کرونا وائرس: سازشی تھیوری اور بنیادی سائنسی معلومات

ٹورونٹو سے عزیز دوست پرویز صلاح الدین آج فون پر کہنے لگے کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں کرونا وبا کے بارے میں کئی لوگوں سے بات چیت کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کرونا وائرس اور اس وبا کے بارے ابھی تک عام لوگوں میں بہت سی غلط فہمیاں ہیں۔

کچھ لوگ خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ کچھ اس وباء کو عالمی طاقتوں کی اقتصادی جنگ کا حصہ سمجھتے ہیں اور کئی دوست ایسے بھی ہیں جن کے ذہنوں میں سازشی تھیوری کے بہت سے خیالات کلبلا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کرونا وائرس اور اس کی پیدا کردہ بیماری اور علاج کے بارے میں جو تجربات ہیں، ان کے جوابات کو سادہ سے سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے۔

سوال: کرونا کی بات بعد میں مگر وائرس کیا ہے؟ کیا یہ بیکٹیریا کی ہی کوئی قسم ہے؟

جواب: وائرس اور بیکٹیریا ایک دوسرے سے بالکل مختلف چیز ہیں۔ بیکٹیریا ایک زندہ چیز ہے اور ان میں سے کچھ بیماری پیدا کر سکتے ہیں۔ زندہ چیز وہ ہے جو مناسب ماحول میں خود سے زندہ رہ سکے اور اپنی نسل کو آگے بڑھا سکے۔ ہر بیکٹریا میں یہ خصوصیت موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں وائرس زندہ اور بے جان کی درمیانی شکل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تمام کی تمام زندگی بے جان مادے سے بنی ہے یعنی کاربن، آکسیجن، نائٹروجن، سوڈیم، پوٹاشیم، کلورائیڈ وغیرہ وغیرہ، یہ سب بے جان مادے ہیں۔ ان سارے اجزاء نے اور دیگر بہت سے بے جان اجزاء نے مختلف طریقوں سے اور مختلف تراکیب سے اکٹھے ہو کروڑ ہا سالوں پر محیط ایک ارتقائی سفر طے کیا ہے، جسے ہم موجودہ زندگی کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔

زیادہ تفصیل کی یہاں ضرورت نہِیں مگر جیسا پہلے کہا گیا ہے، وائرس بے جان کیونکہ یہ خود سے اپنی نسل آگے نہیں چلا سکتا۔ تا ہم یہ کسی جاندار سیل کے اندر داخل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے غذا ہے، گلوکوز ہے، آکسیجن ہے جو سیل کے اندر داخل ہوتیں ہیں۔ اس نوع کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں جن میں بے جان مادے زندہ سیل کے اندر پہنچ سکتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بے جان مادہ یا وائرس اسی طرح جاندار سیل کے اندر پہنچ جاتا ہے۔

اس کے بعد وائرس اس سیل کے ڈی این اے کو یرغمال بنا لیتا ہے اور اسے حکم دیتا ہے کہ صرف میرا جنیٹک میٹیریل پیدا کرتے رہو۔ اس طرح سے وائرس کی نسل آگے چلتی ہے اور اس مقام پر وائرس کو ایک زندہ چیز سمجھا جا سکتا ہے۔ اس سارے قصے میں انسان کا سیل اپنے زندہ رہنے کے لئے کوئی کام کر نہیں پاتا اور مرنے لگتا ہے مگر اس عرصے میں وائرس کی ایک نئی پود تیار ہو چکی ہوتی ہے جو ہمسایہ سیلوں کے اندر چلی جائے گی اور یوں یہ چکر چلتا رہتا ہے۔

سوال: مگر ”کرونا وائرس“ کیا ہے؟

جواب: وائرس کی بہت سی اقسام ہیں۔ اس میں سے ایک قسم کا نام کرونا ہے۔ جب اس وائرس کو الیکٹرون خوردبین کے نیچے دیکھیں تو اس کی شکل بادشاہوں کے تاج کی سی ہے۔ لاطینی زبان میں تاج کے لئے لفظ کرونا ہے۔ اسی مناسبت سے اس وائرس کا نام ”کرونا“ ہے یعنی ایک تاج کی شکل جیسا۔ بیماریاں پیدا کرنے کی صلاحیت اعتبار سے کرونا وائرس بے شک مختلف بیماریاں پیدا کرتے ہیں مگر ان کی ساری فیملی کی شکل خودبین کے نیچے ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہے اور کرونا کہلاتی ہے۔

