ہم کون ہیں؟

یہ عجیب ، فرسودہ اور پُرانا سوال ہے جو ماڈرن میڈیا فیشن کے مطابق نہیں ہے ۔ اس قسم کے سوال سے اکثر بُلھے شاہ یاد آتے ہیں کہ
نہ میں مومن وچ مسیتاں

نہ میں وچ کُفر دیاں ریتاں

نہ میں پاکاں وچ پلیتاں

نہ میں موسیٰ نہ فرعون

بُلھیا کیہ جانڑاں میں کونڑ

لیکن ہمارا مسئلہ بالکل جُدا ہے ۔ ہم میں سے ہر شخص نے اپنے امیج اور سوشل سٹیٹس کا  پوسٹر بنا رکھا ہے ۔ ایک اعلیٰ آدمی کے امیج کا پوسٹر۔ وہ اُس پوسٹر کو اُٹھائے پھرتا ہے اور گلی گلی خود اپنا جلوس نکالتا ہے ۔  وہ اپنی ذات کے  ا چھے آدمی کی سوشل پروموشن میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتا اور اگر اس امیج کو کوئی خراش آ جائے تو اُسے سو سو طریقوں سے مُرمت کرتا ہے ۔ اُسے دوسروں کی نہیں صرف اپنی فکر ہوتی ہے کہ اُس کا امیج خراب نہ ہو ۔ یہ امیج لائف بڑی عجیب ہوتی ہے ۔ یہ بات اپنی جگہ درست بھی ہے کہ ہر فرد منفرد ہوتا ہے ۔ اپنی مثال آپ ہوتا ہے  ۔ وہ منقسم نہیں مکمل ہوتا ہے ۔ جو مکمل ہو وہ صحت مند ، ہوش مند ، دانا اور پاکیزہ  باطن ہوتا ہے  ۔ وہ اپنی ذات میں ایک اتھارٹی ہوتا ہے۔ وہ معاشرے کی بنیادی اینٹ ہوتا ہے اور جب معاشرہ ایسے افراد پر مشتمل ہو تو معاشرتی زندگی ایک خوبصورت گیت بن جاتی ہے ۔ امن ، ترقی اور خوش حالی کا گیت ۔ لیکن ہم پاکستانیوں کا المیہ یہ ہے کہ اُن کے وہاں آج تک فرد وجود میں ہی نہیں آسکا ۔ روحِ انسانی کی تعمیر ممکن ہی نہیں ہوئی ۔ چنانچہ اوپر سے نیچے تک ، عسکریہ سے مولویہ تک ، اشرافیہ سے دانشوریہ تک ، میڈیا سے مورکھتا تک سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں اور  ان چٹوں بٹوں ، روڑا کنکروں کی اسلمبلیاں کیا ، وزارتیں کیا ، عدالتیں کیا اور دفاعی حماقتیں کیا ۔

ہم روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی عظمت کی قسم کھاتے ہیں اور روز ہی اسلامی تعلیمات کو اپنے پاؤں تلے روندتے ہیں ۔ میں حیران ہوتا کہ جب کبھی کسی امام مسجد ، کسی مولوی ، کسی شیخ الاسلام یا کسی حاضر سروس مفتی  سے ملاقات ہو تو عام مسلمان سے مل کر اُن کے چہرے پر مسکراہٹ کے بجائے ایک گونہ خشونت ہوتی ہے جس کا مطلب نا پسندیدگی ہے ۔ تب میں سوچتا ہوں کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا تھا کہ اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے مگر یہ مسجد کے تنخواہ دار منشی اتنے غریب ہیں کہ وہ صدقے میں مسکراہٹ تک نہیں دے سکتے ۔

ہمارے ہاں  ایک زمانے سے یہ بات کانوں میں ڈالی جاتی رہی ہے کہ رمضان کے مہینے میں شیطان کو قید کردیا جاتا ہے ۔ اس پر ذہن میں یہ سوال عود کر آتا ہے کہ اگر شیطان قید میں ہے تو یہ گلی گلی لوٹ مار کرنے والے ، بوڑھی عورتوں سے پرس چھیننے والے ، گاڑیاں روک کا نقدی اور زیور چھیینے والے لوگ کون ہیں ؟ کیا یہ بھاتی سپیرے  نریندر مودی کے چھوڑے ہوئے سنپولیے ہیں جو لوگوں کو سرِ راہ ڈس رہے ہیں ۔ یا الٰہی ، یہ کون لوگ ہیں جو مسلمانوں کے شناختی کارڈ چرا کر خدا سے فریب کر رہے ہیں ۔ یہ ایک بے حد نازک صورتِ حال ہے جس کے درست ہونے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی ۔ تب ذہن میں خیال آتا ہے کہ اگر اسلام کے راستے پر چلنے کی توفیق نہیں تھی اور ملک کو اسلامی بنیادوں پر تعمیر کرنے کی عقل اور صلاحیت نہیں تھی تو لوگوں کو بیوقوف ہی کیوں بنایا ؟ کیا اسلامی ریاستیں ایسی ہوتی ہیں جس کا نقشہ رمضان کے مہینے میں ہمیں  نظر آ ارہا ہے؟ لیکن بُرا ہو  کورونا کا  کہ جس نے دوسرے کاروباروں کے ساتھ مذہبی کاروبار بھی بھٹہ بٹھا دیا ہے ۔

