سوموٹو کے ہیرو

شیخ سعدی نے عدل کے موضوع پر ایک عجیب حکایت لکھی ہے جس کا  خُلاصہ یہ ہے کہ ایک شہر کا قاضی بہت عادل تھا جس کی انصاف پسندی کے قصّے پورے ملک میں مشہور تھے ۔ وہ اتنا عادل اور رحم دل تھا  کہ  شہر  بھر میں اِس لیے  ننگے پاؤں چلتا تھا کہ کہیں کوئی چیونٹی بھی اُس کے پاؤں تلے نہ روندی جائے اور وہ مخلوق کے قتل کا مرتکب ٹھہرے۔

 مگر عجیب بات یہ تھی اُس شہر میں کم سن بچے غائب ہوجاتے تھے جن کا کوئی سُراغ نہ ملتا تھا ۔ یہ سلسلہ سالوں سے جاری تھا ۔ لوگ بہت پریشان رہتے تھے اور دن رات اپنے بچوں کی خیر مانگتے رہتے ۔ خُدا کا کرنا کیا ہوا کہ اچانک اُس شہر میں ایک درویش وارد ہوا جس کی چال میں عجیب انکسار اور چہرے کے گرد روشنی کا ہالا تھا ۔ لوگوں نے اُس درویش سے اپنا دکھ بیان کیا اور کہا کہ حیرت تو اس بات کی ہے کہ جس شہر کا قاضی اتنا عادل ہے ، وہاں ایسی وارداتیں کیونکر سر زد ہو سکتی ہیں ۔ فقیر نے لوگوں کی بات سُن کر تھوڑی دیر کے لیے آنکھیں بند کیں اور کسی دوسرے عالم میں پہنچ گیا ۔ تھوری دیر بعد اُس نے آنکھ کھولی اور لوگوں سے کہا کہ اس رحم دل قاضی کی تلاشی لو  کہ کہیں بچوں کی گم شدگی اُس کی وجہ سے سرزد تو نہیں ہو رہی ۔ بات حاکمِ شہر تک پہنچی تو اُس نے قاضی کے سرچ وارنٹ جاری کر دیے اور جب قاضی کی اقامت گاہ کی تلاشی لی گئی تو اُس کے گھر کے نیچے ایک تہ خانہ کے آثار دکھائی دیے جسے کھولا گیا تو بہت سے بچے قید ملے ، کچھ کی لاشیں اور باقیات ملیں اور اس طرح  بچہ خور جج پکڑا گیا ۔

ہمارے یہاں بھی کچھ اسی طرح کی کہانیاں ملتی ہیں ۔ اگر سوموٹو کے ہیروؤں کی تاریخ پڑھی جائے تو جسٹس منیر سے کہانی شروع ہوتی ہے جو مارشل لا  کو پاکستانی اقتدار کا راستہ دکھانے والے پہلے  عظیم اورمہربان جج تھے ۔ اُس کے بعد نظریہ  پاکستان کی جگہ  نظریہ ضرورت کو نافذ کرنے والے جج صاحبان کا ذکر آتا ہے اور  پھر تاریخ میں  جسٹس مولوی مشتاق اور جسٹس انوار الحق کے نام کے ڈنکے بجتے ہیں جنہوں نے بھٹو جیسی جمہوری  بلا سے پاکستان کی جان چھڑوائی ۔ یہ کہانی بہت لمبی ہے مگر میں سرِ دست موجودہ چیف جسٹس گلزار کے از خود نوٹس کا ذکر کروں گا  جنہوں نے اس قوم کے دکھ پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا ۔ اُنہوں نے نہ صرف ڈاکٹر ظفر مرزا کو ہٹانے کا عندیہ دیا بلکہ کورونا کی روک تھام کے لیے حکومت کے ناکافی اقدامات پر سرزنش کے انداز میں تشویش کا اِظہار بھی  کیا۔  

یہ بڑے عوام دوست اقدامات ہیں جن کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔ لیکن ایک سطحِ غربت سے نیچے کے طبقے کے فرد کے طور پر خیال آیا کہ میں بھی عزت مآب جج صاحب سے پوچھوں کہ کیا آپ کو کبھی یہ خیال آیا کہ جب اس ملک میں کروڑوں  لوگ خطِ غربت سے نیچے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں تو ان کے بنیادی ضروریات کے حقوق کے ضمن میں بھی نوٹس لیا جائے ۔ یہ بھی پوچھا جائے کہ اس ملک میں ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم کیوں ہیں جب کہ علم حاصل کرنا تمام مسلمان بچوں اور بچیوں پر فرض ہے اور جو مسلمان فرض کا تارک ہو وہ فقہی اصطلاح میں فاسق و فاجر ہوتا اور یہ ڈھائی کروڑ بچے جن کو مروجہ جمہوریتوں نے کئی دہائیوں سے تعلیم سے جبراً محروم کرکھا ہے ، فسق و فجور میں زبردستی دھکیل دیے گئے ہیں جو جج صاحبان کو کبھی نظر نہیں آئے اور نہ ہی اُن کی طرف سے  اس ضمن میں کوئی نوٹس لینے کو کبھی ضروری سمجھا گیا ہے ۔

