ما قبل کورونا اور ما بعد

بحیرہ روم کے ساحل(یورپ، شمالی افریقہ اور جنوب مغربی ایشیا) پہ بسنے والے انسانوں نے آج سے دس ہزار سال قبل جنگلی جانوروں (گھوڑے، اونٹ، بکریاں، سؤر، مویشی، کتے اور بلیوں) کو پالنا شروع کیا جس کے نتیجے میں ان جنگلی جانوروں کے وائرس انسانوں میں منتقل ہونے لگے۔    

متعدی امراض کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ایسی بیماری جو ایک مریض سے دوسرے صحتمند شخص کو لگ جاتی ہے اسے متعدی مرض کہا جاتا ہے۔ خسرہ، ایک متعدی مرض جس سے جسم پر سرخ دانے نکل آتے ہیں، پہلی بار اس کی نشاندہی ایرانی عالم، دانشور،  ماہرِ اجرامِ فلکی، فزیشین، کیمسٹ اور فلسفی ابو بکر محمد ابن زکریا الرازی (865-925) نے کی تھی۔ آلو اور دیگر سبزیوں اور پھلوں سے پیدا ہونے والے  وائرسز تقریباً 6600سال قبل شروع ہوئے تھے۔ 

سپینش فلوغیر معمولی جان لیوا عالمی وبائی مرض جس نے دنیا بھر میں جنوری1918سے دسمبر 1920کے دوران پانچ سو ملین آبادی کو متاثر کیا جواُس وقت دنیا کی کل آبادی کا ایک چوتھائی تھا جبکہ مرنے والوں کی تعداد کا اندازہ 17 ملین سے 50 ملین تک لگایا گیاتھا۔یہ وبا کہاں سے شروع ہوئی اس بارے کچھ معلوم نہیں البتہ پہلا کیس سپین میں رپورٹ ہوا تھا۔ انیسویں صدی  میں آخری بار انفلوانزا نے وبائی شکل اختیار کی جس میں یورپ میں ڈھائی لاکھ انسان لقمہئ اجل بنے۔اس وائرس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ روس یا پھر ایشیاسے شروع ہوا اور ٹرین اور دخانی جہازوں کے مسافروں کے ذریعے تیزی سے پھیلنے والا پہلا وائرس خیال کیا جاتا ہے۔

 میں ’ایشین فلو‘ نامی وائرس نے قریباً دس لاکھ انسانوں کو ہلاک کیا۔ ’ہانگ کانگ فلو‘ نے 1957 صرف امریکہ میں 33800 لوگوں کی جان لی۔  یہ واقع 1968 میں ہوا تھا۔بیسویں صدی میں چیچک کی بیماری موت کی بڑی وجہ رہی ہے۔اس بیماری نے تقریباً تین سو ملین انسانوں کی جان لی۔یہ انتہائی تباہ کن اور جان لیوا متعدی بیماری ہے۔ تقریبا ً 11000سال قبل ہندوستان کی زرعی کمیونٹی میں پہلی بار نمودار ہوئی تھی۔کن پھیڑ ایک متعدی مرض، یہ بیماری بارہویں صدی میں جگالی کرنے والے مویشیوں سے انسانوں کو منتقل ہوئی۔ بحیرہ روم کے ساحل(یورپ، شمالی افریقہ اور جنوب مغربی ایشیا) پہ بسنے والے انسانوں نے آج سے دس ہزار سال قبل جنگلی جانوروں (گھوڑے، اونٹ، بکریاں، سؤر، مویشی، کتے اور بلیوں) کو پالنا شروع کیا جس کے نتیجے میں ان جنگلی جانوروں کے وائرس انسانوں میں منتقل ہونے لگے۔ایک اور قدیم متعدی بیماری   ہرپیز وائرس ہے جس میں جسم پر آبلے پڑ جاتے ہیں۔ طاعون عالمی سطح کی وبا تھی جس نے 1300کے وسط میں یورپ اور ایشیا میں تباہی پھیلائی۔ یورپ میں یہ وبا اکتوبر 1347 میں آئی جب بارہ بحری جہاز بحرِ مردار  سے میسینیا کی سیسیلین بندر گاہ پہ لنگر انداز ہوئے۔

وائرس کی یہ مختصر تاریخ بتاتی ہے کہ متعدی بیماریوں نے حیوانات اور نباتات سے انسانوں کی طرف مراجعت کی ہے اور یہ عمل ہزاروں سال سے جاری ہے گویا یہ رشتہ ازل سے ہے،  تو کیا انسانی بستیوں میں تباہی و المناکی کی یہ داستان ابد تک جاری رہے گی۔ زمین اور آسمان کی وسعتوں کو ناپنے، سمندروں کی گہرائیوں کو تولنے، منٹوں کے تؤقف سے حضرتِ انسان کو نیست و نابود کر دینے والے تباہ کن ہتھیار کے موجد کیا اسی انسان کو وائرس کی تباہ کاریوں سے قبل از وقت بچانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ صلاحیت حاصل کر نے سے ’پرافٹ‘  تو تیسری دنیا کے کسی غریب ملک کے خزانے میں نہیں جائے گا۔ ترقی یافتہ دنیا کی خود مختار حکومتوں کو ’ترقی‘ کے معنی و مفہوم پر از سرِ نو غور کرنا ہو گا۔ اب ترقی برائے ’نفع و اختیار‘ کی بجائے واقعتاً انسانی ترقی ہی قرار دی جانی چاہیے کہ اس گلوب کی بقا اسی میں ہے۔   

