مالیاتی کمیشن ، سیاسی سرپھٹول اور شکاری کے آزمودہ ہتھکنڈے

  • جمعہ 15 / مئ / 2020
  • 4470

ملک میں انتشار، سیاسی تصادم، بے یقینی اور کورونا وائرس سے پیدا   شدہ عوامی صحت اور ملکی معاشی  بحران کے تناظر میں  گزشتہ روز  اداریہ میں سوال اٹھایا گیا تھا کہ اس ڈرامے کا ماسٹر مائینڈ کون ہے؟   ملک چلانے والے شاید اس سوال کا جواب دینا  کسر شان سمجھیں  اور حکومت میں شامل کسی بھی شخص کو یہ کہنے  یاماننے کا حوصلہ نہیں  ہوگا کہ وہ بے اختیار اور  بے بس ہے۔ لیکن مسائل میں اضافہ کے ساتھ یہ سوال زیادہ شدت سے سامنے آئے گا۔  اب وقت آگیا ہے کہ ملک کے سیاسی انتظام کے بارے میں بعض معاملات کو واضح کرلیا جائے۔  بہتر تو یہی ہوگا کہ غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے  درست سمت  میں مناسب تبدیلیوں کے لئے اقدام کئے جائیں تاکہ  کسی بڑے تصادم سے گریز کی صورت پیدا ہو سکے۔    تاہم  ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال میں اس کا امکان نہیں دکھائی نہیں دیتا۔

وفاقی وزیر اور کوروناوائرس ٹاسک فورس کے سربراہ کے طور پر خدمات سرانجام دینے والے اسد عمر نے  قومی اسمبلی میں اس معاملہ پر بحث سمیٹتے ہوئے یہ نادر روزگار بیان ارزاں کیا ہے   کہ جو بات عمران خان شروع دن سے کہہ رہے ہیں، اب پوری دنیا اسے ماننے پر مجبور ہوچکی ہے۔ اسد عمر کا دعویٰ ہے کہ  عمران خان نے پہلے دن سے لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے غریب متاثر ہوں گے ۔ اور اب  امریکہ سمیت دنیا کے سب ملکوں نے عمران خان کی اس بات کو قبول کرلیا ہے۔   ہمارے معاشرے میں خوشامد اور حکمران کی قصیدہ  گوئی   ہی سرخروئی کا تیر بہدف طریقہ ہے۔ اس لئے اسد عمر کے اس بیان پر کوئی اچنبھا نہیں ہونا چاہئے۔ اسد عمر اور حکومت کے دیگر خیر خواہوں کے بس میں ہو تو وہ پوری دنیا کو ایک مملکت میں تبدیل کرکے عمران خان کو اس کا کپتان نامزد کردیں  اور قرار دیں   اللہ نے  اس  شخص کو  دنیا کی قیادت کے لئے پیدا کیا ہے جسے شک ہو اسے    پاکستانیوں کا ایمان تازہ کرنے کے لئے ترکی سے درآمد کیا ہؤا ڈرامہ ارطغرل دکھا کر منہ بند کردیا جائے۔ امورحکومت پر حاوی ایسے عناصر کی موجودگی میں سیاسی  ہم آہنگی، پارلیمنٹ کی خود مختاری، آئین کی پاسداری ، جمہوری روایات کے احترام اور آزادی رائے  جیسے معاملات پر کسی پیش رفت کی توقع عبث  ہے۔

اس ماحول میں  چار روزتک قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کی کارروائی  جاری  رہی اور ہر روز اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم  کو ایوان میں آکر  اپنا مؤقف بیان کرنے اور اپوزیشن کے اعتراضات سننے کی  دعوت دی جاتی رہی لیکن انہوں نے اپنی اس  قانونی، جمہوری اور اخلاقی ذمہ داری کو پورا کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ تاہم  عوام کے منتخب نمائیندوں پر مشتمل قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس ملتوی ہونے کے  فوری بعد انہوں نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کورونا وائرس   کے حوالے سے اپنی حکومت  کے کارناموں اور اس سائنسی مسئلہ پر اپنے  نادر شاہی خیالات کا اظہار   کیا۔  ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے لیکن ملک کا وزیر اعظم اس صورت حال کو اپنی حکومت کی کامیابی قرار دے رہا ہے۔ ماہرین پاکستان میں اس وبا  کا عروج آنے سے پریشان ہیں اور عمران خان   یہ سوال کررہے ہیں  کہ   امریکہ میں روزانہ دو ہزار سے زیادہ لوگ مررہے ہیں لیکن وہاں پبلک ٹرانسپورٹ کھولی جارہی ہے۔ پاکستان میں صوبے کیوں یہی اقدام نہیں کرتے؟ اس کے ساتھ ہی پنجاب کے وزیر  اعلیٰ کی طرف سے پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کا اعلان بھی سامنے آگیا۔

