کورونا سے ایک مکالمہ

شدید بخار کی کیفیت کے بعد اچانک خشک کھانسی شروع ہونے سے  شبہ یقین میں تبدیل ہؤا۔ کورونا ہیلپ لائن  پر رابطہ کرنے میں چند گھنٹے صرف ہوئے اور ٹیسٹ  لئے جانے کے چالیس جاں گسل گھنٹوں کے بعد بالآخر وہ خبر سنا دی گئی جس سے بچنے کے لئے دعائیں کی جاتی ہیں۔

کورونا سے ہماری ملاقات  ہوچکی تھی بلکہ وہ بن بلائے مہمان کی طرح ہمارے سر پر  سوار ہی نہیں ہؤا بلکہ گلے سے پکڑ کر اسپتال  کے بستر تک پہنچا چکا تھا۔ ڈاکٹروں نے کوششیں شروع کیں کہ کسی طرح اس وائرس کو  پھیپھڑوں سے دور رکھا جائے ۔ 

ڈاکٹروں اور کورونا کے درمیان یہ دھینگا مشتی جاری تھی اور مقابلے میں ہمارا جسم میدان جنگ بنا ہؤا تھا۔ جان ناتواں پر ہمارا کوئی اختیار نہیں تھا۔ کوئی پرسان حال بھی نہیں تھا۔ عزیز دوست، بچے  حتیٰ کی اہلیہ تک ہم سے ملاقات سے معذور تھیں۔ ڈاکٹروں اور طبی عملہ کی صورتیں بھی  کسی خلائی مخلوق یا فلمی روحوں کی مانند دکھتی تھی لیکن داد دینی چاہئے کہ  یہ لوگ جان ہتھیلی پر  رکھ کر دوسروں کی جان بچانے کی سعی و جہد کررہے تھے۔

بے بسی کا عالم تھا۔ کوئی علاج ، کوئی دوا میسر تھی اور نہ کارگر۔  وقت کا گھومتا پہیہ اتنا سست کہ  گھنٹے سیکنڈوں  کی صورت اختیار کرچکے تھے۔ اس لاچاری میں بے اختیار حرف دعا لب پہ آیا۔ یا باری تعالیٰ یہ کون ہے جس نے  ہمیں یوں تمام دنیا سے الگ تھلگ اسپتال  کے ایک کمرے میں ایک بستر تک محدود کردیا ہے، کون ہے جو دکھائی نہیں دیتا اور کون ہے جو حقیر ذرے سے بھی کم تر ہوتے ہوئے بھی انسانی جسم کو جکڑنے اور دنیا میں کاروبار حیات منجمد کرنے کے قابل ہے۔

’یہ میں ہوں‘

میں  نے صاف اور کھنک دار آواز سنی۔ طے کرنا ممکن نہیں تھا کہ   یہ نسوانی آواز ہے  یا  مردانہ لیکن لہجے کا یقین اور آواز  کی تمکنت سے اندازہ ہورہا تھا کہ  جو بھی ہے جانتا ہے کہ  وہ بالادست اور مخاطب عاجزمحض ہے۔

’آپ کون؟ ‘ انکساری سے  حرف مطلب زبان تک آیا۔ ایک نادیدہ خوف نے بھی دل کو جکڑا کہ یہ کورونا کی  مصیبت کیا کم تھی کہ اب ایک بدروح ہم سے مخاطب ہوکر نہ جانے کون سے جنم کا بدلہ لینا چاہتی ہے۔

’نہ میں بدروح ہو ں اور نہ ہی  مجھے تم سے  کچھ  لینا دینا ہے۔ تم  پکارر ہے تھے   تو  پروردگار   نے تم سے مخاطب ہونے کا حکم دیا۔ ورنہ میں انسانوں کے ساتھ گفتگو  اپنےشایان شان نہیں سمجھتا۔ انہیں تو میں کوئی بات کئے بغیر ہی زیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ نعرے  لگانا، دعوے کرنا، دھمکیاں دینا اور ڈینگیں ہانکنا انسانوں کا وطیرہ  ہے ۔ ہم جیسے جرثوموں میں یہ خصوصیات نہیں ہوتیں‘۔