سوال: کووڈ 19۔ COVID 19 کیا یہ کسی خاص کوڈ کا نام ہے۔

جواب: نہیں۔ کووڈ 19 کی صوتی مشابہت بے شک کسی خفیہ کوڈ جیسی ہے لیکن یہ نام دراصل اس بیماری کا ہے جو یہ وائرس پیدا کرتا ہے۔ یہ نام کیسے بنا؟

CO“ fromCorona.”VI“fromVirus.”D“ from diseaseand”19“from 2019

ان سب کو ملائیں تو نام COVID بنے گا جس کی دریافت سن 2019 میں ہوئی تھی۔ اب اس وائرس کے نام سے کسی سازش کا پتہ چلانا تو ممکن نہیں مگر یہ جاننا ضروری ہے کہ اس بیماری کو یہ نام ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ماہرین نے دیا ہے۔

سوال: چلیں سازشی تھیوری کو ایک لمحے کے لئے چھوڑ دیں۔ کرونا وائرس انسان کے جسم میں داخل ہو کر کیا کرتا ہے اور کیا انسانی جسم اس کے خلاف مزاحمت نہیں کر تا؟

جواب: حفاظتی اعتبار سے پہلی اہم بات یہ ہے کہ اگر وائرس جسم کے کسی بھی حصے کو چھو جائے تو بیماری کی علامات پیدا کرنے میں پانچ سے چودہ دن لیتا ہے اس دوران انسان انجانے میں یا کسی بے احتیاطیی سے دوسرے لوگوں تک بھی یہ وائرس پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے، ان لوگوں تک جن تک یہ پہلے نہیں پہنچا تھا۔ اس سلسلے میں دوسرے انسانوں سے فاصلہ رکھنے، ہاتھوں کو صابن اور پانی کے ساتھ دھونے کی ہدایات سبھی ملکوں میں ایک سی ہیں۔ اس وقت تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چہرے پر سرجیکل ماسک چڑھایا جانا چاہیے تا کہ اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

کرونا جسم کو چھونے بعد جسم کے اندر داخل ہو جاتا ہے یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہے کہ ”سیل“ کے اندر داخل ہو جاتا ہے جس کے بارے میں ابھی ہوئی ہے۔ یہ وائرس اگر نظام ہضم کے سیل کے اندر داخل ہو تو مرض کی علامات میں مروڑ اور پیچش وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ سانس کی نالی اور پھیپھڑوں کے خلیوں کے اندر اس کے خطرناک ہونے کی وجہ دوسری ہے کیونکہ سانس کی تکلیف ہونے لگتی ہے۔ خشک کھانسی اور بخار ہو جانے کا مطلب ہے کہ انسانی جسم نے یہ بھانپ لیا ہے کہ وائرس کا حملہ ہو چکا ہے۔

اگر سانس کی خرابی بڑھتی چلی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ سانس کی نالیوں کی سوزش مزید بگڑ رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی پھیپھڑوں کے اندر بھی سوزش ہو نے لگی ہے۔ بیماری کی اس سٹیج کو عرف عام میں نیومونیا کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر سانس کو مزید خراب ہونے سے روکں ے، جسم کو آکسیجن مہیا کیے رکھنے اور جسم کے اندر اپنی اندرونی مزاحمت پیدا ہونے تک سانس میں مدد کے لئے جس مشین کا استعمال کیاجاتا ہے، اسے ”وینٹی لیٹر“ کہتے ہیں۔

یہ مشین کوئی جادوئی کرامت دکھانے کے قابل تو نہیں تاہم کچھ دنوں کے لئے یا ہفتوں تک سانس لینے میں مددگار ہو سکتی ہے لیکن یاد رہے کہ مشین کی مدد سے سانس لینے کی اپنی میڈیکل پچیدگیاں ہیں جن سے نمٹنے کے لئے میڈیکل کے دوسرے شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں کا ٹیم میں شامل کیا جانا ضروری ہو جاتا ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت تک بیماری بہت زیادہ پچیدہ ہو چکی ہوتی ہے۔