کورونا کے مابعد اثرات میں ایک خوفناک ترین اثر بڑے پیمانے پر دنیا کی آبادی کے ایک بڑے حصے کا خطِ غربت سے نیچے گِرنے کا اندیشہ ہے جس کے نتیجے میں بے روزگاری اور غربت میں غیر معمولی اضافہ ہو گا۔ بے روزگاری کے نتیجے میں سماجی سطح پر لا قانونیت، بدامنی حتیٰ کہ خانہ جنگی کے خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت دنیا کی آبادی کا 36فیصدانتہائی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ پاکستان کی آبادی کا 24  فیصد خطِ غربت سے نیچے ہے۔ 2015میں ورلڈ بنک نے خط ِ غربت کا جو معیار طے کیا تھا اس کے مطابق 1.90ڈالر(تقریباً 320روپے) یومیہ کمانے والا شخص انتہائی غربت میں جی رہا ہے۔ کورونا جو عالمی وبا  ہے اور پوری دنیا لاک ڈاؤن ہو چکی ہے، مقامی اور عالمی سطح پر معاشی سرگرمیاں معدوم ہو گئی ہیں۔ اس صورتِ حال میں نہ صرف دیہاڑی دار مزدور طبقہ بلکہ نچلہ درمیانہ طبقہ بھی فاقہ کشی سے دوچار ہے۔حکومت نے گھروں میں بند ان لوگوں تک نان و نفقہ پہنچانے کا عزم کیا ہے اور کچھ وسائل مختص کئے ہیں۔ عام پاکستانی اور مخیّردرد مند بھی اپنے اپنے طور پر لوگوں کے گھروں میں راشن پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں مگر قریبی جائزے سے محسوس ہوتا ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

وزارت ِ پلاننگ، ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کے مطابق پاکستان میں امیر طبقہ 15فیصد جبکہ غریب 65فیصد ہیں۔غربت اور امارت  کا یہ فرق معاشرے میں جرائم کو پھلنے پھولنے کیلئے کافی وجہ ہے اور اب کورونا کے باعث جب ملک کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑیں گے تو صورتِ حال کیا ہو گی اور یہ صورت کب تک جاری رہے گی؟  یہ سلگتا سوال حکومت کیلئے تو ہے ہی، اس 15فیصد کیلئے بھی ہے جو  ’ماشا ء اللہ‘،  ’جزاک اللہ‘  او ”الحمد للہ‘ کے طفیل ملک کے 80فیصد وسائل پر قابض ہیں۔دنیا بھر کے لوگوں کو ما بعد کورونا، درپیش ہونے والے معاشی مسائل اور ان کے حل پر ابھی سوچنا ہوگا۔خدشہ ہے کہ یہ معاشی عفریت کہیں کورونا سے بھی زیادہ خوفناک اور خونخوار شکل اختیار نہ کر لے۔   

پاکستان میں صحت کی سہولیات پہلے ہی ناکافی اور غیرمعیاری ہیں۔2019-20 کے بجٹ میں صحت کے شعبے کیلئے 13بلین روپے مختص کئے گئے۔ پاکستان صحت کے شعبے کیلئے کل بجٹ کا ایک فیصد ہی مختص کرتا ہے۔کورونا نے دنیا کی معیشت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں ہیں۔امریکہ، چین، جاپان، فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک اس کی زد میں ہیں۔ دنیا کو اب اپنی ترجیحات بدلنا ہو ں گی۔ اسلحہ سازی، جنگی جنون اور دوسروں کے وسائل پر بزور قبضہ جیسی پالیسیاں ترک کرنے میں ہی انسانیت کی بقا ہے۔ ریاست کے اختیار جو کارپوریٹ سیکٹر کو خاموشی سے دئیے گئے ہیں انہیں واپس ریاست کو دینا ہوں گے اوراب دنیا کو ایک نئے عمرانی معاہدے پر بھی سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں 30سے 70سال کی عمر میں دل و سانس، کینسر اور شوگر جیسی غیر متعدی بیماریوں سے شرح اموات انڈیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے زیادہ ہے۔ مذکورہ بیماریوں کی ایک بڑی وجہ تمباکو کا استعمال ہے۔ پاکستان پہ ان بیماریوں کا بوجھ زیادہ ہے کیونکہ پاکستان میں تمباکو /سگریٹ نوشی کا رحجان زیادہ ہے۔15سال اور اس سے زیادہ عمر کے 20.1فیصد لوگ پاکستان میں تمباکو/سگریٹ نوشی کا شکار ہیں جبکہ تمباکو /سگریٹ نوشی ترک کرنے کا رحجان دنیا میں سب سے کم  یعنی صرف 2.6 فیصد ہے۔

 تمباکو /سگریٹ نوشی پر قابوپانے کیلئے حکومتی اور سول سوسائٹی کی سطح پر کافی کام ہوا ہے اور مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارے ہاں سگریٹ انڈسٹری کے ہاتھ بہت لمبے ہیں وہ اپنے مفادات کے خلاف ایک حد سے زیادہ کام نہیں ہونے دیتی۔اس حوالے سے تحقیق بھی ناکافی ہے، خصوصاً تمباکو/سگریٹ کی لت سے جان چھڑانے کے خواہشمندوں کے لئے کونسلنگ اور متبادل ذرائع کا فقدان ہے۔ ہمارے ہاں ترکِ تمباکو /سگریٹ نوشی کیلئے سائنسی طریقے ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں لوگ اپنے طور پر تمباکو /سگریٹ نوشی کو چھوڑنے کی کوششیں کرتے ہیں اور قوتِ ارادی  کے بل بوتے پر اس وبال سے جان چھڑانے میں کامیاب یا ناکام ہوتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ترکِ تمباکو/سگریٹ میں مددگار جو دوسرے طریقے اپنائے جا رہے ہیں جیسے ا ی  سگریٹ یا ویپنگ  وغیرہ تو پاکستان میں بھی انہیں آزمایا جانا چاہیے۔

loading...