بیماری سے جسم  لاغر تھا ، اس دھمکی نما رعب دار آواز نے رہی سہی ہمت بھی چھین لی۔ حلق خشک ہونے لگا۔ کھانسی  کے طویل دورانیہ  نے  فوری بولنے کا موقع بھی نہیں دیا۔ قیاس کرنے کی کوشش ہی کررہا  تھا کہ کیا کووڈ۔ 19 کا وائرس، ہم سے مخاطب ہے۔ کیا  ایک ایسا جرثومہ جسے دیکھنے کے لئے لیبارٹری کی  طاقتورخوردبین اور پہچاننےکے لئے طویل اور مشکل طبی ٹیسٹ کی ضرورت پڑتی  ہے، وہ یوں ہماری ہی زبان میں  ہم سے مخاطب بھی ہوسکتا ہے۔ کیا یہ واقعی کورونا وائرس ہے جو  ہمیں دھمکا رہا ہے یا  کوئی انہونی وقوع پذیر ہورہی ہے۔ کیا یہ خواب ہے یا ہم واقعی دنیا سے کوچ کرچکے ہیں اور عالم بالا کی کوئی طاقت اب بعد از مرگ ہمارا  ’حال احوال‘ دریافت کررہی ہے۔ اگر یہ کوئی ماورائی قوت نہیں ہے تو اسے ہمارے دل میں آئی ہوئی بات  اور اللہ  سے  کی گئی استدعا  کی خبر کیسے  ہوئی۔

’تمہارے دل میں جو بھی ہو اس تک میری رسائی نہیں ہے‘ آواز ایک بار پھر  سماعت سے ٹکرائی۔

’یہ تو اللہ کا حکم ہے۔ اسی کی قدرت سے مجھے پتہ چلا تم کیا سوچتے ہو اور کون سے سوال تمہارے دل میں پیدا ہورہے ہیں۔ ونہ میری کیا اوقات۔  میں تو اس کائینات کی حقیر ترین شے سے بھی حقیر تر ہوں۔ لیکن مجھے میری اوقات کا پتہ ہے اور کبھی اس سے بڑھ کر سوچنے اور  کچھ کرنے کی سعی نہیں کرتا۔ یہ خاصیت بھی اللہ  نے انسانوں کو ہی دی ہے‘۔

ہمت جٹا کر حرف مطلب زبان پر لانے کی سعی کی۔  عرض گزار ہؤا:

’ اگر تم ہی کورونا وائرس یعنی کووڈ۔19 ہو  اور تمہیں اللہ نے قوت گویائی بھی عطا کی ہے تو یہ سوچنے کی استطاعت بھی دی ہوگی کہ انسان  نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔    تم نے سوچا کہ  تمہارے یوں حملہ کرنے سے پوری دنیا تھم سی گئی ہے۔  غریب گھروں میں بند ہونے سے روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔ حکومتوں کے خزانے خالی ہورہے ہیں اور کاروبار بند ہونے سے دنیا میں احتیاج، غربت اور ہلاکت میں اضافہ ہوگا۔ تم باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہو لیکن کیا نہیں جانتے کی تمہارا نشانہ عمر رسیدہ افراد بنتے ہیں۔ ان بوڑھوں نے تمہارا یا کسی اور  کا کیا بگاڑا تھا۔ تم ان سے زندہ رہنے کا موقع چھین رہے ہو۔۔۔‘

’ قطع کلامی معاف کیجئے۔ یہ قصہ بہت طویل ہوجائے گا۔ بس یہ جان لیجئے کہ میں خود کسی کے پا س نہیں جاتا۔ لوگ مجھ تک آکر مجھے ساتھ لے جاتے ہیں اور پھر دوسروں کو منتقل کرتے ہیں۔ ا س لئے یہ بن بلائے مہمان والے طعنے دینا بند کرو‘۔

’مجھے طعنہ دینے کی کیا ضرورت ہے۔ جب تم کسی کو دکھائی نہیں دو گے، جب تم کسی بھی شے کے ساتھ چمٹ کر دوسرے تک پہنچنے اور  پھر اس کے مدافعتی نظام سے نبرد آزما ہونے لگو گے  تو خود ہی بتاؤ کہ بن بلایا نہ کہیں تو کیا کہیں۔ یہ مہمان کہنا بھی درست نہیں ہے۔ مہمان  کسی میزبان کو یوں ہلاک تھوڑی کرتے ہیں‘۔