 چائلڈ لیبر کا کینسر اس معاشرے کو مسلسل کھا رہا ہے لیکن قاضی صاحبان کے کانوں پر از خود نوٹس کی کبھی جوں تک نہیں رینگی ۔ ملک میں بچے اغوا کر کے جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی کہانی اب کئی دہائیوں پر محیط ہے مگر کوئی از خود نوٹس نہیں آتا ۔ کرپشن اور منی لانڈرنگ پر کوئی سوموٹو اقدام نہیں ہوتا ۔ اشیائے خوردنی ، دودھ اور ادویات میں ملاوٹ کرنے والوں کو  کبھی از خود نوٹس کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ پولیس کا محکمہ جس ابتذال کا  شکار ہے اور رشوت سے لے کر گالی گلوچ تک اس ادارے کے دم قدم سے زندہ ہے اُس پر تو کبھی  سوموٹو نوٹس نہیں لیا  گیا۔ ملک کے لوگ انصاف کو ترس گئے ہیں اور  انصاف سے محرومی کی تصویر بنے ہوئے ہیں  جبکہ تعلیم سے لے کر مذہب تک اور صحت کے شعبے سے لے کر سیاست تک سب کمرشلائز ہو چکی ہے مگر کبھی کوئی سوموٹو نوٹس اس ضمن میں نہیں لیا گیا  ۔ آخر کیوں ؟ مگر اس کیوں کا جواب کون دے ۔ لیکن کورونا  کا معاملہ چیف جسٹس صاحب کو کیوں اس قدر اہم لگا کہ اُنہوں نے اتنا اہم قدم اُٹھایا ۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جج صاحبان مارشل لا کے طرز پر جسٹس لا لگا کر حکومت کو معطل کردیں اور امورِ حکومت سنبھال لیں اور ملک میں جسٹس پارٹی بر سر اقتدار آ جائے تو شاید لوگوں کی قسمت بدل جائے مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ۔

پچھلے بہتر سال سے اس ملک میں معاشرتی نا انصافی کا دور دورہ ہے ۔ سوشل جسٹس ناپید ہے ۔ملک میں قانون کے بجائے لا قانونیت کی حکمرانی ہے ۔  مساواتِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم ) محض ایک کتابی بات ہے ۔ اگر چہ عدالتیں سوموٹو نوٹس لیتی رہتی ہیں مگر عدل کی بکری پھر بھی دودھ نہیں دیتی ۔ جب ملک میں انصاف کی یہ گت بن رہی ہو تو ملا نصر الدین اپنی مہم پر نکلتے ہیں اور انصاف کے لیے آواز بلند کرتے ہیں ۔ حکایاتِ ملا نصر الدین میں یہ واقعہ بھی درج ہے کہ انصاٖف کرنے والوں میں کیسے کیسے ایسے ویسے بھی ہوتے ہیں ۔ مُلا اپنی آپ بیتی یوں سناتے ہیں :