جو وزیر اعظم پارلیمنٹ کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہ رکھتا ہو اس سے  یہ  توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ملک میں جمہوریت کے حوالے سے   بحث کو ذمہ دارانہ طریقے سے کسی خوش گوار انجام تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔  ماضی قریب  کے مشاہدات کو پیش نظر رکھا جائے تو   اس اہم موقع پر عمران خان کی پارلیمنٹ سے غیر حاضری کی تین وجوہات بیان کی جاسکتی ہیں: 1)وہ خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور پارلیمنٹ کی رائے کو اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ 2) وہ  پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے  طرز کلام اور تنقید کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ ماضی میں  وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں بلوانے  کے لئے اپوزیشن کو حکمران جماعت کے ساتھ اچھے رویہ کا معاہدہ کرنا پڑا تھا۔ 3) ان کا خیال ہے کہ پارلیمنٹ  دکھاوےکے لئے ان  کو اقتدار دلانے کا ذریعہ ضرور بنی ہے لیکن  وہ اس وقت تک وزیر اعظم رہیں گے جب تک وہ عسکری طاقتوں کی مرضی و منشا کے مطابق کام کرتے رہیں گے۔ اس لئے پارلیمنٹ جیسے فضول ادارے میں جا کر وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جو کام  بند کمروں میں اقرار میں گردن  ہلا کر انجام پاجاتا ہو اس کے لئے پارلیمنٹ میں جاکر اپوزیشن کی جلی کٹی سننے کی کیا ضرورت ہے۔

یہی رویہ   ملک میں سیاسی عمل اور  جمہوری روایت کے لئے سب سے بڑا خطرہ بنا ہؤا ہے۔ اس کے ذمہ دار عمران خان ہرگز نہیں ہیں ۔ وہ تو  صرف  ’فائدہ اٹھانے والے‘ ہیں۔ انہیں اس بات سے غرض نہیں ہے کہ ملکی معاملات طے کرتے ہوئے سیاسی مفاہمت اور  اختلاف کے باوجود احترام کا رشتہ استوار کرنا اہم ہوتا ہے تاکہ  ذاتی  کدورتیں  قومی  امور میں کسی نقصان کا سبب نہ بن جائیں۔   عمران خان جیسے لوگ عہدہ کے لئے   اقتدار کی  دوڑ میں شریک ہوتے ہیں۔     انہیں اس سے غرض نہیں ہوتی کہ یہ راستہ جمہوری ہے، آئینی تقاضوں کے مطابق ہے یا اس کے  ملک  میں عوامی حاکمیت کی صورت حال پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔  عمران خان چونکہ اس دوڑ میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ مختلف پارٹیوں میں مختلف  چہرے اسی جد و جہد میں مصروف ہیں، اس لئے  نہ تو انہیں مطعون کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان سے یہ امید کی جاسکتی ہے  کہ اس طریقہ کو ختم کرکے کسی طرح ملک میں پارلیمانی برتری اور سیاسی قیادت  کو باختیار  کرنے کے لئے کام کیا جائے۔

سیاسی معاملات میں اگر اسٹبلشمنٹ  دخیل نہ ہو اور  اگر وزیر اعظم کو یقین ہو کہ  وہ پارلیمنٹ کو مطمئن نہیں رکھے گا تو  وہ برسر اقتدار نہیں رہ سکے گا  تو سیاسی تعطل اور ایک دوسرے سے بیزاری کی موجودہ صورت  کبھی پیدا نہیں ہوسکتی۔ اس وقت وزیر اعظم کا اصل مسئلہ منتخب نمائیندوں کو مطمئن کرنا اور پارلیمنٹ کو راضی رکھنا نہیں ہے بلکہ اسے اس بات کی فکر رہتی ہے کہ  کہیں اپوزیشن میں سے کوئی دوسرا   اسٹبلشمنٹ کا چہیتا نہ بن جائے ۔  دیکھا جاسکتا ہے کہ  حکومت کا سارا زور مخالف سیاسی قوتوں کو کنٹرول کرنے،  تنقیدی آوازوں کو دبانے، میڈیا پر جبر کے ذریعے اپنی کامیابی کے قصیدے نشر کروانے اور ایک ایسا ماحول پیدا کرنے پر صرف ہوتا ہے جس میں یہ یقین ہوجائے کہ  حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔    سیاست میں غیر سیاسی عناصر کی دسترس کا خاتمہ ہوجائے تو  اختلاف تو کجا ذاتی دشمنی بھی سیاست دانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ  مل بیٹھنے اور قومی اتحاد کا ماحول پیدا کرنے  سے نہیں روک سکے گی۔ اس وقت سیاسی لیڈروں کے درمیان سر پھٹول     اور پارلیمنٹ کے اجلاس کو مچھلی بازار  بنانے کی ضرورت ہی یوں پیش آتی ہے  کہ اختیار کا منبع ایوان نہیں کوئی دوسرا مرکز بن چکا ہے۔

