بفیلو لینڈ کی جمہوریت

پاکستان ، جنّت نشان ، زمین پر خُدا کا آسمان  ، ایک یوٹوپیا تھا کہ مسلمان اس پانچ دریاؤں کے قطعہ ء ارض پر  اسلام کے مطابق زندگی بسر کریں گے ۔ یہ ایک مثالی اسلامی مملکت ہو گی جو اسلام کے سماجی ، اقتصادی اور آئینی نظام کی زندہ مثال ہو گی ۔ نعرہ بازوں نے پاکستان کے سیاسی نظریہ کی پروموشن کے لیے بہت سے نعرے ایجاد کیے جن میں سب سے زیادہ اوور لیپ کرنے والا نعرہ ہے :  پاکستان کا مطلب کیا  / لا الہ اللہ

پھر فوج کے  ہاتھوں ملکی  آئین کے بار بار کے قتل کے بعد کچھ سیاسی متفنیوں نے مصرع لگایا :  پاکستان کا مطلب کیا  / لاٹھی گولی مارشل لا

یہ دونوں نعرے شہری طرزِ زندگی اور فوجی طرزِ زندگی کے درمیان دو طرفہ آویزش کی چُغلی کھاتے ہیں لیکن ہم اُس معاشرے میں رہتے ہیں  جو بفیلو لینڈ میں قائم ہے ، جہاں عوام نہیں بھینسیں رہتی ہیں جنہیں کبھی فوج کی لاٹھی براہِ راست ہانکتی ہے اور کبھی فوج کے سول ملازمین جو سیاستدان کا درجہ رکھتے ہیں بھینسوں کو ٹھیکے پر چراتے ہیں اور اُن کے دودھ ، گوشت  اور گوبر کا  کمیشن کھاتے ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ کسی کو اس بات کا احساس تک نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کس راستے پر گامزن ہیں ۔ جب آویزش کی یہ صورت دیکھیں تو خیال آتا ہے کہ قائد اعظم نے اس قوم کو اتحاد کا جو سبق دیا تھا وہ اسے یاد ہی نہیں رہا ۔ ایک بد امنی اور انتشار کا دور دورہ ہے جو قائدِ اعظم کے پاکستانیت کے اصولوں کا مونہہ چِڑاتا رہتا ہے ۔

لوگ ایک دوسرے کے  خلاف ہر سطح پر صف آرا ہیں ۔ اور انتہا یہ ہے کہ ایک ہی خاندان کے لوگ آپس میں جُڑ کر نہیں رہ پا رہے ۔ حکومت اور حزبِ مخالف کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے مزاحم ہیں جن کے پیچھے میڈیا کے شریف  صحافی اپنی اپنی راگنی گا رہے ہیں اور ایک ایسے وقت میں جب ملک پر کوویڈ ۔ 19 کے مہیب سائے منڈلا رہے ہیں اور لوگ موت کی وادی کے دہانے پر خوف میں مبتلا ہیں ، یہ سیاسی ، صحافتی اور کاروباری ادارے معاشرے میں انتشار پھیلانے کی فیکٹریاں چلا رہے ہیں ۔ ایک دوسرے پر لفظی گولے پھینک رہے ہیں اور ایک ایسی زبان کو رواج دے رہے ہیں جو نفرت  کے بچھوؤں کی طرح ڈنک مارتی ہیں ۔ ایک ایسے وقت میں جب سب کو مل کر اللہ سے رحمت اور کرم کی بھیک مانگنی چاہیے ، ہمارے پیارے پاکستانی ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھال رہے ہیں ، ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہ رہے ہیں ، ایک دوسرے کے خلاف میڈیا پر پراپیگنڈا کر رہے ہیں  اور ان رمضان کے مقدس دنوں میں بھی اللہ نے اُنہیں فوفیق نہیں دی کہ وہ اپنی ذاتی رنجشیں پسِ پشت ڈال کر قوم کے وسیع تر مفاد میں کوئی مشترکہ لائحہ  عمل طے کریں اور  کورونا کے خلاف جنگ میں اپنا حصہ ڈالیں ۔

وہ لوگ جو اس وبا کے دنوں میں بے روزگار ہو گئے ہیں اُن کے لیے اپنی جمع کی ہوئی دولت میں سے حصہ نکال کر ان کی مالی مدد کریں تاکہ حق داروں کا اُن کا حق مل سکے ۔ یہ حقوق العباد کا شرعی معاملہ ہے اور جو لوگ اربوں کھربوں کی املاک پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں ، وہ خُدا سے ڈریں کہ کہیں دولت کا سانپ اُن کو ہی نہ کاٹ  لے  اور ایسا نہ ہو کہ ہم خُدا کے غضب کا شکار ہو جائیں ۔ مگر معاشرے کے  سر بر آوردہ لوگ اور مراعات یافتہ طبقے اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کر رہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ تو ہم  من حیث القوم تربیت یافتہ  مسلمان ہیں اور نہ ہی پاکستانیت کے تین اصولوں یعنی اتحاد ، تنظیم اور ایمان پر ہمارا تصرف ہے ۔ ہم  سٹیریو ٹائپ مسلمان ہیں جو چند زبانی باتوں کو رٹ کر جنت کے ٹکٹ خریدنے کے لیے لائن میں لگے ہوئے ہیں مگر  اپنا محاسبہ نہیں کرتے ۔ اقبال نے کہا تھا:

صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم

کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب

حساب ہو یا احتساب ، ہماری دینی ذمہ داری ہے مگر ہم نے احتساب کو سیاسی انتقام کا نام دے کے اپنے متنازعہ اثاثے بچانے  کےلیے آسانیاں پیدا کر لی ہیں  ۔ ہماری مکاری کا یہ حال ہے کہ  کہانی تو  ہم عمرؓ کی قمیض کی سناتے ہیں جس کا حساب ایک عام بدو نے مانگا تھا اور اپنی باری پر ہم سیاسی انتقام کا رونا رونے لگتے ہیں ۔ اس لیے کہ قانون کی پابندی ہم نے سیکھی ہی نہیں ۔ قانون کی پابندی انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہمارے روز مرہ فرائض میں شامل ہے ۔ جو قانون کی پابندی نہیں کرتا وہ انسانی منصب کھو بیٹھتا ہے اور کورونا کے دنوں میں ہماری قومی لاقانونیت کا رویہ یہ اشارہ دے رہا ہے کہ بھینسیں  انسانی منصب سے محروم کر دی گئی ہیں ۔

ہمارا معاشرہ جس نے کم سن بچیوں اور بچوں کو جنسی درندگی کی سولی پر کھینچا ہے ، جہاں اسلامی اثرات کاروکاری ، جہیز کی لعنت اور بہنوں اور بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہ دینے  جیسی مذموم رسموں کو ختم نہیں کر سکے ۔ یہ وہ حالات ہیں جو اس بات کے غماز ہیں کہ  ہم اسلام کو بطور طرزِ حیات رائج اور نافذ کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں جس نے ہمارے مسلمان ہونے کے کریڈٹ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے مگر بھلا ہو پیشہ ور ملاؤں کا  جن کے ہاں ہر کس و ناکس کو ابو ہریرہؓ کا ہمسر بنانے کا کام ہوتا ہے ۔پیشہ ور میڈیا اپنے محاذ پر ڈتا ہے اور مولوی طارق جمیل کا ناطقہ بند کرنے کے لیے  طرح طرح کے حربے آزمائے جا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر ایسے ایسے ویڈیو کلپ چلائے جا رہے ہیں جو اس رمضان کے مہینے میں مسلمان معاشرے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں ۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے کھانا پینا تو بند کر رکھا ہے لیکن بد تمیزی ، گالی گلوچ ، غیبت ، الزام تراشی اور  حرامخوری پر پابندی لگانا ہمارے بس کا روگ ہے ہی نہیں ۔ چنانچہ ہم پر کورونا  ہی نہیں اُترا  بلکہ  اپنی بے راہروی اور کم مائیگی کے ہاتھوں ہم خود اپنے آپ پر بھی عذاب کی طرح نازل ہیں ۔ کہیں بچے ڈوب کر ہلاک ہو رہے ہیں ، کہیں دیرینہ دشمنی کی بنا پر لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں گھس کر عورتوں اور بچوں کو مار رہے ہیں اور کہیں باپ اپنے سگے بچوں کو گولیوں سے بھون رہے ہیں ۔ آخر ہم اتنے غیر تربیت یافتہ شہری کیوں ہیں کہ ہم سے روز مرہ شہری سرگرمیاں بھی سلیقے سے انجام نہیں پاتیں ۔ اور اب جب کہ کورونا کی وجہ سے ہمیں پابندیوں کا سامنا ہے تو ہم اپنا نفسیاتی توازن ہی کھو بیٹھے ہیں ۔ کیا ایسی ہوتی ہیں عظیم قومیں  ۔ خیر یہ تو اہلِ اقتدار کے طے کرنے کی باتیں ہیں ، اس لیے اجازت دیجیے کہ میں تھوڑی سی شاعری کر لوں :

ماقبلِ کورونا رہی جو بات ادھوری

لازم ہے کہ اس دور میں کی جائے وہ پوری

افطار کے کلچر میں ہے اسلام کی شوکت

اس پیٹ کامعبود ہے اب مرغ تندوری

مکہ کی کھجوریں نہیں روزے کی ضمانت

روزہ کی شرائط ہیں فقط قرب و حضوری

جو دین پہ چلتا ہے ضروری ہے مسلمان

جو دین سے بیگانہ ہے وہ غیر ضروری

اللہ نے اُتاری ہے خُوردو نوش کی نعمت

ہم بیٹھ کے کھاتے ہیں سحر شام کو چوری

جو صوم تھا روزہ بنا ، روزہ ہوا روزی

فالودہ کا عاشق ہے مرا مُلّا فتوری

ملتی تھی گواہی کہ وہ صادق ہے امیں ہے

تھے اُسوہ ء حسنہ میں مواخات و صبوری

رمضان میں مسعود کی یہ مُرغ پرستی

اسلام سے قربت ہے کہ اسلام سے دوری؟

loading...