سوال: لیکن اس وائرس کے خلاف مزاحمت کی بات ابھی تک مکمل نہیں ہوئی۔

جواب: وائرس یا بیکٹریا کے خلاف مزاحمت کرنے والے جسم کے مادوں کو ”اینٹی باڈی“ کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے مادے ہوتے ہیں۔ اصلی بات یہ ہے کہ جسمانی مدافعتی اور مزاحمتی مادے وائرس کو اس کے بیرونی خول سے پہچان کر اسے تباہ کرتے ہیں۔

بنی نوع انسان کا مدافعتی نظام اب سے پہلے کبھی اس وائرس کو جانتا تک نہیں تھا، اس وجہ سے انسانوں میں اس کے خلاف مدافعت بھی نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ بہت تیزی سے پھیل کر پوری دنیا میں وباء کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ عالمی وباء بننے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ یہ وائرس نہایت آسانی کے ساتھ ایک انسان سے یا اردگرد کی مادی چیزوں کو چھونے سے دوسرے انسانوں تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ انسان کا اس وائرس کو پہچاننا اور پھر اپنے اندر تبدیلی لے کر آنا تا کہ وائرس کے خلاف اپنے جسم میں مدافعتی مادے پیدا کر سکے، ایک ارتقائی عمل ہے۔

ہمارا تجربہ یہ بھی ہے کہ وائرس بھی اپنے اندر تبدیلی پیدا کرتا ہے جس سے انسانی جسم اسے آسانی سے پہچان نہیں پاتا اور اس وجہ سے بیماری کی شکل بدل جاتی ہے۔ یہ دونوں مشاہدات حیاتیاتی ارتقاء کی دلیل ہیں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ڈارون والا ارتقاء کا نظریہ اگر حقیقت ہے تو اس زمانے میں ارتقا نظر کیوں نہیں آتا یا وہ دوست جو ڈارون والے ارتقائی نظریے کو سرے سے نہیں مانتے، انہیں اس کرونا وائرس، ایڈز وائرس یا ملیریا کے جراثیم پر غور کرنا چاہیے، انہیں حیاتیاتی ارتقاء کی دلیلیں بہت آسانی سے میسر آ جائیں گی۔

سوال: کیا کرونا وائرس کا ارتقاء چین یا امریکہ کی ایک دوسرے کے خلاف اقتصادی جنگ کا بائی پراڈکٹ ہے؟ کہتے ہیں یہ وائرس چین نے پیدا کیا ہے؟

جواب: اقتصادی جنگ کی بات ہم کسی اور دن کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔ وائرس کے موجودہ ارتقائی عمل کو اقتصادیات کے ساتھ جوڑنے کے واسطے بنیادی ثبوت کی ضرورت ہے جو ابھی تک کسی نے مہیا نہیں کیا۔ سازشی تھیوری میں لفظ ”تھیوری“ یہاں مجبوری سے استعمال کر رہا ہوں۔ کسی خیال کے تھیوری بننے کی راہ میں پہاڑ پر چڑھنے جیسا کام اور ثبوت چاہیے ہوتا ہے جو اس وقت تک ناپید ہے۔

ان وائرس کی جانب واپس آتے ہیں۔ موجودہ کرونا وائرس فیملی پہلے سے چین میں بعض جانوروں میں موجود تھی، بغیر کوئی بیماری پیدا کیے۔ چین میں ایسے بعض جانور ہیں جن کو پر تکلف کھانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان میں کرونا فیملی کے وائرس کی نارمل رہائش تھی۔ ایک مفروضہ ہے کہ ایسی ہی کسی ضیافت میں کرونا وائرس انسان تک پہنچا اور معمولی سی جنیٹک تبدیلی کے نتیجے میں انسانوں میں وبائی ہلاکت کا سبب بن گیا۔ یوں کہیے کہ اسی ارتقاء کے نتیجے میں جس کی ہم نے ابھی بات کی ہے۔