ایسے میں کوئی بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا کہ سیاسی ماحول  میں جاری ڈرامہ کا ڈائریکٹر کون  ہے۔    طاقت اگر درست جگہ پر موجود نہ ہو، اختیارات کا استعمال  کسی ایسے  مقام سے کیا جائے  جو احتساب کے دائرے سے ماورا ہو  اور   ملک کے بیشتر سیاست دان وہیں سے   اپنا حصہ ملنے کی خواہش میں مبتلا ہوں تو ان   کے درمیان ویسا ہی میدان کارزار برپا ہونے کی امید کی جاسکتی ہے جس کا مظاہرہ گزشتہ چار روز کے دوران قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کے دوران دیکھنے میں آیا ہے۔

سرکاری نمائیندے اٹھارویں ترمیم پر شبہات پیدا کرتے  رہے اور اپوزیشن کا کچھ حصہ  ان کا  جواب دینے کی کوشش کرتا رہا اور اس دوران صدر مملکت نے نیا  قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) قائم کرنے کا اعلان کردیا۔ خصوصی صدارتی اختیار استعمال کرتے ہوئے   آئینی تقاضوں سے  صرف نظر کرتے ہوئے ایک غیر منتخب مشیر کو اس کمیشن کا سربراہ بنادیا گیا ہے۔  اس پر سندھ حکومت کا اعتراض سامنے آچکا ہے۔ سندھ کے ایک شہری کو بلوچستان کی نمائیندگی کا حق دینے کے معاملہ پر  سیاسی ارتعاش آنے والے ماہ و سال میں محسوس کیاجاتا رہے گا۔ اس کمیشن کے مینڈیٹ میں جو  امور شامل کئے گئے ہیں ان کا تعلق اسی نظریہ سے ہے جس کی بنیاد پر  اٹھارویں ترمیم کے خلاف محاذ آرائی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ اب صوبوں سے کہا گیا ہے وہ  قومی اداروں (پی آئی اے ، اسٹیل مل وغیرہ) کے خسارہ، ملکی دفاع  کے مصارف ،   سرکاری سبسڈی  اور بیرونی قرضوں  کی ادائیگی میں حصہ دار بنیں۔ یعنی  قومی آمدنی میں سے وسائل ایک ہاتھ سے دے کر دوسرے ہاتھ سے واپس لینے کا اصول تسلیم کروانے کا صدارتی فرمان جاری ہؤا ہے۔

مالیاتی کمیشن میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے دو ہتھکنڈے استعمال کئے جائیں گے۔ ایک اٹھارویں ترمیم کو تبدیل کروانے کی دھمکی جسے بعض لیڈروں نے  سیاسی  وقار کا معاملہ بنا لیا ہے ۔  دوسرے  مخالفت کرنے والے صوبوں  کی حکمران قیادت  کو عاجز کرنے کے خلاف  آزمودہ ہتھکنڈوں کا استعمال۔   اگرچہ  کہا جارہا ہے کہ صوبے اپنے وسائل میں کمی کے معاملہ پر سودے بازی نہیں کریں گے لیکن مرکز اور   تین صوبائی حکومتوں کو ایک پلڑے میں ڈال کر سندھ پر  دباؤ غیر معمولی طور سے بڑھایا جاسکتا ہے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ صدارتی حکم کے تحت نئے مالیاتی کمیشن ا اور اس کے مینڈیٹ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ لیکن ایک بات طے  ہے کہ اگر اس معاملہ کو دباؤ، استحصال اور ہراساں کرکے حل کرنے کی کوشش کی گئی تو   وفاق کے ساتھ صوبوں کے تعلقات پر اس کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔

اس  کھیل کے ماسٹر مائینڈ کو  البتہ  کامل یقین ہے کہ طاقت کے زور پر ہر آواز دبائی جاسکتی ہے اور ہر معاملہ طے کیا جاسکتا ہے۔  اسی گمان نے پاکستان کی  مختصر تاریخ میں قوم کو گہرے گھاؤ دیے ہیں لیکن نہ شکاری نے  ہتھکنڈا تبدیل کیا ہے اور نہ ہی اس کے جُل میں آنے والے سیاسی پرندے ہوش کے ناخن لینے  پر تیار ہیں۔

loading...