لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ صوبے کریں: وزیراعظم

  • جمعرات 09 / اپریل / 2020
  • 1090

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں لگ رہا ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک ملک کے ہسپتالوں پر بہت دباؤ پڑے گا تاہم ہم سب نے مل کر کورونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ صوبے کریں۔

کوئٹہ کے دورے کے موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ایک ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہے جس کی کوئی مثال نہیں۔ لہٰذا میرا  یہاں آنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک قوم بن کر مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس صورتحال کی وجہ سے 2 چیزوں کی فکر ہے ایک یہ کہ اس سے ہماری صحت کی سہولیات پر دباؤ پڑ رہا ہے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ اپریل کے آخر تک ہسپتالوں پر بہت دباؤ ہوگا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے سب سے ضروری ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ بھارت اور بنگلہ دیش میں کیسز کس طرح کے ہیں کیونکہ ان کی اور ہماری آبادی ملتی جلتی ہے اور اس سب چیزوں کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ کورونا وائرس سے تحفظ کے سامان پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے ڈاکٹرز، نرسز، ہیلتھ ورکرز کے لیے خصوصی حفاظتی کپڑوں پر پورا زور لگایا ہوا ہے جبکہ جو لوگ انتہائی نگہداشت میں کام کریں گے ان کے لیے حفاظتی کٹس پورے کردیے ہیں۔ اللہ کا کرم ہے کہ بلوچستان میں ابھی تک کوئی مریض آئی سی یو میں نہیں گیا۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں وینٹی لیٹرز اور ذاتی تحفظ کی کٹس کی کمی ہے اور طلب بڑھنے کی وجہ سے دنیا میں اس پر دباؤ بڑھا ہوا ہے ہمیں لگ رہا ہے کہ مہینے کے آخر تک ہمارے ہسپتالوں پر بڑا دباؤ پڑے گا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ بلوچستان میں یہ دباؤ کم ہوگا لیکن دیگر صوبوں میں زیادہ ہوگا کیونکہ یہاں صرف کوئٹہ میں آبادی زیادہ ہے اور گنجان آباد ہے ورنہ باقی بلوچستان پھیلا ہوا ہے اور آبادی دور دور ہے۔  اگر خدانخواستہ یہ بیماری پھیلنا شروع ہوئی تو  کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، راولپنڈی وغیرہ میں بہت زیادہ دباؤ پڑے گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے خدشہ ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یومیہ اجرت والے، چھوٹی دکانداروں و دیگر ایسے لوگوں پر بلوچستان میں زیادہ اثر پڑے گا کیونکہ پوری پاکستان میں سب سے زیادہ غربت یہاں ہے۔ 14 اپریل کو تمام صوبوں نے بتانا ہے کہ انہیں لاک ڈاؤن میں کن کن چیزوں میں نرمی کرنی ہے اور یہ صوبوں کا فیصلہ ہوگا کہ وہ کن کن چیزوں کو کھولنا چاہتے ہیں کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے غربت تیزی سے پھیل رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان مکمل تعاون چل رہا ہے کیونکہ جو اس وقت صورتحال ہے اسے کوئی حکومت اکیلے نہیں لڑ سکتی بلکہ ہم سب مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان بلوچستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے تھے۔

دورے کے دوران وفاقی وزرا اسد عمر اور زبیدہ جلال بھی ہمراہ تھے جبکہ انہیں بلوچستان میں کورونا وائرس کی صورتحال اور وائرس کے پھیلنے سے روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔ کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ آج ہم نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام شروع کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو 12 ہزار روپے پہنچا رہے ہیں اور ملک بھر میں 16 ہزار پوائنٹس میں مستحق افراد کو پیسے دیے جارہے ہیں۔

loading...