 ہمارے ہاں لاکھوں حفاظ قرآن حفظ کرتے ہیں اور تراویح کی نفلی عبادت میں قرآن سنا کر رمضان کماتے ہیں مگر وائرس کورونا نے اس نفلی عبادت پر جزوی پابندیاں لگوا کر  حٖفاظ اور قرّا سے اُن کی کمائی چھین لی ہے ۔ہمارے ہاں کے  مذہبی کلچر میں رمضان خوش خوراکی ، مہنگائی اور کمائی کا سیزن ہے ۔ اور کورونا کی سازش نے اس مروجہ مذہبی کلچر کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے  لوگ جسمانی اور سماجی فاصلے کی پابندی سے عاجز آ گئے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر بہتر سال میں ہم اپنے ملک کے عوام کو قوانین کی پابندی نہیں سکھا سکے تو ہماری فکری اور عملی اوقات کیا ہے ؟

یہی کہ ہم کنفیوژن سے کنفیوژن تک کے سفر میں حںوط ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ہماری بٹی ہوئی قومی شخصیت نے ہم سے ہماری زندگی چھین لی ہے ۔ اور اس کا واضح اظہار ہم میڈیا کے آئینے میں دیکھتے ہیں کہ ایک طرف تو ہم ظالم حاکم کے سامنے کلمہ  حق کو جہاد کہتے ہیں لیکن دوسری طرف شاہ کے مصاحب شاہ پر تنقید کے اشارے کو بھی برداشت نہیں کرتے اور تنقید کرنے والے کو غداری کا پروانہ جاری کر دیتے ہیں ۔ بعض کے نزدیک حُب الوطنی  ظالم حاکم کے ظُلم کی تعریف و توصیف  اور غیر مشروط حمایت کا نام ہے ۔ غریب عوام گئے بھاڑ میں ۔ بے چاری غُربت فٹ پاتھوں ، جھگیوں اور جھونپڑوں  کا عذاب بنی ہوئی ہے اور  یہ دو چار برس کی بات نہیں پورے بہتر برس کا قصّہ ہے ۔ ہم پوتڑوں کے بگڑے ہوئے ہیں ،  ہمارے اندر کا انسان انسانیت بھول چکا ہے اور ہم نہیں سوچتے کہ جس طرح محلوں ، کوٹھیوں ، بنگلوں اور بحریہ ٹاؤن جیسے پاش علاقوں  میں رہنے والوں کو روٹی کپڑا اور مکان کی ضمانت مل چکی ہے ، اسی طرح خطِ غربت سے نیچے سسکتی جنتا کو بھی روٹی کپڑے اور مکان کی ضرورت ہے ۔ پیپلز پارٹی نے کئی دہائیاں پہلے یہ نعرہ لگایا تھا :

مانگ رہا ہے ہر انسان

روٹی ، کپڑا ور مکان

اور وہ ہر انسان پیپلز پارٹی کے چار بار کے دورِ اقتدار میں اس نعرے کے ٹرک کی بتی کے پیچھے دوڑتا رہا ،مگر اُس کی مراد بر نہیں آئی ۔ اور یہ پون صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں ۔ اور خطِ غربت سے نیچے سسکنے والے یہ نیم مردہ انسان سوال کرتے رہتے ہیں کہ کیا ہمارا بھی کوئی خُدا ہے ؟

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ایسی باتیں لکھ کر ہم کون سا تیر مار لیتے ہیں اور اس سے معاشرے کے کان پر کب جوں رینگ سکتی ہے  جب کہ لوگ اللہ کے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں اور اُن کی کتابوں کی تعلیمات سے سدھر نہیں پائے ۔ ہر چند کہ مذہب کا مزاج آمرانہ ، سوفسطائی یا بنیاد پرستانہ نہیں بلکہ غایت درجہ جمہوری ہے ۔ یہ انسان اور کائنات کے درمیان اصولوں کا رشتہ ہے جس کے تحت اور انسان اور کائنات کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہوتی ہے ۔ ایسی ہم آہنگی جس میں خُدا اپنے بندے کا ذکر اُسی طرح کرتا ہے جس طرح بندہ اپنے خُدا کا ۔ انسان سیاروں کی چال چلتا اور ستاروں کی طرح روشنی دیتا ہے  اور کبھی کبھی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم  جیسا  کوئی ستارہ سورج سے مشابہت رکھنے لگتا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر مترجموں ، مفسروں اور شارحین نے مذہب کو کفر برابر نہ لا کھڑا کیا ہوتا  تو یہ زمین جنت کا جیتا جاگتا نمونہ ہوتی ۔ جنت جو فراوانی محبت خوش حالی اور مسرت کا استعارہ ہے لیکن ہم اس جنت سے نکالے ہوئے لوگ ہیں ،  تاہم میرا معاملہ دوسرا ہے کیونکہ میں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ:

 جہاں سے تو نے نکالا مرے اب جد کو

میں آج بھی ا‘سی باغِ عدن میں رہتا ہوں

loading...