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں پڑوس کی بستی سے رات گئے  واپس اپنے شہر اکشیہیر کو لوٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ شہر سے کچھ فاصلے پر درختوں کے ایک ذخیرے کے بیچ میں کوئی شخص زمیں پر گرا پڑا ہے اور پاس ہی اس کا گھوڑا کھڑا ہے ۔ ایک طرف اُس شخص کا چوغہ اور دستار پڑی ہے ۔ ملا نے یہ تماشا دیکھا تو جلدی سے اُس زمین پر بے سدھ پڑے شخص کو ہلایا تو دیکھا کہ وہ تو قاضی شہر ہیں جو شراب کے نشے میں بدمست پڑے ہیں ، جنہیں تن بدن کا ہوش نہیں ۔ ملا نے اُنہیں بیدار کرنے کی کوشش کو تو اس پر قاضی نے خوفناک انداز میں قانونی نکات بیان کرنے شروع کر دیے ۔ مُلا جب انہیں بیدار نہ کر سکے تو  تھک ہار کر ایک طرف کھڑے ہوگئے ۔ کچھ دیر سوچتے رہے ۔ پھر خوشی سے تالی بجائی ، قاضی کی سرکاری خلعت اُٹھا کر پہن لی اور اس کی پگڑی بھی سر پر سجا لی اور گھر کی راہ لی ۔ پو پھٹے کے قریب قاضی کو ہوش آیا تو ہڑ بڑا کر اُٹھے اور اپنی خلعت و دستار نہ پا کر سمجھ گئے کہ چوری ہوگئی ہے ۔ گھوڑا دوڑاتے اپنی اقامت گاہ پہنچے، گھر سے دوسری وردی پہنی اور عدالت جا پہنچے ۔ انہوں نے اپنے پیادوں سے کہا کہ اں کی دستار اور خلعت چوری ہوگئی ہے ۔ ایک مخبر نے خبر دی کہ ملا نصرالدین اسی قسم کی خلعت پہنے اور پگڑی سر پر سجائے شہر میں پھر رہے ہیں ۔قاضی نے حکم جاری کیا کہ ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے ۔ چنانچہ ملا کے وارںٹ  نکلے اور پیادوں نے انہیں عدالت میں پیش کردیا ۔ قاضی نے غضب ناک ہو کو مُلا کو دیکھا اور پوچھا : مُلا نصر ، یہ دستار اور خلعت کس کی ہے تو ملا نےاطمینان سے جواب دیا کہ سرکار ! میں اُس شخص کو تو ڈھوند رہا ہوں ۔ دیکھیے نا ، جس شہر میں آپ جیسا منصف ہو وہاں ایک شخص شراب کے نشے میں دھت پڑا تھا جسے اپنی خلعت اور دستار کا ہوش تک نہ تھا ، میں نے اس کی یہ دونوں چیزیں  حفاظت کے لیے اپنے پاس رکھ لیں کہ کہیں چوری نہ ہوجائیں۔ اب میں شہر بھر میں اُس شخص کو ڈھونڈ رہا ہوں تاکہ اُس کی امانت اُس تک پہنچا دوں ۔

ملا کی بات سُن کر قاضی نے سر خفت سے نہیں بلکہ چالاکی سے جھکا لیا اور بولا  : تو جاؤ ملا جی ۔ اپنا کام کرو ۔

اب کوئی پاکستان میں کس سے پوچھے کہ اس ملک میں انصاف کیوں نہیں ہے ۔ شاید میڈیا کے پاس اس کا جواب ہو کیونکہ میڈیا کے پاس سوائے صحافت کے ہر مرض کی دوا ہے ۔ کورونا سے لے کر کرپشن تک ہر روگ کا علاج موجود ہے اور اب تو میڈیا نے سیاست دانوں کا کام سنبھال لیا ہے ۔ ہر اینکر نے اپنا میڈیا چینل بنا لیا ہے  اور کسی نہ کسی پارٹی کی سیاست کر رہا ہے ۔ اور وہ دن دور نہیں جب میڈیا عدالتی کام بھی سنبھال لے گا اور پھر ججوں کی ضرورت نہیں رہے گی ۔

میڈیا تو میڈیا تھا ، اب سوشل میڈیا تو نہلے پہ دہلا ہے ۔ جھوٹی خبریں گھڑنا ، جعلی ویٖڈیو کلپ تیار کر کے پھیلانا اور ایسی ایسی دون کی لینا کہ سن کر گوئبلز بھی کانوں پر ہاتھ رکھ لے ۔ ابھی ایک دو دن پہلے چینل 92  پر یہ افواہ چھوڑی گئی کہ پنجاب ٹیکسٹ بورڈ نے نویں جماعت کے مطالعہ پاکستان کے سلیبس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر مشتمل اسباق کو نصاب سے خارج کردیا ہے اور یہ کام قادیانیوں کے ایما پر ہوا ہے ۔ اس پر ٹیکسٹ بورڈ کے ایم ڈی رائے منظور ناصرنے اپنا موقف بتاتے ہوئے اس خبر کو من گھڑت قرار دیا ۔ اُنہوں نے سلیبس کی کتاب دکھا کر بتایا کہ اس میں سورہ احزاب کی وہ آیات بھی شامل ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ:

محمد صلی اللہ علیہ وسلم مردوں میں سے کسی کے والد نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے ۔ یہ ایک صریح جھوٹ ہے جو گھڑ کر پھیلایا گیا ہے جس سے خلقِ خُدا کو ذہنی اذیت میں مبتلا کیا گیا ہے ۔

 کیا اس معاملے پر سوموٹو نوٹس بنتا ہے یا نہیں ۔ فیصلہ آپ کو کرنا ہے ۔

loading...