17مئی قصیدہ

ٓج میرے دوسرے وطن ناروے کا قومی دن ہے ۔ یہ میرا وہی وطن ہے جس نے مجھے  1984 میں  پناہ دی اور اپنی شہریت کا اعزاز دیا ۔ یہ انسانی مقدر ہے کہ جہاں وہ جنم لیتا ہے اُسے  وہاں سے دور کہیں پناہ ملتی ہے ۔ ہم انسانوں کے باوا آدم اور مائی حوا نے بھی باغِ عدن میں جنم لیا ۔ وہ جنّت تھی مگر اُس جنت سے اُنہیں نکل جانا پڑا اور وہ زمین پر اُتار دیے گئے ۔

اسی طرح ہم تارکینِ وطن بھی اپنی اپنی آبائی جنت سے نکلے اور دوردراز خطوں میں جا بسے ۔ اور کئی ہزار پاکستانی خاندان ناروے کے معاشرے میں ہر شعبہ  زندگی میں نمایاں کارکر دگی کے حامل رہے ہیں اور طب ، انجینیرنگ ، تعلیم ، معاشیات ، تجارت اور صحافت کے شعبوں میں وہ نمایاں کارکردگی کے حامل ہیں ۔ اس وقت ایک پاکستان نژاد نارویجین نوجوان مرکزی حکومت میں قلمدانِ وزارت سنبھالے ہوئے ہے ۔ یہ پاکستانی تارکینِ وطن کی خوش بختی ہے کہ اُنہیں ایک ایسی معاشرت میں زندگی کرنے کا موقعہ ملا جہاں قانون اور آئین کی بالادستی قائم ہےاور کوئی شخص محض عہدے یا طبقے کی بنیاد پر مراعات یافتہ نہیں ہے ۔ یہاں پروٹوکول پر اس طرح سرکاری خزانے سے مال نہیں لُٹایا جاتا جس کی کہانیاں ہمارے موروثی ملکوں سے سُننے اور ٹی وی پر دیکھنے کو ملتی ہیں ۔

 ہم نے یہاں مقامی معاشرتی اور قانونی نظام سے بہت کچھ سیکھا ہے مگر اس کے باوجود کہیں کہیں کوئی پرانی عادت عود کر آتی ہے اور ہم اپنی آبائی معاشرت کی تاریخ دوہرانے لگتے ہیں ۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا ، ایک دوسرے سے حسد کرنا ، ایک دوسرے سے حتی المقدور نفرت کرنا ایسے معاملات ہیں جو لوگوں کے نفسیاتی تاروپود کا موروثی اثاثہ ہیں جس سے مفر ممکن نہیں ۔ چونکہ ہم اس کے ساتھ پلے بڑھے ہیں اس لیے ہمیں اس سے زیادہ الجھن نہیں ہوتی ۔ اس طرح کی عادات مقامی نارویجنوں میں بھی رہی ہوں گی مگر سرِ دست اُن کا ذکر مقصود نہیں ۔

نارویجین معاشرت کا حُسن  یہ ہے کہ یہاں نہ صرف  ہر فرد  کو مذہبی اور نظریاتی آزادی حاصل ہے بلکہ ملحدوں کو الحاد کا بھی پورا حق حاصل ہے اور انہوں نے انسانی اخلاقیات پر مبنی تنظیمیں بنا رکھی ہیں اور وہ اپنے اصولوں کے مطابق جنم اور موت کی رسمیں پوری کرتے ہیں ۔ یہ کیفیت دیکھ کر مجھے قائد اعظم کی وہ تقریر یاد آتی ہے جس نے اُنہوں نے فرمایا تھا:

تم آج آزاد ہو ۔ تم اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہو ، تم اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے آزاد ہو۔ تم اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہو ۔

