کورونا سے ہلاکتیں 76 سے بڑھ گئیں، پاکستان میں 4 ہزار متاثرین

  • منگل 07 / اپریل / 2020
  • 1670

دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس وقت امریکہ میں اس وائرس کا پھیلاؤ شدت اختیار کئے ہوئے ہے۔ جبکہ پاکستان میں کووڈ۔19 کے متاثرین کی تعداد 4000 سے بڑھ گئی ہے جبکہ 55 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

نیویارک میں آئندہ تین ہفتوں کے لیے تمام اسکولز اور غیر ضروری کاروبار بند رکھنے کا حکمدیا گیا ہے۔  امریکہ میں کرونا وائرس کے تقریباً 19 لاکھ ٹیسٹ ہوئے ہیں۔ مریضوں کی تعداد ساڑھے 3 لاکھ اور ہلاکتوں کی تعداد دس ہزار سے بڑھ گئی ہے۔  پاکستان میں 4ہزار سے زائد افراد متاثر جبکہ 55 جاں بحق ہوئے ہیں۔ پنجاب میں اس وقت سب سے زیادہ مریض ہیں۔ یکم اپریل سے ملک میں کورونا کیسز کی تعداد میں بہت زیادہ تیزی دیکھی گئی ہے۔ کیسز میں مارچ کے مقابلے میں دوگنا تیزی سے اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ گزشتہ روز بھی ملک میں نئے کیسز اور اموات کا سلسلہ جاری رہا اور ایک روز میں ریکارڈ 610 کیسز سامنے۔

کورونا وائرس میں مبتلا برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو طبیعت بگڑنے پر آئی سی یو منتقل کردیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 13 لاکھ اور اموات کی تعداد 74 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ آسٹریلیا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی کے آثار سامنے آئے ہیں۔

امریکہ میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور اب تک اس وبا سے 10 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ ریاست نیویارک میں اسکولوں کی بندش میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔ امریکہ دنیا کا تیسرا ملک ہے جہاں کورونا وائرس سے اب تک مرنے والوں کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہوئی ہے۔

کورونا وائرس سے اموات کی شرح پر نظر رکھنے والے ادارے جان ہوپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اٹلی میں سب سے زیادہ 16 ہزار 523، اسپین میں 13 ہزار 341 اور امریکہ میں اب تک 10 ہزار 986 افراد اس وائرس کا شکار ہونے کے بعد چل بسے ہیں۔ امریکی حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں کے اعتبار سے یہ سنگین ہفتہ ہے جو اب تک اپنے عروج کو نہیں پہنچا ہے۔ اس لیے شہری غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے سے گریز کریں۔

امریکہ میں اب تک 19 لاکھ افراد کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں جن میں سے ساڑھے تین لاکھ میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔​ نیویارک کے گورنر نے اینڈریو کومو نے پیر کو ریاست کے تمام اسکول اور غیر ضروری کاروبار مزید تین ہفتوں کے لیے بند رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔  یاد رہے کہ نیویارک کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 30 ہزار سے زیادہ اور 4750 اموات ہو چکی ہیں۔

نیویارک کے گورنر نے اعتراف کیا کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عائد پابندیوں میں نرمی کرنا بڑی غلطی تھی۔ تاہم اب سماجی دوری پر عمل پیرا ہونے سے شرح اموات کا گراف بدستور نیچے آ رہا ہے۔ گورنر اینڈریو نے کہا کہ نیویارک میں اموات کی شرح میں معمولی کمی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ سماجی دوری پر عمل درآمد ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سماجی دوری کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کارآمد ہے اس لیے اب سستی دکھانے کا وقت نہیں ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلتھ اور ہیومن سروسز کی قائم مقام انسپکٹر جنرل کی اس رپورٹ سے شدید اختلاف کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی اسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے عملے کے لیے حفاظتی ساز و سامان اور کورونا وائرس کی ٹیسٹ کٹس کی قلت ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ غلط ہے۔ امریکہ میں دنیا بھر سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے۔

انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ایک چارٹ دکھایا جس میں بتایا گیا کہ امریکہ میں کورونا وائرس کے 17 لاکھ 90 ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس تعداد میں ہر روز ایک لاکھ 25 ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے قائم مقام انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے دیگر حصوں کے بارے میں سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔

امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران رپورٹرز سے کہا کہ وہ رپورٹ مرتب کرنے والے شخص کا نام بتائیں۔ یہ بتائیں کہ اسے کب تعینات کیا گیا تھا۔ بریفنگ کے بعد جب ایک رپورٹر نے کہا کہ قائم مقام انسپکٹر جنرل کا نام کرسٹی گریم ہے۔ تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے  رپورٹر سے پوچھا کہ کرسٹی گریم کب سے حکومت میں کام کر رہی ہیں۔ تو رپورٹر کا کہنا تھا کہ وہ سابقہ حکومتوں کے دوران بھی سرکاری عہدے پر کام کرتی رہی ہیں۔ اس پر صدر ٹرمپ نے پوچھا کہ کیا آپ کا مطلب اوباما انتظامیہ سے ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ بتانے کے لیے آپ کا شکریہ۔ خیال رہے کہ کرسٹی گریم کا تقرر 1999 میں کیا گیا تھا جب کہ وہ ڈیموکریٹک اور رپبلکن دنوں حکومتوں کے دوران خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔

دوسری طرف جنوبی کوریا میں طبی ماہرین کے مطابق صورت حال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ حکام کے مطابق منگل کے روز صرف 47 نئے کیسز کی تصدیق کی گئی ہے۔ جنوبی کوریا کے حکام نے خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ صورت حال ایک مرتبہ پھر بگڑ سکتی ہے۔ حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ واضح رہے کہ جنوبی کوریا میں اب تک 10ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ حکام نے وائرس سے 192 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

جاپان نے ملک کے متعدد علاقوں میں کورونا وائرس سے متعلق ہنگامی صورت حال نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے کے بقول کورونا وائرس سے عام لوگوں کی زندگی اور معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔  ہنگامی حالت ایک ماہ کے لیے نافذ کی گئی ہے۔ اس کے تحت شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے امدادی پیکج کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

loading...