ٹوکیو کے چھوٹے کیفے میں محبت کی آنچ پر پکا شوارمہ

جاپانی رسم الخط میں لکھے تمام بورڈز میں واحد اس دوکان کا بورڈ تھا جو انگریزی میں لکھا گیا تھا۔ کاماکورا کا عظیم بدھا دیکھنے کے بعد شکم کےاحتجاج پہ ہم اس دکان کی طرف کھنچے چلے جا رہے تھے جہاں کچھ گھنٹے قبل شوارمہ کی خوشبو نے ڈاکٹر فرح کے پاؤں میں بیڑی ڈالنے کی کوشش کی تھی۔

ہم دونوں اندر داخل ہوئے تو ایک زوردار آواز میں اسلام علیکم نے ہمارا استقبال کیا، ہم تو جیسے اچھل ہی پڑے۔ نظر اٹھا کے دیکھا تو ایک ادھیڑ عمر صاحب کھڑے مسکرا رہے تھے، ساتھ میں ان ہی کی عمر کی خاتون بھی تھیں۔  ’آپ کو کیسے علم ہوا کہ ہم مسلمان ہیں؟ ‘  ہم نے پوچھا۔ ’میں روزانہ اتنے رنگ رنگ کے سیاحوں کو دیکھتا ہوں کہ مجھے فوراً نسلی اور مذہبی تعلق کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ میں تو یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ آپ دونوں کا تعلق برصغیر سے ہے‘۔

اب تو ہماری آنکھیں حیرت سے ابلنے کو تھیں۔’ آپ اپنا تعارف کروائیں گے؟ ‘

’ میں آپ کے لئے شوارمہ بنا لوں، پھر آپ کے سوال کا جواب دوں گا‘۔

جب تک بڑے میاں نے پھرتی سے شوارمہ بنایا، بڑی بی نے ہمارے سامنے برتن چن دیے۔ ہم بے چینی سے ان کے فارغ ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ ان دونوں نے اپنے لئے کافی بنائی اور ہمارے سامنے بیٹھ گئے۔ چھوٹی سی دوکان میں ہمارے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔

وہ گویا ہوئے : ’ میں مراکش میں پیدا ہوا اور وہیں پہ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ بیچلرز کرنے کے بعد میں فرانس آ گیا، وہاں سے پوسٹ گریجویشن کے بعد یونی ورسٹی میں پڑھانا شروع کیا۔ ریسرچ کی، کافی کتابیں لکھیں، انجینئرنگ ایگزیکٹو کونسل میں شامل رہا۔ فرانس میں ہی میں نے ایک جاپانی خاتون سے شادی کی تو یوں جاپان سے تعلق بن گیا۔ میرے چار بچے ہیں، جن میں سے دو پی ایچ ڈی کر چکے ہیں اور باقی دونوں بھی اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ یہ ہے میری مختصر سی کہانی‘  وہ مسکرائے۔

’مگر یہ شوارمہ شاپ‘ ہم ہکلائے

’ فرانس سے ریٹائر ہونے کے بعد میں اپنی بیگم کے ساتھ جاپان آ گیا تھا۔ بچے اپنی زندگی میں مصروف تھے، فارغ رہنے کی عادت نہیں تھی۔ مجھے زندگی کا ہنگام پسند ہے۔ سوچا کہ ایسے تفریحی مقام پہ کچھ کیا جائے جہاں دنیا کے ہر خطے کے لوگوں سے ملاقات رہنے کا امکان ہو۔ سو میں نے یہ کام سیکھا اور یہ دوکان کھول لی‘۔

شوارمہ واقعی بہت لذیذ تھا، آخر ایک اعلی تعلیم یافتہ کے ہنر کی داستان سناتا تھا۔ اس ساری کتھا میں بڑی بی انہیں مسکرا مسکرا کے دیکھتی رہیں۔ہم سے رہا نہ گیا:  ’آپ کی بیگم نظر نہیں آ رہیں؟‘  وہ مسکرائے: ’آپ کے سامنے تو بیٹھی ہیں ‘۔

’لیکن وہ تو جاپانی…. ‘ ہم اٹک اٹک کے بولے،۔

 ’یہ ایک علیحدہ داستان ہے، اگر آپ کے پاس وقت ہو تو…‘

آپ کو کیا خبر کہ ہم داستان گوئی کے کس قدر رسیا ہیں، وقت کو ماریے گولی، ہمیں قصہ سنائیے، دل ہی دل میں کہتے ہوئے ان سے بولے:’ جی ہم سننا چاہیں گے‘۔

’ جب میں مراکش میں پڑھتا تھا، نوعمری تھی، مجھے اپنی ایک ہم جماعت سے محبت ہو گئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو ٹوٹ کے چاہتے تھے۔ شادی کرنے کا سوچا تو ذات پات کی دیواروں بیچ میں کھڑی ہو گئیں۔ بہت سر پٹخا لیکن کامیابی نہ ہو سکی۔ اس کی شادی والدین کی مرضی سے کہیں اور ہو گئی اور میں مراکش چھوڑ، فرانس آ گیا‘۔

’ارے وہی ناکام لو سٹوری‘ ، ہم نے زیر لب کہا۔ ہم شوارمہ تناول کر چکے تھے اور اب بڑی بی ہمارے لئے کافی بنا رہی تھیں۔ اس دوران جو بھی گاہک آتا اسے وہ باہر کی طرف بنی چھوٹی کھڑکی سے نمٹا دیتیں کہ اندر بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی اور قصہ گوئی کا شغل جاری تھا:

’فرانس آ کے میں نے پڑھا، بہت سی جگہوں پہ کام کیا، ریسرچ میں مشغول رہا اور پھر میری اس جاپانی خاتون سے ملاقات ہوئی۔ کچھ ہی ملاقاتوں کے بعد ہم رشتہ ازدواج میں بندھ گئے۔ زندگی کا سفر شروع ہوا، ہمارے چار بچے پیدا ہوئے۔ بچے بڑے ہو گئے، میں ریٹائرمنٹ کے بعد بیگم کی فرمائش پہ جاپان آ گیا۔ ہماری زندگی کے تسلسل میں خلل تب پڑا جب کچھ برسوں پہلے یہ علم ہوا کہ کینسر ان کے جسم پہ قبضہ جما چکا ہے۔ یہ ہم سب کے لئے ایک اذیت کا باب تھا جو دفعتاً ہماری پرسکون زندگی میں نقب لگا بیٹھا تھا۔ ہم نے یہ جنگ مل کے لڑی لیکن ہم جیت نہ سکے‘۔

ہم کافی کی چسکیاں بھرتے ان کی بپتا سنتے تھے، ان کی آنکھیں نم نظر آتی تھیں۔ بچھڑنے والے دم رخصت پیچھے رہ جانے والوں کا کچھ حصہ ساتھ ہی لے جایا کرتے ہیں۔

’ان کے جانے کے بعد میں اداس تھا لیکن زندگی نے تو آگے بڑھنا ہی تھا۔ دل کو کتابوں اور مختلف دل چسپیوں میں بہلانا چاہا۔ ایک دن یونہی خیال آیا کہ بچپن کے ہم جماعتوں کو فیس بک پہ ڈھونڈا جائے۔ بہت سے ساتھی مل گئے، سب دادا نانا کی منزلوں پہ پہنچ چکے تھے۔ اور ایک دن مجھے وہ نظر آ گئیں۔ وہ بھی زندگی کی بھول بھلیوں میں گھومتے پھرتے اسی منزل پہ تھیں جہاں میں کھڑا تھا۔ شادی، بچے، شوہر، اور اب بیوگی!

ان کو دیکھ کے بہت برسوں بعد میرا دل ایسے دھڑکا کہ میں خود حیران رہ گیا، نوعمری کی سی حالت تھی۔ میں نے فیس بک فرینڈ کی درخواست بھیجی جو منظور کر لی گی۔ وہ مجھے بھولی نہیں تھیں۔ ان کے بچے بھی بڑے ہو کے اپنی زندگی میں گم تھے  اور وہ بیوگی میں تنہا زندگی گزار رہی تھیں۔ آگے کی کہانی کچھ زیادہ انہونی نہیں تھی۔ میں نے اپنے بچوں سے بات کی، جن کے لئے یہ بہت خوشی کی بات تھی۔ میرے بچوں نے ان کے بچوں سے مراکش میں بات کی اور وہ بھی میرے بچوں کے ہم خیال نکلے۔ اور اب وہ خاتون آپ کے سامنے بیٹھی ہیں ‘ ۔ انہوں نے خاتون کے گرد اپنے بازو حمائل کرتے ہوئے کہا۔

بڑی بی کے چہرے پہ گلاب کھل رہے تھے!

’ہم دونوں صبح دوکان پہ اکھٹے آتے ہیں، سارا دن کام بھی کرتے ہیں اور گپ شپ بھی رہتی ہے۔ ہم بچپن کی گلیوں میں اکھٹے گھومتے ہیں، ہنستے ہیں اور زندگی بہت حسین نظر آتی ہے‘۔

خاتون صرف عربی سمجھتی تھیں، سو ہم نے اپنی ٹوٹی پھوٹی عربی میں جاننا چاہا کہ وہ کیا محسوس کرتی ہیں؟

’میں سمجھتی تھی کہ میرے لئے زندگی کے رنگ دھندلا چکے ہیں۔ میں تو آخری منزل کے انتظار میں دن گن رہی تھی لیکن اس نے مجھے کسی گہرے خواب سے جگا دیاہے۔ مجھے اب ہر طرف پھول اور تتلیاں نظر آتی ہیں، میرے لئے ہر دن ایک انوکھا دن ہے، زندگی جیسی خوبصورت اور کوئی چیز نہیں ‘۔

وہ مسکراتی تھیں اور گالوں پہ کچھ موتی آنکھوں کے گوشوں سے پھسلتے تھے۔ برسات میں قوس قزح تھی جس کی دل فریبی ہمارے دل کو نم کرتی تھی۔ ہم چپ بیٹھے تھے اور اس خامشی میں دور مندر سے سنائی دینے والی گھنٹیوں کی آواز مخل ہوتی تھی۔

ہمیں ٹوکیو کی ٹرین پکڑنا تھی جس کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ اس زندگی سے بھرپور جوڑے سے ہم نے اجازت چاہی۔ ہمارا دل خوشی سے ہمکتا تھا کہ ہم نے زندگی کے اجنبی مقام پہ دو خوبصورت انسانوں کے ساتھ کچھ وقت گزارا تھا۔ داستان حیات کی البم میں نئی تصویریں کا اضافہ ہو چکا تھا۔

گھر آنے پہ ہم نے ان صاحب کا نام گوگل کیا تو ان کی ڈگریوں اور ریسرچ پیپرز کی ایک لمبی فہرست کھل گئی۔ عمر کی سترہویں دہائی میں بدھا کی ہمسائیگی میں شوارمہ بیچنا اور زندگی کے بقیہ برسوں سے خوشی کشید کرنے کا ڈھنگ بہت انوکھا تھا!

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...