جہاں تک اقتصادی جنگ اور وائرس کو ہتھیار کی طرح استعمال کرنے کی بات ہے، یہ ایک سازشی تھیوری کی بات ہے جو مجھے یقین ہے کہ بہت عرصے تک چلتی رہے گی۔ سسپنس مووی کو پسند کرنے والوں اور سازشی تھیوری کو پسند کرنے والوں کی شخصی نفسیات کے محرکات ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ سو ہماری گفتگو بھی گھروں میں اور ملاقاتوں میں چلتی رہے گی۔ مجھے یقین ہے کہ انٹر نیٹ پر بھی یہ گفتگو بمقدار وافر ملے گی۔

سوال: کرونا کے علاج میں کلونجی، زیتون کا تیل اور شہد کی اہمیت کیا ہے؟

جواب: شہد کا ذکر قرآن میں ہے، زیتون کا بھی ہے۔ مگر زیتون کے تیل کا اور کلونجی کا ذکر قرآن میں کہیں نہیں۔ کلونجی کا ذکر حدیث کی ایک کتاب میں ہے، جسے نسبتاً کمزور کتاب سمجھا جا تا ہے۔ تاہم میں کسی بھی آیت مبارکہ سے یا حدیث سے ناواقف ہوں، جس میں ان چیزوں کو کرونا کا علاج بتلایا گیا ہو۔ میرا خیال ہے کہ قرآن روحانی معاملات سے متعلق ہے، اسے میڈیکل ٹکنالوجی کی کتاب سمجھنا تھوڑی زیادتی کی بات ہے۔

سوال: کرونا کے علاج میں جسم کے اپنے مدافعتی اور مزاحمتی مادوں کی اوپر جو بات ہوئی تھی میڈیکل علم اس وقت کہاں کھڑا ہے اور کیا کوئی ویکسین جلد عام آدمی تک پہنچ سکتا ہے؟

جواب: ابھی کل ہی ایک ریسرچ شائع ہوئی ہے جس میں نوٹ کیا گیا ہے کہ جن ملکوں میں بچپن سے ٹی بی بیماری سے بچاو، کا ویکسین ”بی سی جی“ لگایا جاتا رہا ہے ان میں کرونا 19 وائرس سے شرح اموات توقع سے کم ہے۔ جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ لیکن وہ ممالک جن میں بی سی جی کو صحت عامہ کے لئے ماضی میں ضروری سمجھا نہیں گیا ان میں شرح اموات زیادہ ہے، مثال کے طور پر اٹلی، امریکہ، ایران اور لبنان۔ ایران میں بی سی جی لگانا 1984 میں شروع ہوا تھا۔

اس لئے ہو سکتا ہے کہ ایران کی 84 کے بعد کی آبادی میں شرح اموات کم ہو مگر ابھی تک اس سوال کا جواب دینے کے لئے کوئی ریسرچ سامنے نہیں آئی۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں بھی سماجی اور میڈیکل کا سسٹم کمزور ہونے کے باوجود شرح اموات کم ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کرونا 19 کے خلاف دفاعی طاقت اور بی سی جی کا آپس میں کوئی تعلق ہو۔ ان باتوں کو واضح کرنے کے لئے مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔ اس پہلی ریسرچ کے نتائج اگر مزید تحقیق سے نکھر کر سامنے آ جاتے ہیں تو یہ بہت خوش آئند بات ہو گی۔

اسی طرح ملیریا کی دوا کلوروکئین پر تحقیق جاری ہے۔ اور وہ مریض جو اس موذی مرض سے صحت یاب ہو ئے ہیں ان کے جسم میں سے مزاحمتی مادے کشید کر کے نئے مریضوں کو علاج کے طور پر دینے کے تجربات بھی جاری ہوئے ہیں۔ امید ہے کہ اس تحقیق کے نتائج بہت عرصے تک شائع ہوتے رہیں گے اور ان پر ماہرین کے مابین مباحثات چلتے رہیں گے۔ پرانے مقولے کے مصداق یہ کہنا ضروری ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ اور اسی مقولے کے مصداق، آخری بات کے طور پر اس وقت حفاطتی تدابیر ہی سب سے بہتر تدارک ہیں۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...