’میاں انسان پہلے تو یہ جان لو کہ مرضی سے قانون فطرت کو توڑنا انسان کا وطیرہ ہے۔  حقیر وائرس یا دیگر نباتات و حیاتیات ایسا حوصلہ نہیں کرتیں۔  اللہ نے تمہیں اس کائینات پر دسترس دی لیکن تم نے اپنے حرص میں ساری حدود پار کرلیں۔ تم بھول گئے کہ یہ زمین، اس کی فضا اور وسائل پر صرف انسان ہی کا حق نہیں ہے بلکہ اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی  دوسری  دیدہ و نادیدہ مخلوق کو بھی انہیں میں سے حصہ ملنا ہے۔تم نے تو سب  کا جینا ہی حرام کردیا۔  تم تو اپنے سے کمزور ہم نفس کو نہیں چھوڑتے تو دیگر مخلوق کی  تمہارے نزدیک کیا  اہمیت  ہے۔ یہ بھی جان لو مجھ وائرس کی کیا اوقات کہ میں خود اپنی مرضی سے کوئی  حرکت کروں۔ اور  خدا کی کبریائی کو یہ طعنہ بھی  حضرت انسان ہی دیتے ہیں کہ  میری صورت میں اس  نے کوئی عذاب  زمین  پر بھیجا ہے۔ میں کوئی عذاب ہوتا تو مجھ سے بچنے کا طریقہ بھی تمہارے علم میں نہ ہوتا۔ میں  اللہ کا عذاب نہیں ، تمہاری غلطیوں کا خمیازہ ہوں‘۔

’یہ تو سب کہنے کی باتیں ہیں۔  کوئی اپنی غلطی مانتا ہے کہ تم تسلیم کرلو گے کہ تم نے  اپنے حصار سے  نکل کر اور انسانوں کے نظام پر حملہ کرکے حیات کائینات کا  سارا نظام غیر متوازن کردیا ہے۔ تم نے اشیا کو ان  کے مدار میں فطری انداز سے گردش  سے  روکنے کا اقدام کیا ہے اور اب انسا ن کو الزام دیتے ہو کہ اس نے  تمارے  معاملے میں  دست اندازی کی اور اسی لئے تم انتقام لینے چلے آئے‘۔

’حضرت !انسانی خوبیوں کو ہمارے جیسی حقیر مخلوق  کے ساتھ وابستہ کرکے اپنی غلطیوں پر پردہ نہ   ڈالو۔ تم توازن اور مدار کی  بات کرتے ہو۔ کیا نہیں جانتے کہ اس توازن پر سب سے بڑا حملہ انسان نے ہی کیا ہے۔ جو تم بھگت رہے ہو وہ اسی بیلنس کو ختم کرنے کا نتیجہ ہے۔ انسان اگر  متوازن اور میانہ رو ہوتا تو اسے اس انتہائی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ تم نے بیلنس خراب کیا۔ یہ اسی کی سزا ہے‘۔

’بیلینس ، توازن ۔۔۔ تم سے بحث فضول ہے ۔ چھوڑو سارے انسانوں کو ۔ مجھے بتاؤ ۔ مجھ عاجز بوڑھے نے تمہارا کیا بگاڑا تھا۔ مجھے کس گناہ کی سزا دینے تم  میرے سانس کم کرنے اور پھیپھڑوں کو داغدار کرنے چلے آئے ہو؟‘

جواب دو ۔۔۔ مگر جواب ندارد تھا۔

کمرے میں سناّ ٹا تھا۔ میری آواز میری ہی سماعت سے ٹکرا  رہی تھی۔

میں کس سے مخاطب ہوں؟

’ہاں آپ کسی سے بات کررہے ہیں‘۔ دوا دینے کے لئے آنے والی نرس نے مجھ سے پوچھا۔

میں نے دوا لی اور اپنے جسم کا توازن درست کرنے کی اپنی  سی کوشش میں مصروف ہوگیا۔

loading...