہے یا ہمارا انسان سازی کا سانچہ ہی خراب ہے کہ جو بھی ان اداروں کی سربراہی کرتا ہے، وہ قوم کی خدمت کی دھن میں باقی سب کچھ نظر انداز کیے جاتا ہے۔ دنیا کے کسی مہذب ملک میں یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ دواہم ترین سرکاری عہدیداروں کے درمیان اس بنیاد پر غلط فہمی پیدا ہو جائے کہ ان کی ملاقات میں کس کی کرسی میزکے کس طرف تھی۔ اس کرہ ارض پر ہمی ہیں جو اس طرح کی چیزوں پر ادارہ جاتی جنگیں شروع کردیتے ہیں۔

بنیادی اداروں کی کشاکش تو تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے اس لیے ان کے بارے میں ہم بہت کچھ جانتے ہیں۔ ان اداروں سے باہر بھی ”قوم کی خدمت“ کا یہ مرض اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ اگلے روز مجھے ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے بتایا کہ پنجاب کا محکمہ ماہی پروری اور محکمہ افزائش حیوانات بھی مل کر کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ گویا معاملہ اب محض قانونی نہیں رہا بلکہ اجتماعی رویے کا ہے۔ ایسا رویہ جو قانون کے تابع نہیں بلکہ شخصی خواہشات پوری کرنے کے لیے تشکیل پاتا ہے۔

سیانے کہتے ہیں کہ مچھلی سر سے سڑنا شروع ہوتی ہے۔ آج ہم اپنے اداروں کی نچلی ترین سطح پر سرکاری اختیار کے نام پر عام آدمی سے ذلت آمیز سلوک، برابر کے لوگوں کو اوقات میں رکھنے کے لیے سیاست اور اوپر کے لوگوں کو راضی رکھنے کے لیے ہر حد سے گزر جانے کی جو عادات دیکھ رہے ہیں۔ مچھلی والی مثال کو لیں تو درحقیقت یہ اوپر سے شروع ہوئی ہیں۔ تاریخ میں جائے بغیر اس کالم کے لکھنے والے اور پڑھنے والے کی یادداشت میں محفوظ واقعات ہی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ سیانوں نے ٹھیک ہی کہا تھا۔

افتخار چودھری نے ضد میں آ کر پاکستان سٹیل ملز اور ریکوڈک کاپر فیلڈ کے مقدموں میں جو فیصلے دیے ان کا تاوان پاکستان آج تک دے رہا ہے۔ ایک صاحب نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ جیسے ادارے کو اپنے انصاف کی بھینٹ چڑھا دیا۔ خود کو سب کچھ سمجھنے کے اس رویے نے جب وکلا کے دلوں میں جگہ پائی تو انجام یہ ہے کہ نچلی سطح پر عدالت، وکالت، انصاف اور قانون بے معنی اصطلاحیں بن کر رہ گئیں۔

یادش بخیر، وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد جب جنرل پرویز مشرف کی کابینہ میں انہی محکموں کے وزیر تھے تو کراچی میں ہونے والے ایک سیمینار میں انہوں نے ایک عجیب و غریب واقعہ سنایا۔ ان کے مطابق محکمہ شہری دفاع کے ایک اہلکار نے مطالبات پورے نہ ہونے پر رحیم یار خان میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی فیکٹری کا اس بنیاد پر چالان کر دیا کہ اس میں آگ بجھانے کے لیے ریت کی بالٹیاں موجود نہیں۔ اہلکار کی بیان کردہ صورتحال کے برعکس اس فیکٹری میں آگ بجھانے کا جدید ترین بندوبست موجود تھا لیکن سرکاری فائلیں اسی طرح چلیں جیسے انہیں اس راشی اہلکار نے چلانا چاہا اور کمپنی کو چالان بھرنا پڑا۔ جب وزیر باتدبیر یہ واقعہ سنا رہے تھے تو میں جونیئر صحافیوں کی صف میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ یہ سوچ اور یہ رویہ محض محکمہ شہری دفاع تک محدود نہیں، بہت سے دوسرے اہم اداروں میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ہمارے ادارے غالباً ایک ہی ذہنیت کے لوگوں کے ہاتھ میں ہیں۔

یہ تو ماضی قریب کی مثالیں ہیں۔ آج بھی دیکھ لیں کہ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے درمیان کوئی قانونی تنازعہ نہیں لیکن ان دونوں حکومتوں میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا تاثر پایا جاتا ہے، جو سب کچھ تباہ کیے جاتا ہے۔ ملک میں جاری احتسابی عمل پر نظر کر لیجیے۔ کوئی احمق ہو گا جو احتساب کے عمل پر اعتراض کرے گا حتیٰ کہ میری رائے تو یہ ہے کہ ملک میں موجود احتساب کے قانون پر من و عن عمل ہونا چاہیے لیکن یہ رویے ہیں جو اس پورے عمل کو مشکوک بنا دیتے ہیں۔

ہمارا مسئلہ قوانین کی کمزوری نہیں، ان قوانین کو نافذ کرنے والوں کے رویے ہیں۔ ریاست کے ہر ادارے کے ہر شخص کے لیے ہر مسئلہ ایک کیل ہے جسے وہ اپنے اختیارات کے ہتھوڑے سے حل کرنا چاہتا ہے۔ تضادات قانون میں نہیں اشخاص میں ہیں۔ مسئلہ ضابطے نہیں، رویے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

loading...