اور ہم یہاں سچ مُچ آزاد ہیں ۔ ہم نے یہاں خوبصورت مسجدیں تعمیر کی ہیں ۔ ہندوؤں نے مندر اور سکھوں نے گوردوارے بنائے ہیں ۔ اور یہاں شیعہ سنی فساد نہیں ہوتا ۔ یہاں جماعت اسلامی ترقی پسندوں سے نہیں لڑتی ۔ یہاں سب لوگ قانون کے دائرے میں رہتے ہیں اور یہ اس نارویجن معاشرے کا حُسن ہے کہ یہاں ہر مذہب ، علاقائی ثقافت اور لسانی معاشرت کے لوگوں کو اپنی اپنی آبائی ثقافت سے جُڑ کر رہنے کی آزادی ہے ۔ پندرہ برس پہلے تروند ہائیم یونی ورسٹی کی طرف سے ایک کتاب مرتب کی گئی تھی ۔ نام تھا :

70 språk i Norge

اس کتاب میں اُن ساری لسانی اقلیتوں کی زبانوں کا تعارف دیا گیا تھا ، جو ناروے کے سکولوں میں پڑھائی جاتی تھیں ۔ یہ لسانی آزادی کا وہ پرمٹ ہے جو ناروے کی معاشرت کے حسین ترین خدو خال میں سے ایک ہے ۔ یہاں بھی قومی زبان نارویجین ہے ، رابطے کی زبان بھی وہی ہے ۔ پاکستانیوں کی نئی نسل یہی زبان بولتی ہے اور کچھ لوگ اس زبان میں اہلِ زبان نارویجینوں کی طرح تاک ہیں ۔ صحافت میں بے شمار نام ہیں جو بہت اچھی زبان لکھتے ہیں ۔ کچھ جرائد ہیں جن کی ادارت پاکستانی کر رہے ہیں ۔ ان میں سے ایک نام میرے سامنے ہے اور وہ ہے سامورا جس کے مدیر خالد سلیمی ہیں ۔ اس کے علاوہ اس معاشرے میں مشاعرے ( معاشرے اور معاشرے کے چھ حروف ایک جیسے ہیں ) کی ادبی روایت کو پروان چڑھایا وہ کثیر الْثقافتی مرکز تھا جس کے روحِ رواں سید مجاہد علی تھے جنہوں نے کچھ ایسے یادگار مشاعرے کروائے جن کی وجہ سے پورا ادبی پاکستان اوسلو میں سمٹ آتا رہا ہے ۔

 یہاں پاکستان سیاسی جماعتوں کی برانچیں بھی قائم ہیں جن کی ناروے میں موجودگی اس لیے غیر ضروری لگتی ہے کیونکہ اُسے نارویجن شہریت کے حامل پاکستانی نژاد لوگ چلاتے ہیں اور اُن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کا جنم ناروے میں ہوا اور وہ سلیقے سے اردو بولنا بھی نہیں جانتے مگر وہ پاکستانی سیاست کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں ، پاکستانی سیاست دانوں کو مدعو کرتے ہیں اور اپنے ملک کے قومی دنوں کی تقریبیں برپا کرتے ہیں ۔ اس کا صرف ایک ہی فائدہ ہے کہ پاکستانی تارکینِ وطن کی وہ نسل جو ناروے میں پیدا ہوئی اور جس کی پہلی معاشرتی زبا ن نارویجین ہے ، پاکستانی سیاسی شخصیتوں سے متعارف ہوتی ہیں اور اپنے آبائی وطن سے جُڑ کر رہنے کے قواعد و ضوابط سے آشنا ہوتی ہے ۔ یہ ایک اچھی روایت ہے ۔

 اس سلسلے میں جو تنظیم نصف صدی سے کام کر رہی ہے وہ پاکستان ویلفئر یونین ہے جس کے موجودہ صدر میر فضل حسین ہیں ۔ ایک عرصہ تک اوسلو اردو کے جریدوں کا اشاعت گھر رہا ہے ۔ یہاں کاروان ، پیامِ مشرق ، کے علاوہ میاں زاہد رضوانی ، ریاض گوندل ، فضل حسین  اور محمد رفیع کی زیرِ ادارت اخبارات شائع ہوتے ہیں رہے ہیں ۔ کچھ ادبی جریدے بھی کبھی  منصہ شہود پر آتے رہے ہیں مگر اب صورتِ حال بدل گئی ہے اور ایک ایک کر کے آسمانِ صحافت کے ستارے ڈوبتے چلے گئے ہیں تاہم پاکستانیوں کی ادبی اور ثقافتی تنظیمیں بدستور کام کر رہی ہیں اور کاروان اب ایک ویب سائٹ کے طور پر اپنی اشاعت جاری رکھے ہوئےہے ۔ یہاں کی ادبی تنظیموں نے شعر و ادب کے فروغ کے لیے بڑا کام کیا ہے لیکن یہ ایک پھیلا ہوا موضوع ہے  تاہم  ایک تنظیم جس کا نام میں ضرور لوں گا ، جو پاکستانی فیمیلی نیٹ ورک کہلاتی ہے جس نے نثار بھگت کی قیادت میں پاکستانی ثقافت کا پرچم ہمیشہ بلند رکھا ہے ۔ بعض اوقات مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ناروے ایک مسلمان ملک ہے اور ایسا سوچنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ قرآنِ حکیم نے مذاہبِ عالم کو ایک ہی مذہب کا تسلسل قرار دیا ہےاور کہا ہے کہ:

(حوالہ) بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور جو نصرانی ( عیسائی) اور صابی تھے اُن میں سے جو بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اُس نے اچھے عمل کیےتو اُن کے لیے اُن کے رب کے ہاں اجر ہے ۔ اُن کو نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ رنجیدہ ہوں گے ۔( البقر آیت نمبر باسٹھ)

تو اللہ پر ایمان اہلِ ناروے بھی رکھتے ہیں ۔اللہ کے پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام کو مانتے ہیں  اور مخلوق کے حق میں نیکی بھی کرتے ہیں تو وہ مسلمانوں کے دوش بدوش ایک ہی کشتی  نوح کے سوار ہیں ۔ چنانچہ میں اںہیں مسیحی مسلمان کہتا ہوں جب کہ یہودی موسوی مسلمان بنتے ہیں ۔ یہ میری ذاتی رائے ہے اور میں اپنی رائے کو چیلنج بنا کر اہلِ فقہ کے سامنے نہیں رکھنا چاہتا بلکہ قرآن کی محولہ بالا آیت کو پیشِ نظر رکھ کر سب اہلِ کُتب کو مسلمانوں  کے درجے میں شمار کرتا ہوں اور میرا موقف یہ ہے کہ جب قرآن نے تمام نبیوں کو ایک ہی دین کے رسول قرار دیا ہے تو سب لوگ ایک ہی کیٹیگری میں آتے ہیں ۔ جیسا کہ قراان میں کہا گیا ہے کہ :

( حوالہ) اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی اپنے فرزندوں سے یہی کہا کہ بیٹا خُدا نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے ،  تو مرنا تو مسلمان ہی مرنا ، البقر ۔ آیت ایک سو بتیس

تو میں سوچتا ہوں کہ جب آلِ یعقوب کا دین بھی اسلام ہی ہے تو پھر جھگڑا کس بات کا  جب  کوئی موسوی مسلمان ہے ، کوئی مسیحی مسلمان اور کوئی محمدی مسلمان مگر اصل میں تو سب ایک ہیں ۔ اب میں مزید ایسی باتیں کرنا نہیں چاہتا جس کو پڑھ کر  اہلِ مسجد میرے دشمن ہو جائیں ، کیونکہ میں تو صلح کُل کے مسلک پر ہوں اور گنگا جاؤں  تو گنگا رام اور جمنا جاؤں تو جمنا داس کے میثاق بُلھے شاہ کے صلح کُل کے مسلک پر ہی رہوں اور بلھے شاہی نعرہ لگاؤں : نہ ہم سُنّی نہ ہم شیعہ ،، صلح کُل کا مارگ لیا ، جس کی تائید حافظ شیرازی یوں کرتے ہیں کہ :

حافظا ! گر وصل خواہی صلح کُن با خاص و عام

با مسلمان اللہ اللہ ، با برہمن رام رام

چنانچہ میں ناوریجین محمدی مسلمان ہوں جس کا کسی مسلک سے کوئی تصادم نہیں ۔ ہم ناروے کے سب موسوی ، مسیحی اور محمدی مسلمان مل کر ناروے کا قومی دن منا رہے ہیں اور گا رہے ہیں :

اک سیپی کی موتی دونوں ، پاکستان اور ناروے

اک اگنی کی جوتی دونوں ، پاکستان اور ناروے

loading...