عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملہ پر حکومت اور اہل خاندان کا متضاد مؤقف

  • ہفتہ 16 / مئ / 2020
  • 740

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے سندھ ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ امریکی جیل حکام کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنی سزا معافی کے لیے رحم کی درخواست پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

پاکستان میں مقیم ان کی بہن کے وکیل نے حکومت کے اس دعوے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو غلط معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس بات کا انکشاف جمعہ کو وزارتِ خارجہ کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے اضافی جواب میں ہوا۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران یہ جواب جمع کرایا۔

جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے ای میلز اور فیکس کے ذریعے ملنے والی معلومات کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی مکمل طور پر ٹھیک اور صحت مند ہیں لیکن انہوں نے اہل خانہ سے فون پر بات کرنے سے انکار کیا ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ امریکہ کے جیلوں سے متعلق وفاقی بیورو کو ویڈیو کال کی درخواست دی گئی تھی جسے انہوں نے رد کر دیا ہے۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ قونصل جنرل کے آخری دورے کے دوران انہوں نے ڈاکٹر عافیہ کو اپنے خاندان سے فون پر بات کرنے کے لیے منانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بے سود ثابت ہوئی۔ حکام کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن کی درخواست پر ان کے اکاؤنٹ میں رمضان میں 200 ڈالرز بھی ڈپازٹ کیے گئے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی سزا معافی کے معاملے پر درخواست دائر کرنے کے لیے امریکی محکمۂ انصاف میں 'آفس آف پارڈن اٹارنی' سے رابطے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن یہ دفتر قونصلیٹ یا سفارت خانے کی جانب سے دی گئی رحم کی درخواست قبول نہیں کرتا۔

وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ قونصل جنرل کو اس حوالے سے ڈاکٹر عافیہ سے ملنے کے لیے 27 مارچ کو جیل جانا تھا لیکن لاک ڈاؤن کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔  وزارتِ خارجہ کے مطابق جیل حکام کے ذریعے سزا معافی کی درخواست ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بھجوائی گئی تھی جس پر جیل حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اس درخواست پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کا عدالت کو جمع کرائے گئے جواب میں مزید کہنا تھا کہ اب پاکستان کے قونصل جنرل نے جیل انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کے لیے جلد از جلد قونصلر رسائی فراہم کرے۔

ادھر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عرفان عزیز ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ رحم کی اپیل پر ڈاکٹر عافیہ کے دستخط نہ کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔  انہوں نے اسے غلط معلومات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی جانب سے پاکستان کے مختلف وزرائے اعظم اور صدور کو لکھے گئے خطوط اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے اپنی رہائی اور واپسی کے لیے کوششیں کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

عرفان عزیز ایڈووکیٹ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے بیانات پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔  انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ تک رسائی کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کی جا رہیں۔ امریکی حکومت کے اپنے قوانین کے برخلاف ڈاکٹر عافیہ کو گزشتہ تین سال سے اہل خانہ سے بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔

عرفان عزیز ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کو اپنے اہل خانہ سے ویڈیو کال اور ان سے ہفتے میں ملاقات سے متعلق حقوق بھی نہیں دیے جا رہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی جیل میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور انہیں مسلسل ذہنی دباؤ میں رکھا جاتا ہے جس سے ان کی صحت مسلسل گر رہی ہے۔ عرفان عزیز ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایک جانب امریکی محکمۂ انصاف اپنے جیل قوانین پر عمل درآمد نہیں کر رہا تو دوسری جانب پاکستانی حکام نے بھی رحم کی اپیل دائر کرنے میں سقم چھوڑا ہے۔

ان کے بقول پاکستانی حکام نے امریکی محکمۂ انصاف کے بجائے ایف ایم سی کارزویل فورٹ جیل، جہاں عافیہ کو قید رکھا گیا ہے، کے وارڈن کو اپیل فائل کی جسے اب تک ٹھیک نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے حقائق کو جان بوجھ کر چھپایا جا رہا ہے اور حکومت تعاون نہیں کر رہی۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ کورونا وائرس کے باعث حکومتِ پاکستان کو ہدایت کی جائے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کی امریکی جیل میں موجودگی کے دوران ان کی صحت یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔  درخواست میں یہ استدعا بھی کی گئی تھی ڈاکٹر عافیہ کی ان کے اہل خانہ سے ویڈیو کال پر بات کرائی جائے اور ان کی صحت سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان اب تک قیدیوں کے تبادلے سے متعلق کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔ جولائی 2019 میں وزیرِ اعظم عمران خان نے 'فاکس نیوز' کو دیے گئے انٹرویو میں اشارہ دیا تھا کہ اس معاملے پر دونوں ممالک مستقبل میں بات چیت کر سکتے ہیں۔ لیکن اب تک اس بارے میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے مئی 2013 میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے دائر کی جانے والی ایک درخواست میں وفاقی حکومت کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ باہمی معاہدوں کی رو سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے کوئی راستہ تلاش کرے۔ امریکہ سے گریجویشن اور پھر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والی نیورو سائنس دان 47 سالہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے تین کمسن بچوں کے ہمراہ 2003 میں پاکستان سے پراسرار طور پر لاپتا ہو گئی تھیں جس کے بعد ان کی موجودگی کا انکشاف افغانستان کے علاقے بگرام میں موجود امریکی فوجی اڈے میں ہوا تھا۔

سال 2010 میں ایک امریکی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ کو امریکی فوجی پر حملے اور  مختلف الزامات میں 86 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم ڈاکٹر عافیہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں بندوق چلانے کا کوئی علم نہیں اور نہ ہی انہوں نے کوئی ایسا جرم کیا تھا۔  ڈاکٹر عافیہ کا مؤقف تھا کہ وہ اس کمرے سے بھاگنے کی کوشش کر رہی تھیں جس میں انہیں قید کر کے رکھا گیا تھا اور وہاں سے انہیں کسی اور خفیہ جیل منتقل کرنے کا پروگرام تھا۔

ڈاکٹر عافیہ نے دورانِ سماعت امریکی حکومت کی جانب سے فراہم کیے گئے وکلا پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔  جون 2018 میں ہیوسٹن میں تعنیات پاکستانی قونصل جنرل کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو امریکی جیل میں ذہنی و جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔

loading...