پنجاب کی جیلوں میں قید 50 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق

  • بدھ 08 / اپریل / 2020
  • 1150

پاکستان کے صوبے پنجاب میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ وبا پنجاب کی جیلوں میں تک بھی پہنچ گئی ہے۔ حکام کے مطابق اب تک مختلف جیلوں میں 50 قیدیوں میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

حکام کے مطابق لاہور کی کیمپ جیل میں 24 مارچ کو کورونا وائرس کے پہلے مریض کی نشاندہی ہوئی تھی۔ بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر مریضوں کے علاج کے لیے لاہور کی کیمپ جیل میں 100 بستروں پر مشتمل اسپتال فعال کر دیا گیا ہے۔ صوبہ پنجاب میں اب تک 2 ہزار سے زائد مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ 15 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ پنجاب میں کل 42 جیلیں ہیں، جن میں قیدیوں کی تعداد لگ بھگ 46 ہزار  ہے۔

محکمہ جیل خانہ جات کے ترجمان عامر خواجہ نے بتایا کہ پنجاب کی تمام جیلوں میں قرنطینہ سینٹرز بنا دیے گئے ہیں اور ہر نئے آنے والے قیدی کو 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے۔ عامر خواجہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے چھ اپریل تک لاہور کی ڈسٹرکٹ جیل میں 334 قیدیوں کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 182 ٹیسٹ نتائج موصول ہو چکے ہیں۔ موصول شدہ نتائج میں 50 ٹیسٹ مثبت اور 132 منفی آئے ہیں جب کہ بقیہ 152 کے نتائج کا انتظار ہے۔

محکمہ جیل خانہ جات کے ترجمان نے مزید بتایا کہ پنجاب کی تمام جیلوں میں جراثیم کش اسپرے کیا جا رہا ہے۔ جیلوں میں تعینات پولیس اہلکاروں کو فیس ماسک اور دیگر ضروری اشیا مہیا کردی گئی ہیں۔ قیدیوں کے لئے ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی لانے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسروں کی ٹیمیں جیلوں کے دورے کرتی ہیں۔

اقوام امتحدہ کی طرف سے قیدیوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق خبردار کیے جانے کے بعد اسلام آباد، لاہور اور سندھ ہائی کورٹ نے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان فیصلوں پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ اور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں 55 سال سے زائد عمر کے قیدیوں کی مشروط رہائی کا حکم دیا تھا۔ جس کا اطلاق ماضی میں کریمنل ریکارڈ نہ رکھنے والے مجرمان پر بھی ہو گا۔ عدالت نے معمولی جرائم میں قید خواتین اور بچوں کو بھی رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ پاکستان میں قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم جسٹس پروجیکٹ آف پاکستان (جے پی پی) کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی ہیں۔

پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھے جانے کی وجہ سے قیدیوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ جے پی پی کے مطابق پاکستان بھر میں موجود 114 جیلوں میں لگ بھگ 57 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ ان جیلوں میں 77 ہزار سے زائد قیدی رکھے گئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں لگ بھگ 25 ہزار ایسے قیدی ہیں۔ جو سزا یافتہ ہیں۔ 48 ہزار ملزمان ایسے ہیں جن کے مقدمات مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

جے پی پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں 1500 قیدیوں کی عمریں 60 سال سے زیادہ ہیں۔ اِن عمر رسیدہ قیدیوں میں سب سے 807 قیدی پنجاب کی جیلوں میں ہیں۔ جے پی پی کی ایگزیکیٹو ڈائریکٹر سارہ بلال کا کہنا ہے کہ اگر جیلوں میں یہ وبا پھوٹ پڑی تو اسے کنٹرول کرنا بہت مشکل ہو گا۔ اُن کے بقول جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی تعداد کم اور نئے قیدیوں کے حوالے سے حکمت عملی طے کرنا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ضروری ہے۔

دنیا کے جن ممالک میں گنجائش سے زیادہ قیدی جیلوں میں رکھے گئے ہیں، وہ ممالک قیدیوں کو رہا کر رہے ہیں۔  سابق وزیر داخلہ اور ریٹائرڈ آئی جی پنجاب شوکت جاوید کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں قیدی کورونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے شوکت جاوید نے بتایا کہ اس وقت جیلوں میں قیدیوں کی تعداد کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کے بقول معمولی جرائم اور جرمانوں کے باعث قید مجرموں کو فوری رہا کر دینا چاہیے۔

وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے دنیا کے کئی ممالک میں قیدیوں کو جیلوں سے رہا کیا جا رہا ہے۔ ایران نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 85 ہزار قیدی رہا کر دیے ہیں جبکہ ترکی نے 10 ہزار قیدی رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ افغانستان نے 10 ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جن میں خواتین، بیمار اور 55 سال سے زائد عمر کے قیدی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ چار ہزار، انڈونیشیا 34 ہزار اور سری لنکا 29 ہزار قیدیوں کو رہا کر رہا ہے۔

loading...