کورونا وائرس کی دوسری ویکسین کی انسانوں پر آزمائش

  • منگل 07 / اپریل / 2020
  • 1720

دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اس وقت تقریبا دنیا کی 35 سے زیادہ کمپنیاں ویکسین بنانے میں مصروف ہیں جن میں سے اب ایک نئی امریکی کمپنی نے ویکسین کی انسانوں پر آزمائش شروع  کی ہے۔

اس سے قبل بھی امریکا کی ایک کمپنی کی ویکسین کی انسانوں پر آزمائش شروع کی گئی تھی۔ نئی ویکسین سے قبل گزشتہ ماہ 16 مارچ سے میساچوسٹس سے تعلق رکھنے والی کمپنی موڈرینا کی جانب سے محض 2 ماہ میں تیار کردہ ویکسین کی انسانوں پر آزمائش شروع کی گئی تھی۔ اسی ویکسین کو ریاست واشنگٹن کے 45 افراد میں آزمانے کا پروگرام جاری ہے، جن افراد پر مذکورہ ویکسین آزمائی جا رہی ہے ان کی عمریں 18 سے 55 سال کے درمیان ہیں اور وہ سب صحت مند ہیں۔

ویکسین کے ٹرائل کے حوالے سے امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹس آف ہیلتھ انفیکشز ڈیزیز کا کہنا تھا کہ کلینیکل ٹرائل کا دورانیہ کم از کم ایک سال سے 18 ماہ تک ہوسکتا ہے جس کے دوران اس کے محفوظ اور موثر ہونے کا تعین کیا جائے گا۔ اب امریکا میں ایک اور ویکسین کی بھی انسانوں پر آزمائش شروع کردی گئی ہے۔

ٹیکنالوجی ادارے کے مطابق بل اینڈ ملنڈا گیٹس کے تعاون سے امریکی کمپنی انوویو کی جانب سے تیار کردہ ویکسین کی 6 اپریل سے انسانوں پر آزمائش شروع کردی گئی۔ انوویو کی جانب سے تیار کردہ ویکسین کی پہلے ہی جانوروں پر کامیاب آزمائش کی جاچکی ہے اور ویکسین کو جانوروں پر استعمال کرنے کی اجازت بھی حاصل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ انوویو کی جانب سے تیار کردہ ویکسین کو (انو 4800) ڈی این اے ویکسین کا نام دیا گیا ہے جو کہ انسان کے مدافعتی نظام کو تقویت فراہم کرکے انسانی جسم میں اینٹی باڈیز کی پیداوار کو بڑھاتی ہے۔ ویکسین کو امریکا کی 2 مختلف جگہوں پر 40 رضاکاروں پر آزمایا جائے گا۔ ابتدائی طور پر رضاکاروں کو ہر 4 ہفتے ڈوز دی جائے گی اور پھر رضاکاروں کا جائزہ لے کر ویکسین کے دوسرے مرحلے کو شروع کیا جائے گا۔

کمپنی کے مطابق یہ ویکسین کمپنی کی ایسی ہی ویکسین انو 4700 سے تیار کی گئی ہے جسے پہلے ہی کورونا وائرس کی پرانی قسم کے حوالے سے جانوروں کا علاج کرنے کے لیے منظوری حاصل ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ کورونا وائرس کے لیے تیار کی گئی نئی ویکسین کے لیے کمپنی کو بل اینڈ ملنڈا گیٹس سمیت دیگر عالمی فلاحی اداروں نے فنڈز مہیا کیے ہیں اور اگر ویکسین کامیاب گئی تو کمپنی مختصر مدت میں 10 لاکھ ویکسین تیار کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

کورونا وائرس کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت دنیا بھر میں مختلف دوائیوں اور طریقوں سے کورونا کے مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ تاہم ویکسین کے بعد اس مرض بہتر انداز میں مناسب علاج ہونا شروع ہوگا۔

loading...